At-Tin 95:5
The Fig · Juz 30 · Page 597
ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ٥
Then We return him to the lowest of the low,1
1 translator’s note
- This can refer to the depths of Hell, to decrepit old age or to immorality. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 95:1–8
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی(1) اور طور سیناء کی(2) اور اس پر امن شہر (مکہ)کی(3) البتہ یقیناً ہم نے پیدا کیاانسان کو بہترین شکل و صورت میں(4) پھر ہم نے لوٹا ( یعنی کر) دیا اس کو پست تر پستوں سے بھی(5) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(6) پس کون سی چیز تجھے جھٹلانے (پر آمادہ) کرتی ہے (اے انسان!) اس کے بعدجزاکو؟(7) کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿اَلتِّيۡن﴾ انجیر کا معروف درخت اور اسی طرح ﴿اَلزَّيۡتُوۡن﴾ زیتون بھی ایک معروف درخت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم ان کے اور ان کے پھل کے کثیر الفوائد ہونے کی بنا پر کھائی ہے، نیز اس بنا پر قسم کھائی ہے کہ ان دونوں درختوں کی ارض شام (فلسطین) میں جو حضرت عیسیٰ ابن مریمi کی نبوت کا محل و مقام ہے، کثرت ہے۔ ﴿وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ﴾ ’’طور سیناء کی قسم!‘‘ جو حضرت موسیٰu کی نبوت کا مقام ہے۔ ﴿وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾ ’’اور اس امن والے شہر کی۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جو رسول مصطفیٰ محمدﷺ کی نبوت کا محل و مقام ہے۔ پس اللہ تبارک نے ان مقامات مقدسہ کی قسم کھائی جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور جہاں تمام انبیاء میں سب سے زیادہ شرف و فضیلت کے حامل نبی مبعوث ہوئے۔
[4] اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾ ’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضاء اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے، اس سے محروم نہیں۔
[5، 6] ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا ، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمۡ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔
[7، 8]﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالـدِّيۡنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰؔكِمِيۡنَ﴾ ’’کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟‘‘ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی ، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔
Page 597
سورة التين
At-Tin
The Fig · Meccan · 8 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
95:1
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ ١
By the fig and the olive1
1 translator’s note
- Referring to the places known for their production, i.e., Damascus and Jerusalem, respectively. It could also refer to the fig and olive trees or to the fruits themselves. ↩
95:2
وَطُورِ سِينِينَ ٢
And [by] Mount Sinai
95:3
وَهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٱلۡأَمِينِ ٣
And [by] this secure city [i.e., Makkah],
95:4
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ٤
We have certainly created man in the best of stature;1
1 translator’s note
- i.e., upright, symmetrical, and balanced in form and nature. ↩
95:5
ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ٥
Then We return him to the lowest of the low,1
1 translator’s note
- This can refer to the depths of Hell, to decrepit old age or to immorality. ↩
95:6
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ ٦
Except for those who believe and do righteous deeds, for they will have a reward uninterrupted.
95:7
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِٱلدِّينِ ٧
So what yet causes you to deny the Recompense?1
1 translator’s note
- More literally, "What makes you lie concerning it?" ↩
95:8
أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٨
Is not Allāh the most just of judges?
سورة العلق
Al-'Alaq
The Clot · Meccan · 19 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
96:1
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ ١
Recite in the name of your Lord who created –
96:2
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٢
Created man from a clinging substance.
96:3
ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٣
Recite, and your Lord is the most Generous -
96:4
ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ٤
Who taught by the pen –
96:5
عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ ٥
Taught man that which he knew not.
96:6
كـَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ ٦
No! [But] indeed, man transgresses
96:7
أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ ٧
Because he sees himself self-sufficient.
96:8
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ ٨
Indeed, to your Lord is the return.
96:9
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يَنۡهَىٰ ٩
Have you seen the one who forbids
96:10
عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ ١٠
A servant when he prays?
96:11
أَرَءَيۡتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلۡهُدَىٰٓ ١١
Have you seen if he is upon guidance
96:12
أَوۡ أَمَرَ بِٱلتَّقۡوَىٰٓ ١٢
Or enjoins righteousness?
96:13
أَرَءَيۡتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ١٣
Have you seen if he denies and turns away -
96:14
أَلَمۡ يَعۡلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ١٤
Does he not know that Allāh sees?
96:15
كـَلَّا لَئِن لَّمۡ يَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ١٥
No! If he does not desist, We will surely drag him by the forelock1 –
1 translator’s note
- It may also mean "slap him" or "blacken his face at the forelock." ↩
96:16
نَاصِيَةٖ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٖ ١٦
A lying, sinning forelock.
96:17
فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهُۥ ١٧
Then let him call his associates;
96:18
سَنَدۡعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ١٨
We will call the angels of Hell.1
1 translator’s note
- Those who push the wicked into the Fire. ↩
96:19
كـَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡۤ وَٱقۡتَرِب۩ ١٩
No! Do not obey him. But prostrate and draw near [to Allāh].