Al-Buruj 85:21
The Mansions of the Stars · Juz 30 · Page 590
بَلۡ هُوَ قُرۡءَانٞ مَّجِيدٞ ٢١
But this is an honored Qur’ān
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 85:1–22
قسم ہے آسمان برجوں والے کی(1) اور وعدہ دیے ہوئے دن کی(2) اور حاضر ہونے والے (یوم جمعہ) اور حاضر کیے ہوئے (یوم عرفہ) کی(3) ہلاک کیے گئے خندقوں والے(4)( یعنی ) آگ تھی ایندھن والی(5)جبکہ وہ اس پر بیٹھے تھے(6)اور وہ اس کو، جو کچھ وہ کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ، دیکھ رہے تھے(7) اور نہیں انتقام لیا انھوں نے ان سے مگر اس بات کا کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست، قابل تعریف ہے(8) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے(9) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے تکلیفیں دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ، پھر نہ توبہ کی انھوں نے تو ان کے لیے عذاب ہے جہنم کا اور ان کے لیے عذاب ہے جلانے والا (10) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (11) بلاشبہ پکڑ آپ کے رب کی نہایت سخت ہے (12) بے شک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اوروہی دوبارہ پیدا کرے گا (13) اور وہی ہے بڑا بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا (14) عرش کا مالک، اونچی شان والا(15)کر گزرنے والا ہے جو وہ چاہتا ہے(16)کیا آئی ہے آپ کے پاس بات لشکروں کی؟(17)( یعنی ) فرعون اور ثمود کی (18)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکذیب میں (لگے ہوئے) ہیں(19) اور اللہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے (20)بلکہ یہ قرآن اونچی شان والا ہے (21)(لکھا ہوا ہے) لوح محفوظ میں (22)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡـبُرُوۡجِ﴾ ’’برجوں والے آسمان کی قسم۔‘‘ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ﴾ ’’اور وعدے کے دن کی۔‘‘ یہ قیامت کا دن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اس دن انھیں اکٹھا کرے گا، چنانچہ ان کے اول و آخر اور دور و نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اس دن کا بدلنا ممکن نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہی کرتا ہے۔ ﴿وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ﴾ یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔یہاں جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں، ظاہر حکمتیں اور بے پایاں رحمت جن کو یہ قسم متضمن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[9-4]﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ ’’ہلاک کردیے جائیں خندق (کھودنے) والے۔‘‘ یہ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا ہے۔ ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾ سے مراد وہ گڑھے ہیں جو زمین میں کھودے جاتے ہیں۔ یہ اصحاب الاخدود (گڑھوں والے) کافر تھے اور ان کے ہاں کچھ اہل ایمان بھی تھے، کفار نے ان کو اپنے دین میں داخل کرنا چاہا، اہل ایمان نے اس سے انکار کر دیا۔ کفار نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بنائے، ان کے اندر آگ جلائی اور ان کے اردگرد بیٹھ کر اہل ایمان کو آگ پر پیش کر کے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا، پس ان میں جس کسی نے ان کفار کی بات مان لی، اس کو چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہا، اس کو آگ میں پھینک دیا۔یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے گروہ اہل ایمان کے خلاف انتہا کو پہنچی ہوئی محاربت و دشمنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کو وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿قُتِلَ اَصۡحٰؔبُ الۡاُخۡدُوۡدِ﴾، پھر ﴿الۡاُخۡدُوۡدِ﴾کی تفسیر اپنے اس ارشاد سے کی: ﴿النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ۰۰ اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌۙ۰۰وَّهُمۡ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ شُهُوۡدٌ﴾’’وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کا تماشا کر رہے تھے۔‘‘ یہ بدترین جبر اور قساوت قلبی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی، ان کے ساتھ عناد رکھا اور ان آیات پر ایمان رکھنے والوں کے خلاف محاربت کی اور اس قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کے لیے تعذیب کو جمع کر دیا جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔نیز یہ کہ جب اہل ایمان کو آگ کے ان گڑھوں میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت موجود تھے اور حال یہ تھا کہ اہل ایمان پر ان کی صرف اس حالت کی بنا پر ناراض تھے جس پر وہ قابل ستائش تھے اور جس سے ان کی سعادت وابستہ تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے جو غالب اور قابل تعریف ہے، یعنی جو غلبے کا مالک ہے۔ جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اپنے اقوال و افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔﴿الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کے اللہ تعالیٰ کے غلام ہونے کے اعتبار سے سب پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے علم، سمع و بصر کی بنا پر ہر چیز پر گواہ ہے، پس اس کے خلاف سرکشی اختیار کرنے والے یہ کفار اس بات سے کیوں نہ ڈرے کہ غالب اور قدرت رکھنے والا ان کو پکڑ لے گا کیا ان سب کو علم نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی پر کوئی اختیار نہیں؟ یا ان پر یہ حقیقت مخفی رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ہرگز نہیں! کافر دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جاہل اندھے پن کا شکار اور سیدھے راستے سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا ہے۔
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی، ان کے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے سامنے توبہ پیش کی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوۡبُوۡا فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ الۡحَرِيۡقِ﴾ ’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی۔‘‘ یعنی جلانے والا نہایت سخت عذاب ہوگا۔ حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں: اس جود و کرم کی طرف دیکھو، انھوں نے اس کے اولیاء اور اس کے اہل اطاعت بندوں کو قتل کیا اور وہ ان کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے۔
[11] ظالموں کے لیے سزا کا ذکرکرنے کے بعد مومنوں کے لیے ثواب کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ بے شک وہ لوگ جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾اور اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے ﴿لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۣؕ ۬ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡكَبِيۡرُ﴾ ’’ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی تکریم و اکرام کے گھر کے حصول سے فوزیاب ہوں گے۔
[12]﴿اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ﴾ بے شک اہل جرائم اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اس کی اس کی سزا بڑی سخت ہے اور وہ ظالموں کی گھات میں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود:11؍102) ’’اور جب تیرا رب بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کریں، تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی ہی درد ناک ہے۔‘‘
[13]﴿اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ﴾ یعنی وہ تخلیق کی ابتدا کرنے اور اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، اس میں کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔
[14]﴿وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ اس شخص کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو توبہ کرتا ہے اور اس کی برائیوں کو معاف کر دیتا ہے جو ان برائیوں کی بخشش طلب کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾ جو اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے، ایسی محبت جو کسی چیز کے مشابہ نہیں۔ جیسے صفات جلال و جمال اور معانی و افعال میں کوئی چیز مشابہ نہیں، اسی طرح اس کی مخلوق میں سے اس کے خاص بندوں کے دلوں میں اس کی محبت، اسی کے تابع ہے محبت کی مختلف انواع، اس محبت سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی محبت عبودیت کی اصل ہے اور یہ وہ محبت ہے جو تمام محبتوں پر مقدم اور سب پر غالب ہے، اگر دوسری محبتیں اس محبت کے تابع نہ ہوں تو یہ محبتیں اہل محبت کے لیے عذاب ہیں۔اللہ تعالیٰ وَدُود ہے، وہ اپنے دوستوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدۃ:5؍54) ’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘اور اَلْمَوَدَّۃُ خالص اور صاف محبت کو کہتے ہیں۔اس میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿الۡوَدُوۡدُ﴾کو ﴿الۡغَفُوۡرُ﴾ کے ساتھ مقرون بیان کیا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ گنا ہ گار جب اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔ پس یہ نہ کہا جائے کہ ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مودت ان کی طرف نہیں لوٹتی، جیسا کہ بعض مغالطہ انگیزوں کا قول ہے۔بلکہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر ہو، اس کا کھانا پینا اور دیگر سامان اسی سواری پر ہو اور ایک ہلاکت خیز بیابان میں اس کی وہ سواری گم ہو جائے، وہ سواری (کی بازیابی) سے مایوس ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ابھی اسی حال میں ہو کہ وہ کیا دیکھے کہ سواری اس کے سر پر کھڑی ہے پس وہ اس کی مہار تھام لے (اس سواری کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہے) پس اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے حمد و ثنا اور خالص محبت۔ اس کی بھلائی کتنی عظیم، اس کی نیکی کتنی زیادہ، اس کا احسان کس قدر بے پایاں اور اس کی نوازشیں کتنی وسیع ہیں۔
[15]﴿ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ﴾ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
Page 590
سورة البروج
Al-Buruj
The Mansions of the Stars · Meccan · 22 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
85:1
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ ١
By the sky containing great stars
85:2
وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ ٢
And [by] the promised Day
85:3
وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ ٣
And [by] the witness and what is witnessed,
85:4
قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ ٤
Destroyed [i.e., cursed] were the companions of the trench1
1 translator’s note
- Or "May they be destroyed" or "cursed." The "companions of the trench" (or ditch) were agents of a tyrannical king who refused to allow his people to believe in Allāh. Their evil deed in obedience to their ruler earned for them the curse of Allāh (subḥānahu wa taʿālā) . ↩
85:5
ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ ٥
[Containing] the fire full of fuel,
85:6
إِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُودٞ ٦
When they were sitting near it.
85:7
وَهُمۡ عَلَىٰ مَا يَفۡعَلُونَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ شُهُودٞ ٧
And they, to what they were doing against the believers, were witnesses. 1
1 translator’s note
- After casting the believers into a trench filled with fire, they sat at its edge, watching them burn to death. This event occurred before the time of Prophet Muḥammad (ﷺ) . ↩
85:8
وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ ٨
And they resented them not except because they believed in Allāh, the Exalted in Might, the Praiseworthy,
85:9
ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ ٩
To whom belongs the dominion of the heavens and the earth. And Allāh, over all things, is Witness.1
1 translator’s note
- See footnote to 4:79. ↩
85:10
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ ١٠
Indeed, those who have tortured1 the believing men and believing women and then have not repented will have the punishment of Hell, and they will have the punishment of the Burning Fire.
1 translator’s note
- Or, in this instance, the literal meaning of "burned" is also appropriate. ↩
85:11
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡكَبِيرُ ١١
Indeed, those who have believed and done righteous deeds will have gardens beneath which rivers flow. That is the great attainment.
85:12
إِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ١٢
Indeed, the assault [i.e., vengeance] of your Lord is severe.
85:13
إِنَّهُۥ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيدُ ١٣
Indeed, it is He who originates [creation] and repeats.
85:14
وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلۡوَدُودُ ١٤
And He is the Forgiving, the Affectionate,
85:15
ذُو ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡمَجِيدُ ١٥
Honorable Owner of the Throne,
85:16
فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ ١٦
Effecter of what He intends.
85:17
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡجُنُودِ ١٧
Has there reached you the story of the soldiers -
85:18
فِرۡعَوۡنَ وَثَمُودَ ١٨
[Those of] Pharaoh and Thamūd?
85:19
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي تَكۡذِيبٖ ١٩
But they who disbelieve are in [persistent] denial,
85:20
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطُۢ ٢٠
While Allāh encompasses them from behind.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:19 ↩
85:21
بَلۡ هُوَ قُرۡءَانٞ مَّجِيدٞ ٢١
But this is an honored Qur’ān
85:22
فِي لَوۡحٖ مَّحۡفُوظِۭ ٢٢
[Inscribed] in a Preserved Slate.