Al-BaladJuz 30 · Page 594

Al-Balad 90:4

The City · Juz 30 · Page 594

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ ٤

We have certainly created man into hardship.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 90:1–20

قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی(1) اور آپ (کے لیے لڑائی) حلال ہونے والی ہے اس شہر میں(2) او ر قسم ہے والد کی اور جسے اس نے جنا (3) البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں(4)کیا وہ سمجھتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں قادر ہو سکے گا اس پر کوئی بھی؟(5) وہ کہتا ہے لٹا دیا میں نے مال بہت زیادہ(6)کیا وہ سمجھتاہے یہ کہ نہیں دیکھا اسے کسی نے بھی؟(7)کیا نہیں بنائیں ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں؟(8) اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟(9) اور بتلا دیے ہم نے اس کو دونوں راستے (10) پس نہیں داخل ہوا وہ دشوار گھاٹی میں (11) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے وہ گھاٹی؟ (12)(وہ) چھڑانا ہے گردن کا(13)یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں(14)کسی یتیم قرابت دار کو(15)یا کسی مسکین خاک نشین کو (16) پھر ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی صبر کرنے کی اور وصیت کی رحم کرنے کی (17) یہی لوگ ہیں دائیں ہاتھ والے (18) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، وہ ہیں بائیں ہاتھ والے(19) ان پر آگ ہو گی (ہر طرف سے) بند کی ہوئی (20)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ﴿ بِهٰذَا الۡبَلَدِ﴾اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہﷺ اس شہر میں رہ رہے تھے۔ ﴿وَوَالِـدٍ وَّمَا وَلَدَ﴾ یعنی آدمu اور ان کی اولاد کی قسم!

[7-4] اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡؔ كَبَدٍ﴾ ’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو وہ برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا۔ انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے ان شدائد سے (نجات دلا کر) راحت ، اس کے لیے دائمی فرحت اور سرور کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدالآباد تک سخت عذاب کی مشقت برداشت کرتا رہے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا کیا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتا رہا، اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّنۡ يَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ اَحَدٌ﴾ ’’کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا؟‘‘ وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات پر جو مال خرچ کیا، اس پر فخر کرتا ہے، ﴿يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا﴾ ’’کہتا ہے میں نے بہت سا مال برباد کیا ہے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ’’ہلاک کرنے‘‘ سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کر کے فخر کرتا ہے، وعید سناتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ﴾ یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب لے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا، ان کو اس کے لیے محفوظ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراماً کاتبین مقرر کر دیے ہیں۔

[10-8] پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ۰۰ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِ﴾ ’’کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟‘‘ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں۔ یہ تو ہیں دنیا کی نعمتیں، پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ﴾ یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کیا۔ پس یہ بے پایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے۔

[11] مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ ﴿فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ﴾ یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا، کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے ۔

[16-12] پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔‘‘ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِيۡ يَوۡمٍ ذِيۡ مَسۡغَبَةٍ﴾ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ﴾ ’’یتیم رشتے دار کو۔‘‘ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ﴾ ’’یا مسکین خاکسار کو۔‘‘یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔

[17]﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر یمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے ، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ﴾ ’’اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے ۔‘‘ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔

[18] یہی لوگ ہیں جوان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کر دیا جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔

[20-19]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ جنھوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا ﴿ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِؕ۰۰ عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ ’’وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 594

Al-FajrJuz 30 · Page 594

89:24

يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِي ٢٤

He will say, "Oh, I wish I had sent ahead [some good] for my life."1

1 translator’s note
  1. The everlasting life of the Hereafter. ↩

89:25

فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٞ ٢٥

So on that Day, none will punish [as severely] as His punishment,

89:26

وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٞ ٢٦

And none will bind [as severely] as His binding [of the evildoers].

89:27

يَٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ ٢٧

[To the righteous it will be said], "O reassured soul,

89:28

ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ ٢٨

Return to your Lord, well-pleased and pleasing [to Him],

89:29

فَٱدۡخُلِي فِي عِبَٰدِي ٢٩

And enter among My [righteous] servants

89:30

وَٱدۡخُلِي جَنَّتِي ٣٠

And enter My Paradise."

سورة البلد

Al-Balad

The City · Meccan · 20 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

90:1

لَآ أُقۡسِمُ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ١

I swear by this city [i.e., Makkah] –

90:2

وَأَنتَ حِلُّۢ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٢

And you, [O Muḥammad], are free of restriction in this city –

90:3

وَوَالِدٖ وَمَا وَلَدَ ٣

And [by] the father1 and that which was born [of him],

1 translator’s note
  1. Said to be Adam (upon him be peace) . ↩

90:4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ ٤

We have certainly created man into hardship.

90:5

أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ ٥

Does he think that never will anyone overcome him?

90:6

يَقُولُ أَهۡلَكۡتُ مَالٗا لُّبَدًا ٦

He says, "I have spent wealth in abundance."

90:7

أَيَحۡسَبُ أَن لَّمۡ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ ٧

Does he think that no one has seen him?

90:8

أَلَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ عَيۡنَيۡنِ ٨

Have We not made for him two eyes?

90:9

وَلِسَانٗا وَشَفَتَيۡنِ ٩

And a tongue and two lips?

90:10

وَهَدَيۡنَٰهُ ٱلنَّجۡدَيۡنِ ١٠

And have shown him the two ways?1

1 translator’s note
  1. Of good and evil. ↩

90:11

فَلَا ٱقۡتَحَمَ ٱلۡعَقَبَةَ ١١

But he has not broken through the difficult pass.1

1 translator’s note
  1. i.e., the steep incline or obstacle. In other words, he has not spent in the cause of Allāh but only boasts of spending in front of others. ↩

90:12

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡعَقَبَةُ ١٢

And what can make you know what is [breaking through] the difficult pass?

90:13

فَكُّ رَقَبَةٍ ١٣

It is the freeing of a slave

90:14

أَوۡ إِطۡعَٰمٞ فِي يَوۡمٖ ذِي مَسۡغَبَةٖ ١٤

Or feeding on a day of severe hunger

90:15

يَتِيمٗا ذَا مَقۡرَبَةٍ ١٥

An orphan of near relationship

90:16

أَوۡ مِسۡكِينٗا ذَا مَتۡرَبَةٖ ١٦

Or a needy person in misery

90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡمَرۡحَمَةِ ١٧

And then being among those who believed and advised one another to patience and advised one another to compassion.

90:18

أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ ١٨

Those are the companions of the right.1

1 translator’s note
  1. Or "the companions of good fortune," i.e., those who receive their records in their right hands and proceed to Paradise. ↩

90:19

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ ١٩

But they who disbelieved in Our signs - those are the companions of the left.1

1 translator’s note
  1. Or "the companions of ill fortune," i.e., those who receive their records in their left hands and proceed to Hell. ↩

90:20

عَلَيۡهِمۡ نَارٞ مُّؤۡصَدَةُۢ ٢٠

Over them will be fire closed in.1

1 translator’s note
  1. The cover over Hell will be sealed and locked, containing its fire and its inhabitants. ↩
As-Sa'diTafsir · 90:4

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском