Ash-Sharh 94:2
The Relief · Juz 30 · Page 596
وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٢
And We removed from you your burden1
1 translator’s note
- By forgiving any errors which you may have committed previously or might commit consequently. "Burden" can also refer to the anxiety experienced by the Prophet (ﷺ) at the beginning of his mission. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 94:1–8
کیا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں کی تسہیل کے لیے کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟ پس (آپ کا سینہ) تنگ اور گھٹا ہوا نہیں تھا کہ آپ کسی بھلائی پر عمل نہ کرتے اور نہ ایسا تھا کہ آپ ان کو انبساط کی حالت میں بہت کم پاتے۔ ﴿وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ سے آپ کے گناہ کا بوجھ اتار دیا ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡقَضَ﴾ ’’جس نے توڑ رکھا تھا۔‘‘ یعنی بوجھل کیا ہوا تھا ﴿ظَهۡرَكَ﴾ ’’آپ کی کمر کو۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾(الفتح:48؍2)’’تاکہ جو گناہ آپ سے پہلے سرزد ہوئے اور جو پیچھے سرزد ہوئے، ان سب کو اللہ بخش دے۔‘‘﴿وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ﴾ یعنی ہم نے آپ کی قدر و منزلت بلند کی، ہم نے آپ کو ثنائے حسن اور ذکر بلند سے سرفراز کیا جہاں آج تک مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں پہنچ سکی۔ پس جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً: اسلام میں داخل ہوتے وقت، اذان اور اقامت کے اندر، خطبوں اور دیگر امور میں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔ امت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کے لیے جو محبت، تعظیم اور اجلال ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی امت کی طرف سے افضل ترین جزائے خیر عطا کرے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہے۔
[5، 6] اللہ تعالیٰ کا ارشاد :﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًاۙ۰۰اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا﴾ ’’بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ جب بھی کوئی تنگی اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔
[7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ ’’پس متوجہ ہوجائیں۔‘‘ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
Page 596
92:15
لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى ١٥
None will [enter to] burn therein except the most wretched one
92:16
ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ١٦
Who had denied and turned away.
92:17
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ١٧
But the righteous one will avoid it –
92:18
ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ ١٨
[He] who gives [from] his wealth to purify himself
92:19
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ ١٩
And not [giving] for anyone who has [done him] a favor to be rewarded1 –
1 translator’s note
- i.e., without intending reciprocation for some benefit to himself. ↩
92:20
إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٢٠
But only seeking the face [i.e., acceptance] of his Lord, Most High.
92:21
وَلَسَوۡفَ يَرۡضَىٰ ٢١
And he is going to be satisfied.
سورة الضحى
Ad-Duhaa
The Morning Hours · Meccan · 11 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
93:1
وَٱلضُّحَىٰ ١
By the morning brightness
93:2
وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ ٢
And [by] the night when it covers with darkness,1
1 translator’s note
- And becomes still. ↩
93:3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ٣
Your Lord has not taken leave of you, [O Muḥammad], nor has He detested [you].
93:4
وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ ٤
And the Hereafter is better for you than the first [life].
93:5
وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ ٥
And your Lord is going to give you, and you will be satisfied.
93:6
أَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيمٗا فَـَٔاوَىٰ ٦
Did He not find you an orphan and give [you] refuge?
93:7
وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ ٧
And He found you lost and guided [you],
93:8
وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ ٨
And He found you poor and made [you] self-sufficient.
93:9
فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ ٩
So as for the orphan, do not oppress [him].
93:10
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ ١٠
And as for the petitioner,1 do not repel [him].
1 translator’s note
- Anyone who seeks aid or knowledge. ↩
93:11
وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ١١
But as for the favor of your Lord, report [it].
سورة الشرح
Ash-Sharh
The Relief · Meccan · 8 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
94:1
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ ١
Did We not expand for you, [O Muḥammad], your breast?1
1 translator’s note
- i.e., enlighten, assure and gladden your heart with guidance. ↩
94:2
وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٢
And We removed from you your burden1
1 translator’s note
- By forgiving any errors which you may have committed previously or might commit consequently. "Burden" can also refer to the anxiety experienced by the Prophet (ﷺ) at the beginning of his mission. ↩
94:3
ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ ٣
Which had weighed upon your back
94:4
وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ ٤
And raised high for you your repute.
94:5
فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا ٥
For indeed, with hardship [will be] ease [i.e., relief].
94:6
إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا ٦
Indeed, with hardship [will be] ease.
94:7
فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ ٧
So when you have finished [your duties], then stand up [for worship].
94:8
وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب ٨
And to your Lord direct [your] longing.