At-Tawbah 9:19
The Repentance · Juz 10 · Page 189
۞ أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩
Have you made the providing of water for the pilgrim and the maintenance of al-Masjid al-Ḥarām equal to [the deeds of] one who believes in Allāh and the Last Day and strives in the cause of Allāh? They are not equal in the sight of Allāh. And Allāh does not guide the wrongdoing people.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 9:19–22
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
Page 189
9:14
قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ ١٤
Fight them; Allāh will punish them by your hands and will disgrace them and give you victory over them and satisfy the breasts [i.e., desires] of a believing people
9:15
وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوبِهِمۡۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ١٥
And remove the fury in their [i.e., the believers'] hearts. And Allāh turns in forgiveness to whom He wills; and Allāh is Knowing and Wise.
9:16
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٦
Do you think that you will be left [as you are] while Allāh has not yet made evident those among you who strive [for His cause] and do not take other than Allāh, His Messenger and the believers as intimates? And Allāh is [fully] Aware of what you do.
9:17
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ١٧
It is not for the polytheists to maintain the mosques of Allāh [while] witnessing against themselves with disbelief. [For] those, their deeds have become worthless, and in the Fire they will abide eternally.
9:18
إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ ١٨
The mosques of Allāh are only to be maintained by those who believe in Allāh and the Last Day and establish prayer and give zakāh and do not fear except Allāh, for it is expected that those will be of the [rightly] guided.
9:19
۞ أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩
Have you made the providing of water for the pilgrim and the maintenance of al-Masjid al-Ḥarām equal to [the deeds of] one who believes in Allāh and the Last Day and strives in the cause of Allāh? They are not equal in the sight of Allāh. And Allāh does not guide the wrongdoing people.
9:20
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠
The ones who have believed, emigrated and striven in the cause of Allāh with their wealth and their lives are greater in rank in the sight of Allāh. And it is those who are the attainers [of success].