Al-Bayyinah 98:8
The Clear Proof · Juz 30 · Page 599
جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ ٨
Their reward with their Lord will be gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, Allāh being pleased with them and they with Him. That is for whoever has feared his Lord.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 98:1–8
نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔
[2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔
[4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
[5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔
[7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔
[8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔
Page 599
98:8
جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ ٨
Their reward with their Lord will be gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, Allāh being pleased with them and they with Him. That is for whoever has feared his Lord.
سورة الزلزلة
Az-Zalzalah
The Earthquake · Medinan · 8 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
99:1
إِذَا زُلۡزِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ زِلۡزَالَهَا ١
When the earth is shaken with its [final] earthquake
99:2
وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا ٢
And the earth discharges its burdens1
1 translator’s note
- See verse 84:4. ↩
99:3
وَقَالَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا لَهَا ٣
And man says,1 "What is [wrong] with it?" -
1 translator’s note
- In terror and amazement. ↩
99:4
يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا ٤
That Day, it will report its news
99:5
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا ٥
Because your Lord has inspired [i.e., commanded] it.
99:6
يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٦
That Day, the people will depart1 separated [into categories] to be shown [the result of] their deeds.
1 translator’s note
- From the place of Judgement to their final abode. Another interpretation is "emerge separately" (from the graves) . ↩
99:7
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧
So whoever does an atom's weight1 of good will see it,
1 translator’s note
- Or "the weight of a small ant." ↩
99:8
وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ ٨
And whoever does an atom's weight of evil will see it.
سورة العاديات
Al-'Adiyat
The Courser · Meccan · 11 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
100:1
وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا ١
By the racers, panting,1
1 translator’s note
- i.e., the horses bearing riders as they race to attack the enemy. ↩
100:2
فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا ٢
And the producers of sparks [when] striking1
1 translator’s note
- Their hoofs while galloping over rocky terrain. ↩
100:3
فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا ٣
And the chargers at dawn,1
1 translator’s note
- While the enemy is unaware. ↩
100:4
فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا ٤
Stirring up thereby [clouds of] dust,
100:5
فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا ٥
Arriving thereby in the center1 collectively,
1 translator’s note
- i.e., penetrating into the enemy ranks during a surprise attack. ↩
100:6
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ ٦
Indeed mankind, to his Lord, is ungrateful.
100:7
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ ٧
And indeed, he is to that a witness.1
1 translator’s note
- Through his speech and his actions. ↩
100:8
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ ٨
And indeed he is, in love of wealth, intense.
100:9
۞ أَفَلَا يَعۡلَمُ إِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي ٱلۡقُبُورِ ٩
But does he not know that when the contents of the graves are scattered