Al-A'la 87:17
The Most High · Juz 30 · Page 592
وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ ١٧
While the Hereafter is better and more enduring.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 87:1–19
آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو سب سے بلند تر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا پس ٹھیک ٹھیک بنایا(2) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر ہدایت دی(3) اور وہ ذات جس نے نکالا (زمین سے) چارہ(4) پھر کر دیا اس کو خشک چورا سیاہ (5) عنقریب ہم پڑھائیں گے آپ کو (قرآن) پس نہیں بھولیں گے آپ(6) سوائے اس کےجو چاہے اللہ، بلاشبہ وہ جانتا ہے ظاہر کو اور اس کو جو مخفی ہے(7) اور ہم توفیق دیں گے آپ کو آسان (راستے) کی(8) پس آپ نصیحت کیجیے اگر نفع دے نصیحت(9) ضرور نصیحت حاصل کرے گا وہ جو ڈرتا ہے (10) اور دور رہے گا اس سے بد بخت (11) وہ جو داخل ہو گابہت بڑی آگ میں(12) پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جیے گا(13)تحقیق فلاح پا گیا وہ شخص جو پاک ہوا(14) اور اس نے یاد کیا نام اپنے رب کا ، پھر نماز پڑھی(15)بلکہ تم ترجیح دیتے ہو حیات دنیا کو(16)جبکہ آخرت بہت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے(17)بلاشبہ یہ (بات) پہلے صحیفوں میں ہے(18)( یعنی ) صحیفوں میں ابراہیم اور موسیٰ کے(19)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح و تنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر، اس کی عبادت، اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے، نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے، یعنی اس کے اسمائے حسنیٰ و عالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کےمعنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے، ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، ان کو درست کیا، یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔ ﴿وَالَّذِيۡ قَدَّرَ ﴾ اس نے اندازہ مقرر کر دیا، جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ﴿ فَهَدٰى ﴾ اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی، یہ ہدایت عامہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے۔
[4، 5] اور اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے نباتات اور سر سبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں، جنھیں انسان، چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں ، پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے، اس کے مکمل کر لینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کر دیتا ہے۔ ﴿ فَجَعَلَهٗ غُثَآءًؔ اَحۡوٰى﴾ ’’ پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔
[6، 7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کر کے احسان جتلایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰۤى﴾ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے، اسے محفوظ کر دیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرا دیں گے۔ پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ﴿ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جو اللہ چاہے ‘‘ اور اس کی حکمت تقاضا کرے کہ کسی مصلحت اور حکمت بالغہ کی بنا پر آپ کو فراموش کرا دے ﴿ اِنَّهٗ يَعۡلَمُ الۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفٰى﴾ ’’بے شک وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔‘‘ اور اس میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کیا درست ہے، اس لیے وہ جو چاہتا ہے مشروع کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔
[8]﴿ وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ﴾ یہ ایک اور خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے تمام امور میں آسانی مہیا فرمائے گا اور آپ کے دین اور شریعت کو آسان بنائے گا۔
[13-9]﴿ فَذَكِّرۡ ﴾ پس آپ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیے ﴿ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’اگر نصیحت فائدہ دے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تذکیر قابل قبول اور نصیحت سنی جاتی ہو، خواہ اس نصیحت سے پورا مقصد حاصل ہوتا ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے، یعنی جس کو نصیحت کی گئی ہے وہ شر میں اور بڑھ جائے یا اس میں بھلائی کم ہو جائے تو آپ نصیحت پر مامور نہیں، بلکہ تب آپ نصیحت نہ کرنے پر مامور ہیں۔پس نصیحت کے ضمن میں لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں: نصیحت سے فائدہ اٹھانے والے اور نصیحت سے فائدہ نہ اٹھانے والے۔ رہے فائدہ اٹھانے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے: ﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ نصیحت حاصل کرے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزا و سزا دینے پر اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان ا مور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتاہے اور بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔رہے وہ لوگ جو نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے:﴿ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰ الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’اور بدبخت پہلو تہی کرے گا جو بڑی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ اور یہ بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں سے لپٹ جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰى ﴾ ’’جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔‘‘ یعنی ان کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت ہو گی نہ استراحت، حتیٰ کہ وہ موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾(فاطر:35؍36) ’’نہ ان کو موت آئے گی کہ مر جائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔‘‘
[14، 15]﴿ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ ’’اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔‘‘ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے۔یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ تَزَؔكّٰى ﴾ کےمعنی یہ کرتا ہے کہ اس نے زکاۃ فطر دی اور ﴿ وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾ سے مراد عید کی نماز ہے۔ تو یہ اگرچہ لفظ کے (عمومی) معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔
[16، 17]﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی، مکدر کرنے والی اور زائل ہو جانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے، کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقاء ہے اور دنیا دارالفنا ءہے، اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج و غم کو خریدے گا ۔پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔
[18، 19]﴿ اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار مستحسنہ جو اس سورۂ مبارکہ میں تمھارے سامنے ذکر کیے گئے ﴿ لَفِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ۙ۰۰ صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰؔى﴾ ’’پہلے صحیفوں میں ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ(i) کے صحیفوں میں۔‘‘ جو دونوں محمد مصطفیٰﷺ کے بعد تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان و مکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔
Page 592
87:16
بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ١٦
But you prefer the worldly life,
87:17
وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ ١٧
While the Hereafter is better and more enduring.
87:18
إِنَّ هَٰذَا لَفِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ ١٨
Indeed, this is in the former scriptures,
87:19
صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ ١٩
The scriptures of Abraham and Moses.
سورة الغاشية
Al-Ghashiyah
The Overwhelming · Meccan · 26 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
88:1
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡغَٰشِيَةِ ١
Has there reached you the report of the Overwhelming [event]?
88:2
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ ٢
[Some] faces, that Day, will be humbled,
88:3
عَامِلَةٞ نَّاصِبَةٞ ٣
Working [hard] and exhausted.1
1 translator’s note
- Another accepted meaning is "They were working hard and exhausted," i.e., doing deeds during worldly life which did not benefit them since they were not accompanied by faith or done for the acceptance of Allāh (subḥānahu wa taʿālā) . ↩
88:4
تَصۡلَىٰ نَارًا حَامِيَةٗ ٤
They will [enter to] burn in an intensely hot Fire.
88:5
تُسۡقَىٰ مِنۡ عَيۡنٍ ءَانِيَةٖ ٥
They will be given drink from a boiling spring.
88:6
لَّيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٖ ٦
For them there will be no food except from a poisonous, thorny plant
88:7
لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِي مِن جُوعٖ ٧
Which neither nourishes nor avails against hunger.
88:8
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ ٨
[Other] faces, that Day, will show pleasure.
88:9
لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ ٩
With their effort [they are] satisfied
88:10
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ ١٠
In an elevated garden,
88:11
لَّا تَسۡمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةٗ ١١
Wherein they will hear no unsuitable speech.1
1 translator’s note
- i.e., any insult, falsehood, immorality, idle or vain talk, etc. ↩
88:12
فِيهَا عَيۡنٞ جَارِيَةٞ ١٢
Within it is a flowing spring.
88:13
فِيهَا سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ ١٣
Within it are couches raised high
88:14
وَأَكۡوَابٞ مَّوۡضُوعَةٞ ١٤
And cups put in place
88:15
وَنَمَارِقُ مَصۡفُوفَةٞ ١٥
And cushions lined up
88:16
وَزَرَابِيُّ مَبۡثُوثَةٌ ١٦
And carpets spread around.
88:17
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ ١٧
Then do they not look at the camels - how they are created?
88:18
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ ١٨
And at the sky - how it is raised?
88:19
وَإِلَى ٱلۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ ١٩
And at the mountains - how they are erected?
88:20
وَإِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ ٢٠
And at the earth - how it is spread out?
88:21
فَذَكِّرۡ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٞ ٢١
So remind, [O Muḥammad]; you are only a reminder.
88:22
لَّسۡتَ عَلَيۡهِم بِمُصَيۡطِرٍ ٢٢
You are not over them a controller.
88:23
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ ٢٣
However, he who turns away and disbelieves –
88:24
فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَكۡبَرَ ٢٤
Then Allāh will punish him with the greatest punishment.
88:25
إِنَّ إِلَيۡنَآ إِيَابَهُمۡ ٢٥
Indeed, to Us is their return.
88:26
ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُم ٢٦
Then indeed, upon Us is their account.