At-TawbahJuz 10 · Page 200

At-Tawbah 9:83

The Repentance · Juz 10 · Page 200

فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٖ مِّنۡهُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِيَ أَبَدٗا وَلَن تُقَٰتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّاۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٖ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَٰلِفِينَ ٨٣

If Allāh should return you to a faction of them [after the expedition] and then they ask your permission to go out [to battle], say, "You will not go out with me, ever, and you will never fight with me an enemy. Indeed, you were satisfied with sitting [at home] the first time, so sit [now] with those who stay behind."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 9:81–83

خوش ہوئے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اپنے بیٹھ رہنے پر، بعد(جانے) رسول اللہ کے اورانھوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اوراپنی جانوں کے، اللہ کی راہ میں اور کہا انھوں نے ، نہ کوچ کرو تم (اس) گرمی میں، کہہ دیجیے! آگ جہنم کی (اس سے بھی) زیادہ سخت ہے گرمی میں، اگر ہوں وہ سمجھتے(81) پس چاہیے کہ ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ، بدلے میں ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(82) پس اگر واپس لے آئے آپ کو اللہ کسی گروہ کی طرف ان (منافقین) میں سے اور اجازت مانگیں وہ آپ سے نکلنے کی تو کہہ دیجیے! ہر گز نہ نکلو گے تم میرے ساتھ کبھی بھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ (مل کر) دشمن سے، بے شک تم راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر پہلی مرتبہ، سو بیٹھو (اب بھی) پیچھے رہنے والوں کے ساتھ(83)

[81] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ۠ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر‘‘ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ﴿ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾’’اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں ‘‘ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں ، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَا تَنۡفِرُوۡا فِي الۡحَرِّ﴾ ’’نہ کوچ کرو گرمی میں ‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے‘‘

[82] کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلۡيَضۡحَكُوۡا قَلِيۡلًا وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ‘‘ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بدلہ اس کا جو کماتے تھے‘‘ انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔

[83]﴿ فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انھیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿ فَاسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ ﴾ ’’پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی‘‘ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ ’’تو ان سے کہیے‘‘ یعنی سزا کے طور پر۔ ﴿ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ ’’تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰؔلِفِيۡنَ ﴾ ’’تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے)۔‘‘کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔اس آیت کریمہ میں ان کے لیے تعزیر بھی ہے کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کر دیے گئے ہیں تو یہ چیز ان لوگوں کے لیے بھی زجروتوبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہو گی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 200

At-TawbahJuz 10 · Page 200

9:80

ٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ أَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ إِن تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِينَ مَرَّةٗ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٨٠

Ask forgiveness for them, [O Muḥammad], or do not ask forgiveness for them. If you should ask forgiveness for them seventy times - never will Allāh forgive them. That is because they disbelieved in Allāh and His Messenger, and Allāh does not guide the defiantly disobedient people.

9:81

فَرِحَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓاْ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُواْ لَا تَنفِرُواْ فِي ٱلۡحَرِّۗ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرّٗاۚ لَّوۡ كَانُواْ يَفۡقَهُونَ ٨١

Those who remained behind1 rejoiced in their staying [at home] after [the departure of] the Messenger of Allāh and disliked to strive with their wealth and their lives in the cause of Allāh and said, "Do not go forth in the heat." Say, "The fire of Hell is more intense in heat" - if they would but understand.

1 translator’s note
  1. Literally, "were left behind [as Allāh willed]" due to their false excuses having been accepted by the Prophet (ﷺ). While pleased with their assumed deception, in reality, Allāh had prevented their participation knowing of their hypocrisy and evil intent. ↩

9:82

فَلۡيَضۡحَكُواْ قَلِيلٗا وَلۡيَبۡكُواْ كَثِيرٗا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٨٢

So let them laugh a little and [then] weep much as recompense for what they used to earn.

9:83

فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٖ مِّنۡهُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِيَ أَبَدٗا وَلَن تُقَٰتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّاۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٖ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَٰلِفِينَ ٨٣

If Allāh should return you to a faction of them [after the expedition] and then they ask your permission to go out [to battle], say, "You will not go out with me, ever, and you will never fight with me an enemy. Indeed, you were satisfied with sitting [at home] the first time, so sit [now] with those who stay behind."

9:84

وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ إِنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمۡ فَٰسِقُونَ ٨٤

And do not pray [the funeral prayer, O Muḥammad], over any of them who has died - ever - or stand at his grave. Indeed, they disbelieved in Allāh and His Messenger and died while they were defiantly disobedient.

9:85

وَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ ٨٥

And let not their wealth and their children impress you. Allāh only intends to punish them through them in this world and that their souls should depart [at death] while they are disbelievers.

9:86

وَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٌ أَنۡ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُواْ مَعَ رَسُولِهِ ٱسۡتَـٔۡذَنَكَ أُوْلُواْ ٱلطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ وَقَالُواْ ذَرۡنَا نَكُن مَّعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ ٨٦

And when a sūrah was revealed [enjoining them] to believe in Allāh and to fight with His Messenger, those of wealth among them asked your permission [to stay back] and said, "Leave us to be with them who sit [at home]."

As-Sa'diTafsir · 9:83

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском