At-Tawbah 9:65
The Repentance · Juz 10 · Page 197
وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ ٦٥
And if you ask them, they will surely say, "We were only conversing and playing." Say, "Is it Allāh and His verses and His Messenger that you were mocking?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 9:64–66
ڈرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل کردی جائے ان پر کوئی سورت، جو بتا دے انھیں جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، کہہ دیجیے! تم مذاق کرتے رہو، بے شک اللہ ظاہر کرنے والا ہے وہ بات جس سے تم ڈرتے ہو(64) اوراگر آپ پوچھیں ان سے تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو تھے محض شغل کے طورپر باتیں اور دل لگی کرتے، کہہ دیجیے! کیا تم اللہ اوراس کی آیتوں اوراس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے تھے؟(65)(اب) عذر پیش نہ کرو، یقینا تم نے کفر کیا ہے بعد اپنے ایمان کے، اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو ہم عذاب دیں گے(دوسرے) گروہ کو، بسبب اس کے کہ بلاشبہ تھے وہ مجرم(66)
[64] اس سورۂ کریمہ کو ( اَلْفَاضِحَۃ)’’رسوا کرنے والی سورت‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’ان میں سے بعض ‘‘۔’’ان میں سے بعض‘‘ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لیے، اس کے دو فائدے ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ سِتِّیر ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔(۲) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں ۔اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ﴾(الاحزاب: 33؍60۔61) ’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں ، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں ، پکڑے جائیں اور قتل کر دیے جائیں ۔‘‘ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَةٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾’’منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جاتے ہیں ۔﴿ قُلِ اسۡتَهۡزِءُوۡا﴾ ’’کہہ دو کہ ہنسی مذاق کیے جاؤ۔‘‘ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمھارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور یہ سورۃ نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔
[66,65] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر آپ ان سے دریافت کریں ۔‘‘ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ’’ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے‘‘ ....ان کی مراد نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تھے .... ’’جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔‘‘(تفسیر طبری، 6؍220)جب انھیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی ہرزہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلۡعَبُ﴾ ’’ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی‘‘ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہمارا کوئی مقصد تھا اور نہ طعن اور عیب جوئی ہی ہمارا مقصود تھا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنابریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠ ۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘فرمایا:﴿ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآىِٕفَةٍ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں ۔‘‘ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے۔ ﴿نُعَذِّبۡ طَآىِٕفَةًۢ ﴾ ’’تو تم میں سے کسی دوسرے گروہ کو عذاب دیتے ہیں ‘‘ ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کیونکہ وہ۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ ﴿كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ گناہ گار تھے‘‘ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں ۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ استہزا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے یا ان کو ناقص گردانتا ہے یا رسول اللہﷺ سے استہزا کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
Page 197
9:62
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوكُمۡ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ إِن كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ ٦٢
They swear by Allāh to you [Muslims] to satisfy you. But Allāh and His Messenger are more worthy for them to satisfy,1 if they were to be believers.
1 translator’s note
- Literally, "to satisfy Him," meaning that Allāh would be satisfied by obedience to the Messenger (ﷺ). ↩
9:63
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدٗا فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡخِزۡيُ ٱلۡعَظِيمُ ٦٣
Do they not know that whoever opposes Allāh and His Messenger - that for him is the fire of Hell, wherein he will abide eternally? That is the great disgrace.
9:64
يَحۡذَرُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُورَةٞ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلِ ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ مُخۡرِجٞ مَّا تَحۡذَرُونَ ٦٤
The hypocrites are apprehensive lest a sūrah be revealed about them, informing them of1 what is in their hearts. Say, "Mock [as you wish]; indeed, Allāh will expose that which you fear."
1 translator’s note
- i.e., exposing the truth about. ↩
9:65
وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ ٦٥
And if you ask them, they will surely say, "We were only conversing and playing." Say, "Is it Allāh and His verses and His Messenger that you were mocking?"
9:66
لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ إِن نَّعۡفُ عَن طَآئِفَةٖ مِّنكُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَةَۢ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ ٦٦
Make no excuse; you have disbelieved [i.e., rejected faith] after your belief. If We pardon one faction of you - We will punish another faction because they were criminals.
9:67
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ بَعۡضُهُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمُنكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَقۡبِضُونَ أَيۡدِيَهُمۡۚ نَسُواْ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمۡۚ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٦٧
The hypocrite men and hypocrite women are of one another. They enjoin what is wrong and forbid what is right and close their hands.1 They have forgotten Allāh, so He has forgotten them [accordingly]. Indeed, the hypocrites - it is they who are the defiantly disobedient.
1 translator’s note
- i.e., refuse to spend in the way of Allāh. ↩
9:68
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ هِيَ حَسۡبُهُمۡۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّقِيمٞ ٦٨
Allāh has promised the hypocrite men and hypocrite women and the disbelievers the fire of Hell, wherein they will abide eternally. It is sufficient for them. And Allāh has cursed them, and for them is an enduring punishment.