Al-Fajr 89:20
The Dawn · Juz 30 · Page 593
وَتُحِبُّونَ ٱلۡمَالَ حُبّٗا جَمّٗا ٢٠
And you love wealth with immense love.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 89:15–20
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
Page 593
سورة الفجر
Al-Fajr
The Dawn · Meccan · 30 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
89:1
وَٱلۡفَجۡرِ ١
By the dawn
89:2
وَلَيَالٍ عَشۡرٖ ٢
And [by] ten nights1
1 translator’s note
- Usually interpreted as the first ten nights of the month of Dhul-Ḥijjah. ↩
89:3
وَٱلشَّفۡعِ وَٱلۡوَتۡرِ ٣
And [by] the even [number] and the odd
89:4
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَسۡرِ ٤
And [by] the night when it passes,
89:5
هَلۡ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٞ لِّذِي حِجۡرٍ ٥
Is there [not] in [all] that an oath [sufficient] for one of perception?1
1 translator’s note
- Based upon the following verses, what has been sworn to by Allāh is that He will certainly punish the disbelievers. ↩
89:6
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ٦
Have you not considered how your Lord dealt with ʿAad -
89:7
إِرَمَ ذَاتِ ٱلۡعِمَادِ ٧
89:8
ٱلَّتِي لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي ٱلۡبِلَٰدِ ٨
The likes of whom had never been created in the land?
89:9
وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُواْ ٱلصَّخۡرَ بِٱلۡوَادِ ٩
And [with] Thamūd, who carved out the rocks in the valley?
89:10
وَفِرۡعَوۡنَ ذِي ٱلۡأَوۡتَادِ ١٠
And [with] Pharaoh, owner of the stakes?1
1 translator’s note
- By which he tortured people. ↩
89:11
ٱلَّذِينَ طَغَوۡاْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ١١
[All of] whom oppressed within the lands
89:12
فَأَكۡثَرُواْ فِيهَا ٱلۡفَسَادَ ١٢
And increased therein the corruption.
89:13
فَصَبَّ عَلَيۡهِمۡ رَبُّكَ سَوۡطَ عَذَابٍ ١٣
So your Lord poured upon them a scourge of punishment.
89:14
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلۡمِرۡصَادِ ١٤
Indeed, your Lord is in observation.
89:15
فَأَمَّا ٱلۡإِنسَٰنُ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكۡرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَكۡرَمَنِ ١٥
And as for man, when his Lord tries him and [thus] is generous to him and favors him, he says, "My Lord has honored me."1
1 translator’s note
- He is proud rather than grateful, attributing the favor to his own merit. ↩
89:16
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَهَٰنَنِ ١٦
But when He tries him and restricts his provision, he says, "My Lord has humiliated me."
89:17
كـَلَّاۖ بَل لَّا تُكۡرِمُونَ ٱلۡيَتِيمَ ١٧
No!1 But you do not honor the orphan
1 translator’s note
- It is not like you imagine. Rather, Allāh tries people through prosperity and hardship and rewards both gratitude and patience with honor in the Hereafter. ↩
89:18
وَلَا تَحَٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ١٨
And you do not encourage one another to feed the poor.
89:19
وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا ١٩
And you consume inheritance, devouring [it] altogether,1
1 translator’s note
- Not caring whether it is lawful or unlawful. ↩
89:20
وَتُحِبُّونَ ٱلۡمَالَ حُبّٗا جَمّٗا ٢٠
And you love wealth with immense love.
89:21
كـَلَّآۖ إِذَا دُكَّتِ ٱلۡأَرۡضُ دَكّٗا دَكّٗا ٢١
No! When the earth has been leveled - pounded and crushed
89:22
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلۡمَلَكُ صَفّٗا صَفّٗا ٢٢
And your Lord has come1 and the angels, rank upon rank,
1 translator’s note
- To pass judgement. See footnote to 2:19. ↩
89:23
وَجِاْيٓءَ يَوۡمَئِذِۭ بِجَهَنَّمَۚ يَوۡمَئِذٖ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكۡرَىٰ ٢٣
And brought [within view], that Day, is Hell - that Day, man will remember, but how [i.e., what good] to him will be the remembrance?