Al-'AlaqJuz 30 · Page 597

Al-'Alaq 96:1

The Clot · Juz 30 · Page 597

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ ١

Recite in the name of your Lord who created –

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 96:1–19

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔

[2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔

[5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔

[8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔

[14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟

[15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔

[17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔

[19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 597

At-TinJuz 30 · Page 597

سورة التين

At-Tin

The Fig · Meccan · 8 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

95:1

وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ ١

By the fig and the olive1

1 translator’s note
  1. Referring to the places known for their production, i.e., Damascus and Jerusalem, respectively. It could also refer to the fig and olive trees or to the fruits themselves. ↩

95:2

وَطُورِ سِينِينَ ٢

And [by] Mount Sinai

95:3

وَهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٱلۡأَمِينِ ٣

And [by] this secure city [i.e., Makkah],

95:4

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ٤

We have certainly created man in the best of stature;1

1 translator’s note
  1. i.e., upright, symmetrical, and balanced in form and nature. ↩

95:5

ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ٥

Then We return him to the lowest of the low,1

1 translator’s note
  1. This can refer to the depths of Hell, to decrepit old age or to immorality. ↩

95:6

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ ٦

Except for those who believe and do righteous deeds, for they will have a reward uninterrupted.

95:7

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِٱلدِّينِ ٧

So what yet causes you to deny the Recompense?1

1 translator’s note
  1. More literally, "What makes you lie concerning it?" ↩

95:8

أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٨

Is not Allāh the most just of judges?

سورة العلق

Al-'Alaq

The Clot · Meccan · 19 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

96:1

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ ١

Recite in the name of your Lord who created –

96:2

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٢

Created man from a clinging substance.

96:3

ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٣

Recite, and your Lord is the most Generous -

96:4

ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ٤

Who taught by the pen –

96:5

عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ ٥

Taught man that which he knew not.

96:6

كـَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ ٦

No! [But] indeed, man transgresses

96:7

أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ ٧

Because he sees himself self-sufficient.

96:8

إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ ٨

Indeed, to your Lord is the return.

96:9

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يَنۡهَىٰ ٩

Have you seen the one who forbids

96:10

عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ ١٠

A servant when he prays?

96:11

أَرَءَيۡتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلۡهُدَىٰٓ ١١

Have you seen if he is upon guidance

96:12

أَوۡ أَمَرَ بِٱلتَّقۡوَىٰٓ ١٢

Or enjoins righteousness?

96:13

أَرَءَيۡتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ١٣

Have you seen if he denies and turns away -

96:14

أَلَمۡ يَعۡلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ١٤

Does he not know that Allāh sees?

96:15

كـَلَّا لَئِن لَّمۡ يَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ١٥

No! If he does not desist, We will surely drag him by the forelock1 –

1 translator’s note
  1. It may also mean "slap him" or "blacken his face at the forelock." ↩

96:16

نَاصِيَةٖ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٖ ١٦

A lying, sinning forelock.

96:17

فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهُۥ ١٧

Then let him call his associates;

96:18

سَنَدۡعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ١٨

We will call the angels of Hell.1

1 translator’s note
  1. Those who push the wicked into the Fire. ↩

96:19

كـَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡۤ وَٱقۡتَرِب۩ ١٩

No! Do not obey him. But prostrate and draw near [to Allāh].

As-Sa'diTafsir · 96:1

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском