Юсуф 12:99
Йусуф · Джуз 13 · Страница 247
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَبَوَيۡهِ وَقَالَ ٱدۡخُلُواْ مِصۡرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩
Когда они вошли к Йусуфу (Иосифу), он прижал к себе родителей и сказал: «Входите в Египет без опаски, если этого пожелает Аллах».
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 12:99–100
پس جب داخل ہوئے وہ اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو اور کہا، داخل ہو تم مصر میں اگر چاہا اللہ نے امن سے (99) اور اس نے اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو اوپر تخت کےاورگر پڑے وہ سب واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئےاور یوسف نے کہا، اے میرے باپ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے (دیکھا) تھا، تحقیق کر دیا ہے اسے میرے رب نے سچااور تحقیق احسان کیا اس نے میرے ساتھ جب اس نے نکالا مجھے قید خانے سے اور لے آیا تمھیں (یہاں ) صحرا سے، بعد اس کے کہ اختلاف ڈال دیا تھا شیطان نے درمیان میرے اور درمیان بھائیوں کے، بے شک میرا رب خوب تدبیر کرنے والا ہے واسطے اس کے جو وہ چاہتا ہے، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(100)
[99]﴿فَلَمَّا ﴾ جب یعقوبu، ان کے بیٹے اور تمام گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین سے روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسفu کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا۔ پس جب وہ مصر پہنچ گئے ﴿دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ ﴾ ’’وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یعنی حضرت یوسفu نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک اور نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ ﴿وَقَالَ ﴾ اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا: ﴿ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو مصر میں ، اگر اللہ نے چاہا، بے خوف ہو کر‘‘ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔
[100]﴿وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر‘‘ یعنی انھیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا ﴿ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا﴾ ’’اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔‘‘ یعنی یوسفu کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لیے ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ ﴿وَقَالَ﴾ جب یوسفu نے انھیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں تو کہنے لگے: ﴿ يٰۤاَ بَتِ هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ابا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا‘‘ یعنی جب یوسفu نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انھیں سجدہ کر رہے ہیں ۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ ﴿ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّيۡ حَقًّا ﴾ ’’میرے رب نے اسے سچ کردیا۔‘‘ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ ﴿ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِيۡۤ ﴾ ’’اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا‘‘ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَنِيۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ ﴾ ’’جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں )لے آیا‘‘ یہ یوسفu کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے لیے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر کیا۔یوسفu نے یہ پیرایہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ’’تمھیں بھوک اور بدحالی سے نکال کر یہاں لایا‘‘ نہ یہ کہا ’’اس نے تم پر احسان کیا‘‘ بلکہ کہا ’’اس نے مجھ پر احسان فرمایا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف سے بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا‘‘ اور یہ نہیں کہا: ﴿نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’شیطان نے میرے بھائیوں کو بہکا دیا‘‘ بلکہ پیرایہ یہ استعمال کیا گیا گویا گناہ اور جہالت دونوں طرف سے صادر ہوئی… تمام ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے شیطان کو رسوا کر کے دھتکار دیا اور اس انتہائی تکلیف دہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں پھر اکٹھا کر دیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ﴾ ’’بے شک میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنے کرم اور احسان سے اس طرح نوازتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا اور بعض ناپسندیدہ امور کے ذریعے سے بلند ترین منازل پر پہنچا دیتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا۔‘‘ یعنی وہ تمام معاملات کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے تو وہ، بندوں کے ضمیر میں نہاں رازوں کو بھی جانتا ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے اور تمام امور کو ان کے اوقات مقررہ پر وقوع پذیر کرتا ہے۔
Страница 247
12:96
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلۡبَشِيرُ أَلۡقَىٰهُ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ فَٱرۡتَدَّ بَصِيرٗاۖ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٩٦
Когда же прибыл добрый вестник, накинул рубаху на его лицо и тот прозрел, он сказал: «Разве я не говорил вам, что мне известно от Аллаха то, чего вы не знаете?».
12:97
قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ ٩٧
Они сказали: «Отец наш! Попроси прощения нашим грехам. Воистину, мы были грешниками».
12:98
قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٩٨
Он сказал: «Я попрошу моего Господа простить вас, ведь Он - Прощающий, Милосердный».
12:99
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَبَوَيۡهِ وَقَالَ ٱدۡخُلُواْ مِصۡرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩
Когда они вошли к Йусуфу (Иосифу), он прижал к себе родителей и сказал: «Входите в Египет без опаски, если этого пожелает Аллах».
12:100
وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأۡوِيلُ رُءۡيَٰيَ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّي حَقّٗاۖ وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلۡبَدۡوِ مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٞ لِّمَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ١٠٠
Он поднял своих родителей на трон, и они вместе с братьями пали ниц перед ним. Он сказал: «Отец мой! Это - толкование моего давнего сна. Господь мой сделал его явью. Он облагодетельствовал меня, освободив из темницы, и привел вас из пустыни после того, как дьявол посеял вражду между мною и моими братьями. Воистину, мой Господь добр, к кому пожелает. Воистину, Он - Знающий, Мудрый.
12:101
۞ رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ ١٠١
Господи! Ты даровал мне власть и научил толковать сновидения. Творец небес и земли! Ты - мой Покровитель в этом мире и в Последней жизни. Умертви меня мусульманином и присоедини меня к праведникам».
12:102
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۖ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ أَجۡمَعُوٓاْ أَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُونَ ١٠٢
Все это - часть повествований о сокровенном, которые Мы ниспосылаем тебе в откровении. Ты не был с ними, когда они вместе принимали решение и строили козни.
12:103
وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ ١٠٣
Большая часть людей не уверует, даже если ты страстно будешь желать этого.