At-Tawbah 9:11
The Repentance · Juz 10 · Page 188
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ١١
But if they repent, establish prayer, and give zakāh, then they are your brothers in religion; and We detail the verses for a people who know.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 9:8–11
کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)
[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘
[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔
[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
Page 188
9:7
كَيۡفَ يَكُونُ لِلۡمُشۡرِكِينَ عَهۡدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ فَمَا ٱسۡتَقَٰمُواْ لَكُمۡ فَٱسۡتَقِيمُواْ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ٧
How can there be for the polytheists a treaty in the sight of Allāh and with His Messenger, except for those with whom you made a treaty at al-Masjid al-Ḥarām? So as long as they are upright toward you,1 be upright toward them. Indeed, Allāh loves the righteous [who fear Him].
1 translator’s note
- i.e., maintain the terms of the treaty. ↩
9:8
كَيۡفَ وَإِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ لَا يَرۡقُبُواْ فِيكُمۡ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ يُرۡضُونَكُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَتَأۡبَىٰ قُلُوبُهُمۡ وَأَكۡثَرُهُمۡ فَٰسِقُونَ ٨
How [can there be a treaty] while, if they gain dominance over you, they do not observe concerning you any pact of kinship or covenant of protection? They satisfy you with their mouths, but their hearts refuse [compliance], and most of them are defiantly disobedient.
9:9
ٱشۡتَرَوۡاْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٩
They have exchanged the signs of Allāh for a small price and averted [people] from His way. Indeed, it was evil that they were doing.
9:10
لَا يَرۡقُبُونَ فِي مُؤۡمِنٍ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُعۡتَدُونَ ١٠
They do not observe toward a believer any pact of kinship or covenant of protection. And it is they who are the transgressors.
9:11
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ١١
But if they repent, establish prayer, and give zakāh, then they are your brothers in religion; and We detail the verses for a people who know.
9:12
وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ ١٢
And if they break their oaths after their treaty and defame your religion, then combat the leaders of disbelief, for indeed, there are no oaths [sacred] to them; [fight them that] they might cease.
9:13
أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوۡمٗا نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ وَهَمُّواْ بِإِخۡرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍۚ أَتَخۡشَوۡنَهُمۡۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَوۡهُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٣
Would you not fight against a people who broke their oaths and determined to expel the Messenger, and they had begun [the attack upon] you the first time? Do you fear them? But Allāh has more right that you should fear Him, if you are [truly] believers.