At-TariqJuz 30 · Page 591

At-Tariq 86:3

The Nightcommer · Juz 30 · Page 591

ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ ٣

It is the piercing star1.

1 translator’s note
  1. Whose light pierces through the darkness. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 86:1–17

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

[7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔

[10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔

[14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔

[17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 591

At-TariqJuz 30 · Page 591

سورة الطارق

At-Tariq

The Nightcommer · Meccan · 17 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

86:1

وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ ١

By the sky and the knocker

86:2

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ٢

And what can make you know what is the knocker?

86:3

ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ ٣

It is the piercing star1.

1 translator’s note
  1. Whose light pierces through the darkness. ↩

86:4

إِن كُلُّ نَفۡسٖ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٞ ٤

There is no soul but that it has over it a protector.

86:5

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ ٥

So let man observe from what he was created.

86:6

خُلِقَ مِن مَّآءٖ دَافِقٖ ٦

He was created from a fluid, ejected,

86:7

يَخۡرُجُ مِنۢ بَيۡنِ ٱلصُّلۡبِ وَٱلتَّرَآئِبِ ٧

Emerging from between the backbone and the ribs.

86:8

إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرٞ ٨

Indeed, He [i.e., Allāh], to return him [to life], is Able.

86:9

يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ ٩

The Day when secrets will be put on trial,1

1 translator’s note
  1. i.e., exposed, examined and judged. ↩

86:10

فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٖ وَلَا نَاصِرٖ ١٠

Then he [i.e., man] will have no power or any helper.

86:11

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجۡعِ ١١

By the sky which sends back1

1 translator’s note
  1. Rain, heat, sound waves, etc. ↩

86:12

وَٱلۡأَرۡضِ ذَاتِ ٱلصَّدۡعِ ١٢

And [by] the earth which splits,1

1 translator’s note
  1. With plant growth or from geological rifts. ↩

86:13

إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ ١٣

Indeed, it [i.e., the Qur’ān] is a decisive statement,

86:14

وَمَا هُوَ بِٱلۡهَزۡلِ ١٤

And it is not amusement.

86:15

إِنَّهُمۡ يَكِيدُونَ كَيۡدٗا ١٥

Indeed, they are planning a plan,

86:16

وَأَكِيدُ كَيۡدٗا ١٦

But I am planning a plan.

86:17

فَمَهِّلِ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدَۢا ١٧

So allow time for the disbelievers. Leave them awhile.1

1 translator’s note
  1. i.e., Do not be in haste for revenge, for you will see what will become of them. ↩

سورة الأعلى

Al-A'la

The Most High · Meccan · 19 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

87:1

سَبِّحِ ٱسۡمَ رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى ١

Exalt the name of your Lord, the Most High,

87:2

ٱلَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ٢

Who created and proportioned

87:3

وَٱلَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ ٣

And who destined and [then] guided

87:4

وَٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلۡمَرۡعَىٰ ٤

And who brings out the pasture

87:5

فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحۡوَىٰ ٥

And [then] makes it black stubble.

87:6

سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ ٦

We will make you recite, [O Muḥammad], and you will not forget,

87:7

إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفَىٰ ٧

Except what Allāh should will. Indeed, He knows what is declared and what is hidden.

87:8

وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرَىٰ ٨

And We will ease you toward ease.1

1 translator’s note
  1. To the path of Allāh's religion, which is easy and natural, or toward Paradise, by giving opportunities for righteous deeds. ↩

87:9

فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ ٩

So remind, if the reminder should benefit;1

1 translator’s note
  1. i.e., wherever it will be heard and understood. ↩

87:10

سَيَذَّكَّرُ مَن يَخۡشَىٰ ١٠

He who fears [Allāh] will be reminded.

87:11

وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلۡأَشۡقَى ١١

But the wretched one will avoid it –

87:12

ٱلَّذِي يَصۡلَى ٱلنَّارَ ٱلۡكُبۡرَىٰ ١٢

[He] who will [enter and] burn in the greatest Fire,

87:13

ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ ١٣

Neither dying therein nor living.

87:14

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ١٤

He has certainly succeeded who purifies himself

87:15

وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ ١٥

And mentions the name of his Lord and prays.

As-Sa'diTafsir · 86:3

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском