At-Takwir 81:21
The Overthrowing · Juz 30 · Page 586
مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ ٢١
Obeyed there [in the heavens] and trustworthy.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 81:15–29
پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29)
[15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔
[17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔
[19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔
[20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔
[21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔
[23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔
[24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔
[25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔
[26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟
[27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔
[28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔
[29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
Page 586
سورة التكوير
At-Takwir
The Overthrowing · Meccan · 29 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
81:1
إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ ١
When the sun is wrapped up [in darkness]
81:2
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ ٢
And when the stars fall, dispersing,
81:3
وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ ٣
And when the mountains are removed
81:4
وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ ٤
And when full-term she-camels1 are neglected
1 translator’s note
- Those ten months pregnant and nearing delivery. This verse alludes to distraction from the most valued of possessions. ↩
81:5
وَإِذَا ٱلۡوُحُوشُ حُشِرَتۡ ٥
And when the wild beasts are gathered
81:6
وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ٦
And when the seas are filled with flame1
1 translator’s note
- Or "when the seas have overflowed [into each other]." ↩
81:7
وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ ٧
And when the souls are paired1
1 translator’s note
- With another like soul. It can also mean "joined" (with their groups or sects) . ↩
81:8
وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ ٨
And when the girl [who was] buried alive is asked
81:9
بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ ٩
For what sin she was killed
81:10
وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتۡ ١٠
And when the pages1 are spread [i.e., made public]
1 translator’s note
- On which are recorded the deeds of all people. ↩
81:11
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتۡ ١١
And when the sky is stripped away
81:12
وَإِذَا ٱلۡجَحِيمُ سُعِّرَتۡ ١٢
And when Hellfire is set ablaze
81:13
وَإِذَا ٱلۡجَنَّةُ أُزۡلِفَتۡ ١٣
And when Paradise is brought near,
81:14
عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّآ أَحۡضَرَتۡ ١٤
A soul will [then] know what it has brought [with it].1
1 translator’s note
- i.e., all of one's deeds from worldly life, which have accompanied the soul to the Hereafter. ↩
81:15
فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلۡخُنَّسِ ١٥
So I swear by the retreating stars -
81:16
ٱلۡجَوَارِ ٱلۡكُنَّسِ ١٦
Those that run [their courses] and disappear [i.e., set]
81:17
وَٱلَّيۡلِ إِذَا عَسۡعَسَ ١٧
And by the night as it closes in1
1 translator’s note
- An alternative meaning is "as it departs." ↩
81:18
وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ ١٨
And by the dawn when it breathes [i.e., stirs]
81:19
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ ١٩
[That] indeed, it [i.e., the Qur’ān] is a word [conveyed by] a noble messenger [i.e., Gabriel]
81:20
ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي ٱلۡعَرۡشِ مَكِينٖ ٢٠
[Who is] possessed of power and with the Owner of the Throne, secure [in position],
81:21
مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ ٢١
Obeyed there [in the heavens] and trustworthy.
81:22
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجۡنُونٖ ٢٢
And your companion [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ) ] is not [at all] mad.1
1 translator’s note
- Literally, "possessed by jinn." ↩
81:23
وَلَقَدۡ رَءَاهُ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡمُبِينِ ٢٣
And he has already seen him [i.e., Gabriel] in the clear horizon.1
1 translator’s note
- i.e., the eastern horizon, where the sun rises. See footnote to 53:6. ↩
81:24
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ بِضَنِينٖ ٢٤
And he [i.e., Muḥammad (ﷺ)] is not a withholder of [knowledge of] the unseen.1
1 translator’s note
- Prophet Muḥammad (ﷺ) did not withhold that knowledge of the unseen which Allāh had revealed to him in the Qur’ān. ↩
81:25
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ ٢٥
And it [i.e., the Qur’ān] is not the word of a devil, expelled [from the heavens].
81:26
فَأَيۡنَ تَذۡهَبُونَ ٢٦
So where are you going?1
1 translator’s note
- In your denial of the Qur’ān and in your accusations against the Prophet (ﷺ) . The meaning is essentially "Surely, you have strayed far from Allāh's path." ↩
81:27
إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٢٧
It is not except a reminder to the worlds
81:28
لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَسۡتَقِيمَ ٢٨
For whoever wills among you to take a right course.
81:29
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٩
And you do not will except that Allāh wills - Lord of the worlds.