Худ 11:12
Худ · Джуз 12 · Страница 222
فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٞۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٌ ١٢
Быть может, ты отбросишь часть ниспосланного тебе в откровении, и твое сердце сожмется от этого, потому что они говорят: «Почему ему не ниспосланы сокровища или ангел не явился вместе с ним?». Но ведь ты - всего лишь предостерегающий увещеватель, а Аллах - Попечитель и Хранитель всякой вещи.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 11:12–14
پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
[14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘
Страница 222
11:6
۞ وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ ٦
Нет на земле ни единого живого существа, которого Аллах не обеспечивал бы пропитанием. Аллах знает их место пребывания и место хранения (утробы матерей или могилы). Все это записано в ясном Писании.
11:7
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَكَانَ عَرۡشُهُۥ عَلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ وَلَئِن قُلۡتَ إِنَّكُم مَّبۡعُوثُونَ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡمَوۡتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧
Он - Тот, Кто создал небеса и землю за шесть дней, когда Его Трон находился на воде, дабы испытать, чьи деяния будут лучше. Если ты скажешь: «Вы будете воскрешены после смерти», - то неверующие скажут: «Это - не что иное, как очевидное колдовство!».
11:8
وَلَئِنۡ أَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٖ مَّعۡدُودَةٖ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحۡبِسُهُۥٓۗ أَلَا يَوۡمَ يَأۡتِيهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٨
Если Мы отложим наказание их до определенного срока, то они скажут: «Что же удерживает его?». Воистину, в тот день, когда оно постигнет их, ничто не отвратит его, и окружит (или поразит) их то, над чем они насмехались.
11:9
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ ثُمَّ نَزَعۡنَٰهَا مِنۡهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٞ كَفُورٞ ٩
Если Мы дадим человеку вкусить милость, а потом отберем это, то он отчаивается и становится неблагодарным.
11:10
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّيٓۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٞ فَخُورٌ ١٠
Если же Мы дадим ему вкусить милость после постигшей его беды, то он говорит: «Напасти оставили меня в покое». Он начинает ликовать и бахвалиться.
11:11
إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١١
И только тем, которые терпели и совершали праведные деяния, уготованы прощение и великая награда.
11:12
فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٞۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٌ ١٢
Быть может, ты отбросишь часть ниспосланного тебе в откровении, и твое сердце сожмется от этого, потому что они говорят: «Почему ему не ниспосланы сокровища или ангел не явился вместе с ним?». Но ведь ты - всего лишь предостерегающий увещеватель, а Аллах - Попечитель и Хранитель всякой вещи.