Al-AnfalJuz 10 · Page 184

Al-Anfal 8:60

The Spoils of War · Juz 10 · Page 184

وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ ٦٠

And prepare against them whatever you are able of power and of steeds of war1 by which you may terrify the enemy of Allāh and your enemy and others besides them whom you do not know [but] whom Allāh knows. And whatever you spend in the cause of Allāh will be fully repaid to you, and you will not be wronged.

1 translator’s note
  1. Or equipment which serves the same purpose. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 8:60

اور تیاری کرو ان (کافروں) کے لیے ، جتنی استطاعت رکھو تم، قوت کی اور (تیار) بندھے ہوئے گھوڑے (فراہم کرنے) کی، خوف زدہ کردو گے تم اس کے ذریعے سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور دوسروں کو ان کے علاوہ، نہیں جانتے تم ان کو، اللہ ہی جانتا ہے ان کواور جو بھی خرچ کرو گے تم کوئی چیز اللہ کی راہ میں، پورا دیا جائے گا تمھیں (اس کا اجر) اور تم نہیں ظلم کیے جاؤ گے (60)

[60] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا: ﴿وَاَعِدُّوۡا ﴾ ’’اور تیار کرو تم‘‘یعنی اپنے کفار دشمنوں کے لیے تیار کرو جو تمھیں ہلاک کرنے اور تمھارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں ۔ ﴿ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾ ’’اپنی طاقت بھر قوت۔‘‘ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مختلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کرے۔ کفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں ، مثلاً: توپیں ، مشین گنیں ، بندوقیں ، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں ، دفاعی قلعہ بندیاں ، مورچے اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا، جس کے ذریعے سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دشمن کے شر سے اپنا دفاع کر سکیں ۔ نشانہ بازی، شجاعت اور جنگی منصوبہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے فرمایا:(اَلاَ اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) ’’سن لو، قوت سے مراد تیر اندازی ہے‘‘(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمي… الخ، حدیث: 1917) کیونکہ عہد رسالت میں تیراندازی، جنگ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ نیز ان گاڑیوں کی تیاری، جو جنگ میں ونقل و حرکت میں کام آتی ہیں ، جنگی استعداد میں شمار ہوتی ہیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر، کہ اس سے دھاک بٹھاؤ تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر‘‘ اس حکم کی علت، اس زمانے میں بھی موجود ہے اور وہ ہے دشمنوں کو مرعوب رکھنا۔ حکم کا دارومدار علت پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں ایسے آلات اور سامان حرب موجود ہوں جن کے ذریعے سے دشمن کو مذکورہ چیزوں سے زیادہ خوف زدہ رکھا جا سکتا ہو...، یعنی گاڑیاں اور ہوائی طیارے جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جن کی ضرب بھی کاری ہے.... تو ان کو حاصل کر کے ان کے ذریعے سے جنگی استعداد بڑھانا فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس سامان حرب کو صنعت کی تعلیم حاصل کیے بغیر، حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تعلیم حاصل کرنا بھی فرض ہو گا کیونکہ فقہی قاعدہ ہے (مَالَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبٌ) ’’جس کے بغیر واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو تو وہ بھی واجب ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾ میں ’’تمھارے دشمن‘‘ سے مراد وہ ہیں جن کے بارے میں تم جانتے ہو کہ وہ تمھارے دشمن ہیں ۔ ﴿ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور دوسروں پر ان کے سوا، جن کو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی جن کے بارے میں تمھیں معلوم نہیں جو اس وقت کے بعد، جب اللہ تم سے مخاطب ہے، تمھارے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان کو جانتا ہے‘‘ پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔دشمن کے خلاف جنگ میں جو چیز سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ ہے کفار کے خلاف جہاد میں مال خرچ کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَيۡءٍ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں ‘‘ خواہ یہ قلیل ہو یا کثیر ﴿ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’وہ پورا پورا تمھیں دیا جائے گا‘‘ یعنی قیامت کے روز اس کا اجر کئی گنا کر کے ادا کیا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کا ثواب سات سو گنا سے لے کر اس سے بھی زیادہ بڑھا کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھاری حق تلفی نہ ہوگی‘‘ یعنی تمھارے لیے اس کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 184

Al-AnfalJuz 10 · Page 184

8:53

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرٗا نِّعۡمَةً أَنۡعَمَهَا عَلَىٰ قَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٥٣

That is because Allāh would not change a favor which He had bestowed upon a people until they change what is within themselves. And indeed, Allāh is Hearing and Knowing.

8:54

كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَغۡرَقۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَۚ وَكُلّٞ كَانُواْ ظَٰلِمِينَ ٥٤

[Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and of those before them. They denied the signs of their Lord, so We destroyed them for their sins, and We drowned the people of Pharaoh. And all [of them] were wrongdoers.

8:55

إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٥٥

Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allāh are those who have disbelieved, and they will not [ever] believe-

8:56

ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنۡهُمۡ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهۡدَهُمۡ فِي كُلِّ مَرَّةٖ وَهُمۡ لَا يَتَّقُونَ ٥٦

The ones with whom you made a treaty but then they break their pledge every time, and they do not fear Allāh.

8:57

فَإِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِهِم مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ ٥٧

So if you, [O Muḥammad], gain dominance over them in war, disperse by [means of] them those behind them that perhaps they will be reminded.1

1 translator’s note
  1. i.e., kill them and make an example of them to discourage those who follow them. ↩

8:58

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوۡمٍ خِيَانَةٗ فَٱنۢبِذۡ إِلَيۡهِمۡ عَلَىٰ سَوَآءٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡخَآئِنِينَ ٥٨

If you [have reason to] fear from a people betrayal, throw [their treaty] back to them, [putting you] on equal terms.1 Indeed, Allāh does not like traitors.

1 translator’s note
  1. When you see signs of treachery from those with whom you have made a treaty, announce to them its dissolution so they will know exactly where they stand. ↩

8:59

وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَبَقُوٓاْۚ إِنَّهُمۡ لَا يُعۡجِزُونَ ٥٩

And let not those who disbelieve think they will escape. Indeed, they will not cause failure [to Allāh].

8:60

وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ ٦٠

And prepare against them whatever you are able of power and of steeds of war1 by which you may terrify the enemy of Allāh and your enemy and others besides them whom you do not know [but] whom Allāh knows. And whatever you spend in the cause of Allāh will be fully repaid to you, and you will not be wronged.

1 translator’s note
  1. Or equipment which serves the same purpose. ↩

8:61

۞ وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلۡمِ فَٱجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٦١

And if they incline to peace, then incline to it [also] and rely upon Allāh. Indeed, it is He who is the Hearing, the Knowing.

As-Sa'diTafsir · 8:60

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском