Ad-DuhaaJuz 30 · Page 596

Ad-Duhaa 93:2

The Morning Hours · Juz 30 · Page 596

وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ ٢

And [by] the night when it covers with darkness,1

1 translator’s note
  1. And becomes still. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 93:1–11

قسم ہے دن چڑھے کی(1) اور رات کی جب وہ چھا جائے(2)نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے رب نے اور نہ وہ (آپ سے) ناراض ہوا(3) اور یقیناً آخرت بہت بہتر ہے آپ کے لیے دنیا سے(4) اور البتہ عنقریب عطا کرے گا آپ کو آپ کا رب کہ آپ راضی ہو جائیں گے(5)کیا نہیں پایا اس نے آپ کو یتیم، پس اس نے جگہ دی (6) اور اس نے پایا آپ کو گم کردہ راہ، پس اس نے ہدایت دی (7) اور اس نے پایا آپ کو تنگ دست، پس اس نے غنی کر دیا (8) پس لیکن یتیم، تو نہ سختی کیجیے اس پر(9) اور لیکن سائل، تو نہ جھڑکیے (اسے)(10) اور لیکن نعمت اپنے رب کی، پس بیان کیجیے (اسے)(11)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے اور فرمایا: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ﴾ یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے، اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشوونماکی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ﴿ وَمَا قَلٰى﴾ ’’اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔‘‘ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا کیونکہ ضد کی نفی ، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے۔ محض نفی، جب تک کہ وہ ثبوت کمال کی متضمن نہ ہو، مدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہﷺ کے ماضی کا حال ہے جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت، اس میں استمرار، کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ سے کامل ترین حال ہے۔

[4] رہا مستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتا رہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کو درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین و آخرین نہیں پہنچ سکے ۔

[5] پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰى﴾ ’’اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔

[8-6] پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنھیں وہ جانتا ہے، آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى﴾ یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پا گئے جبکہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی ، پھر آپ کے دادا بھی وفات پا گئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰؔى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ پس اس نے آپ کو وہ علم عطاکیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔ ﴿ وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا﴾ یعنی آپ کو محتاج پایا ﴿ فَاَغۡنٰى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے ، جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا، غنی کر دیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کر دے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا، آپ کو پناہ دی، آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا، اس کی نعمت پر شکر ادا کیجیے۔

[11-9] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡ﴾ یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجیے، آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں، بلکہ اس کا اکرام کریں، جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے۔ ﴿ و َاَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡ﴾ یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات ، یعنی ڈانٹ اور تر ش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو، بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کر دیجیے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجیے۔اس میں مال کا سوال کرنے والا اور علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بنابریں معلم ، متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم و ملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ فرمایا :﴿ وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ ﴾ ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کو۔‘‘ اس میں دینی اور دنیاوی دونوں نعمتیں شامل ہیں۔ ﴿فَحَدَّثَ﴾ ’’بیان کرتا رہ۔‘‘ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجیے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا علی الاطلاق ذکر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر، اس پر شکر گزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 596

Al-LaylJuz 30 · Page 596

92:15

لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى ١٥

None will [enter to] burn therein except the most wretched one

92:16

ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ١٦

Who had denied and turned away.

92:17

وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ١٧

But the righteous one will avoid it –

92:18

ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ ١٨

[He] who gives [from] his wealth to purify himself

92:19

وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ ١٩

And not [giving] for anyone who has [done him] a favor to be rewarded1 –

1 translator’s note
  1. i.e., without intending reciprocation for some benefit to himself. ↩

92:20

إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٢٠

But only seeking the face [i.e., acceptance] of his Lord, Most High.

92:21

وَلَسَوۡفَ يَرۡضَىٰ ٢١

And he is going to be satisfied.

سورة الضحى

Ad-Duhaa

The Morning Hours · Meccan · 11 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

93:1

وَٱلضُّحَىٰ ١

By the morning brightness

93:2

وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ ٢

And [by] the night when it covers with darkness,1

1 translator’s note
  1. And becomes still. ↩

93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ٣

Your Lord has not taken leave of you, [O Muḥammad], nor has He detested [you].

93:4

وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ ٤

And the Hereafter is better for you than the first [life].

93:5

وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ ٥

And your Lord is going to give you, and you will be satisfied.

93:6

أَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيمٗا فَـَٔاوَىٰ ٦

Did He not find you an orphan and give [you] refuge?

93:7

وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ ٧

And He found you lost and guided [you],

93:8

وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ ٨

And He found you poor and made [you] self-sufficient.

93:9

فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ ٩

So as for the orphan, do not oppress [him].

93:10

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ ١٠

And as for the petitioner,1 do not repel [him].

1 translator’s note
  1. Anyone who seeks aid or knowledge. ↩

93:11

وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ١١

But as for the favor of your Lord, report [it].

سورة الشرح

Ash-Sharh

The Relief · Meccan · 8 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

94:1

أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ ١

Did We not expand for you, [O Muḥammad], your breast?1

1 translator’s note
  1. i.e., enlighten, assure and gladden your heart with guidance. ↩

94:2

وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٢

And We removed from you your burden1

1 translator’s note
  1. By forgiving any errors which you may have committed previously or might commit consequently. "Burden" can also refer to the anxiety experienced by the Prophet (ﷺ) at the beginning of his mission. ↩

94:3

ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ ٣

Which had weighed upon your back

94:4

وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ ٤

And raised high for you your repute.

94:5

فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا ٥

For indeed, with hardship [will be] ease [i.e., relief].

94:6

إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا ٦

Indeed, with hardship [will be] ease.

94:7

فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ ٧

So when you have finished [your duties], then stand up [for worship].

94:8

وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب ٨

And to your Lord direct [your] longing.

As-Sa'diTafsir · 93:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском