At-Tawbah 9:122
The Repentance · Juz 11 · Page 206
۞ وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ ١٢٢
And it is not for the believers to go forth [to battle] all at once. For there should separate from every division of them a group [remaining] to obtain understanding in the religion and warn [i.e., advise] their people when they return to them that they might be cautious.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 9:122
اور نہیں لائق مومنوں کو یہ کہ نکلیں وہ (جہاد کے لیے) سارے کے سارے، پس کیوں نہیں نکلا ہر فرقے سے ان میں سے ایک گروہ تاکہ سمجھ حاصل کریں وہ دین میں اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب لوٹ کر آئیں وہ ان کی طرف تاکہ وہ( پیچھے والے بھی) ڈریں ؟ (122)
[122] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے جو ان کے لائق ہیں ، فرماتا ہے:﴿ وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً﴾ ’’اور ایسے تو نہیں مومن کہ کوچ کریں سارے‘‘ یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے تمام مومن دشمن کے خلاف جنگ کے لیے نکل پڑیں کیونکہ اس طرح وہ مشقت میں پڑ جائیں گے اور بہت سے دیگر مصالح فوت ہو جائیں گے۔ ﴿ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِنۡ كُلِّ فِرۡقَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس کیوں نہ نکلا ہر گروہ میں سے‘‘ یعنی شہروں ، قبیلوں اور خاندانوں میں سے ﴿ طَآىِٕفَةٌ ﴾ ’’ان کا ایک حصہ‘‘ جس سے ان کا مقصد اور کفایت حاصل ہو جاتی تو یہ بہتر تھا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کے لیے نہیں نکلے اور پیچھے ٹھہر گئے ان کے نہ نکلنے میں کچھ مصالح تھے جو گھر سے نکلنے کی صورت میں ضائع ہو جاتے۔ پس فرمایا:﴿ لِّيَتَفَقَّهُوۡا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’تاکہ وہ سمجھ حاصل کریں دین میں ‘‘ یعنی پیچھے بیٹھ رہنے والے ﴿ وَلِيُنۡذِرُوۡا قَوۡمَهُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب وہ لوٹیں ان کی طرف‘‘ تاکہ وہ علم شریعت حاصل کرتے، اس کے معانی کی معرفت حاصل کرتے اور پھر دوسروں کو تعلیم دیتے اور جب واپس لوٹتے تو اپنی قوم کو ڈراتے... اس سے علم کی فضیلت مستفاد ہوتی ہے خاص طور پر دین میں سمجھ کی فضیلت، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تفقہ فی الدین بہت اہم معاملہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی قسم کا علم حاصل کرتا ہے تو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس علم کو اللہ کے بندوں میں پھیلائے۔ اس بارے میں ان کے ساتھ خیر خواہی کرے کیونکہ عالم سے علم کا پھیلنا اس کی برکت اور اس کا اجر ہے جو بڑھتا رہتا ہے۔رہا عالم کا اپنے آپ پر اقتصار کرنا، حکمت و دانائی اور بہترین نصیحت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت نہ دینا، جہال کو ان امور کی تعلیم دینا ترک کر دینا جو وہ نہیں جانتے... تو اس کے علم سے مسلمانوں کو کون سا فائدہ حاصل ہوا اور اس کے علم کا کیا نتیجہ نکلا؟ بس اس کی انتہا یہ ہے کہ اس عالم کے مر جانے کے ساتھ اس کا علم بھی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ یہ اس شخص کی حرماں نصیبی کی انتہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم و فہم سے نوازا۔نیز اس آیت کریمہ میں ایک اہم فائدہ کی طرف راہنمائی اور نہایت لطیف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مصالح عامہ میں سے ہر مصلحت کے لیے کچھ لوگوں کو تیار کریں جو ان مصالح کا انتظام کریں اور ان مصالح کے حصول کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کریں اور وہ دیگر امور کی طرف التفات نہ کریں تاکہ ان مصالح کا اچھی طرح انتظام ہو تاکہ مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل ہو اور تمام مسلمانوں کا مقصد ایک ہو اور وہ ہے ان کے دین و دنیا کے مصالح کا قیام۔ اگرچہ راستے مختلف ہوں ، مشرب متعدد ہوں ، کام ایک دوسرے سے جدا ہوں مگر مقصد ایک ہو۔ تمام امور میں یہ عام حکمت نافعہ ہے۔
Page 206
9:118
وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ أَنفُسُهُمۡ وَظَنُّوٓاْ أَن لَّا مَلۡجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيۡهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ لِيَتُوبُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١١٨
And [He also forgave] the three who were left alone [i.e., boycotted, regretting their error] to the point that the earth closed in on them in spite of its vastness1 and their souls confined [i.e., anguished] them and they were certain that there is no refuge from Allāh except in Him. Then He turned to them so they could repent. Indeed, Allāh is the Accepting of Repentance,2 the Merciful.
9:119
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ ١١٩
O you who have believed, fear Allāh and be with those who are true.
9:120
مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٢٠
It was not [proper] for the people of Madīnah and those surrounding them of the bedouins that they remain behind after [the departure of] the Messenger of Allāh or that they prefer themselves over his self.1 That is because they are not afflicted by thirst or fatigue or hunger in the cause of Allāh, nor do they tread on any ground that enrages the disbelievers, nor do they inflict upon an enemy any infliction but that it is registered for them as a righteous deed. Indeed, Allāh does not allow to be lost the reward of the doers of good.
1 translator’s note
- In times of hardship. Rather, they should have been willing to endure with the Prophet (ﷺ) whatever was necessary for Islām. ↩
9:121
وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةٗ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةٗ وَلَا يَقۡطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٢١
Nor do they spend an expenditure, small or large, or cross a valley but that it is registered for them that Allāh may reward them for the best of what they were doing.
9:122
۞ وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ ١٢٢
And it is not for the believers to go forth [to battle] all at once. For there should separate from every division of them a group [remaining] to obtain understanding in the religion and warn [i.e., advise] their people when they return to them that they might be cautious.