ХудДжуз 12 · Страница 234

Худ 11:110

Худ · Джуз 12 · Страница 234

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ١١٠

Мы даровали Мусе (Моисею) Писание, но по его поводу возникли разногласия. И если бы не было прежде Слова от твоего Господа, то спор их был бы решен. Воистину, они испытывают смутные сомнения относительно него (Корана).

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 11:110–113

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)

[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔

[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔

[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔

[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 234

ХудДжуз 12 · Страница 234

11:109

فَلَا تَكُ فِي مِرۡيَةٖ مِّمَّا يَعۡبُدُ هَٰٓؤُلَآءِۚ مَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبۡلُۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمۡ نَصِيبَهُمۡ غَيۡرَ مَنقُوصٖ ١٠٩

Не сомневайся в том, чему они поклоняются. Они поклоняются тем, кому прежде поклонялись их отцы. Воистину, Мы воздадим им сполна, без убавления.

11:110

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ١١٠

Мы даровали Мусе (Моисею) Писание, но по его поводу возникли разногласия. И если бы не было прежде Слова от твоего Господа, то спор их был бы решен. Воистину, они испытывают смутные сомнения относительно него (Корана).

11:111

وَإِنَّ كُلّٗا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ أَعۡمَٰلَهُمۡۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١١١

Воистину, твой Господь воздаст сполна каждому из них за его деяния, ведь Он знает о том, что они совершают.

11:112

فَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡاْۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ١١٢

Будь же тверд на прямом пути, как тебе велено, вместе с теми, кто покаялся наряду с тобой. И не преступайте границ дозволенного, ибо Он видит то, что вы совершаете.

11:113

وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ١١٣

Не склоняйтесь на сторону беззаконников, дабы вас не коснулся Огонь. Нет у вас покровителей и помощников, кроме Аллаха, и тогда никто вам не окажет поддержки.

11:114

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ ذَٰلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ ١١٤

Совершай намаз в начале и конце дня и в некоторые часы ночи. Воистину, добрые деяния удаляют злодеяния. Это - Напоминание для поминающих.

11:115

وَٱصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١١٥

Терпи, ибо Аллах не теряет вознаграждения творящих добро.

11:116

فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُوْلُواْ بَقِيَّةٖ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّنۡ أَنجَيۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَآ أُتۡرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجۡرِمِينَ ١١٦

Если бы только среди поколений, живших до вас, были мудрые люди, которые выступали бы против нечестия на земле. Такими были лишь немногие из числа тех, кого Мы спасли. А беззаконники последовали за тем, что было даровано им, и стали грешниками.

11:117

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ بِظُلۡمٖ وَأَهۡلُهَا مُصۡلِحُونَ ١١٧

Твой Господь не станет губить города по несправедливости, если они праведны.

Ас-СаадиТафсир · 11:110

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English