At-TawbahJuz 10 · Page 191

At-Tawbah 9:28

The Repentance · Juz 10 · Page 191

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٨

O you who have believed, indeed the polytheists are unclean, so let them not approach al-Masjid al-Ḥarām after this, their [final] year. And if you fear privation, Allāh will enrich you from His bounty if He wills. Indeed, Allāh is Knowing and Wise.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 9:28

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ مشرکین تو ناپاک ہیں، پس نہ قریب جائیں وہ مسجد حرام کے، بعد اپنے اس سال کےاوراگر تم خوف کرتے ہو مفلسی سے تو عنقریب غنی کردے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، یقینا اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے(28)

[28]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! بے شک مشرکین‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی ﴿ نَجَسٌ ﴾ ’’ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے عقائد و اعمال میں ناپاک ہیں ۔اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لیے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾’’پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ‘‘ اور یہ ۹ ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیقt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالبt کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ’’براء ت‘‘ کا اعلان کر دیں ، چنانچہ انھوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آئے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں ۔ کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قرار دی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ساتھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انھوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے..... معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔﴿ وَاِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً ﴾ ’’(اے مسلمانو!) اگر تمھیں محتاجی کا خوف ہو۔‘‘ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روک دینے کی وجہ سے تمھارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو۔ ﴿ فَسَوۡفَ يُغۡنِيۡكُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۤ ﴾ ’’تو اللہ اپنے فضل سے تمھیں غنی کر دے گا‘‘ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے تو بے شمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل و کرم اور بہت بڑے جود و سخا کا مالک ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی چیز کو ترک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا کیونکہ اس نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کر دیا۔ انھیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنۡ شَآءَ﴾ ’’اگر اس نے چاہا‘‘ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ساتھ معلق ہے کیونکہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کیے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔آیت کریمہ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہﷺ اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکرمﷺ نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے.... اور یہ اس وجہ سے تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ میں داخل ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 191

At-TawbahJuz 10 · Page 191

9:27

ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٧

Then Allāh will accept repentance after that for whom He wills; and Allāh is Forgiving and Merciful.

9:28

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٨

O you who have believed, indeed the polytheists are unclean, so let them not approach al-Masjid al-Ḥarām after this, their [final] year. And if you fear privation, Allāh will enrich you from His bounty if He wills. Indeed, Allāh is Knowing and Wise.

9:29

قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ ٢٩

Fight against those who do not believe in Allāh or in the Last Day and who do not consider unlawful what Allāh and His Messenger have made unlawful and who do not adopt the religion of truth [i.e., Islām] from those who were given the Scripture - [fight] until they give the jizyah1 willingly while they are humbled.

1 translator’s note
  1. A tax required of non-Muslims exempting them from military service and entitling them to the protection of the Islāmic state. Concurrently, zakāh is not taken from them, being an obligation only upon Muslims. ↩

9:30

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٣٠

The Jews say, "Ezra is the son of Allāh"; and the Christians say, "The Messiah is the son of Allāh." That is their statement from their mouths; they imitate the saying of those who disbelieved before [them]. May Allāh destroy them; how are they deluded?

9:31

ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٣١

They have taken their scholars and monks as lords besides Allāh,1 and [also] the Messiah, the son of Mary.2 And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.

2 translator’s notes
  1. By their obedience to them rather than to what Allāh ordained.

    [468] By their worship of him in conjunction with Allāh.

    ↩
  2. ↩
As-Sa'diTafsir · 9:28

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском