Аль-Хиджр 15:19
Хиджр · Джуз 14 · Страница 263
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡزُونٖ ١٩
Мы простерли землю, поместили на ней незыблемые горы и взрастили на ней в меру всякие вещи.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 15:16–20
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
Страница 263
15:16
وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ ١٦
Воистину, Мы воздвигли на небе созвездия и украсили его для тех, кто смотрит.
15:17
وَحَفِظۡنَٰهَا مِن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٍ ١٧
Мы предохранили его от всякого дьявола изгнанного, побиваемого.
15:18
إِلَّا مَنِ ٱسۡتَرَقَ ٱلسَّمۡعَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ مُّبِينٞ ١٨
А если он станет подслушивать украдкой, то за ним последует яркий светоч.
15:19
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡزُونٖ ١٩
Мы простерли землю, поместили на ней незыблемые горы и взрастили на ней в меру всякие вещи.
15:20
وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسۡتُمۡ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ ٢٠
Мы предоставили на земле пропитание вам и тем, кого вы не кормите.
15:21
وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٖ مَّعۡلُومٖ ٢١
Нет таких вещей, хранилищ которых не было бы у Нас, и ниспосылаем Мы их только в известной мере.
15:22
وَأَرۡسَلۡنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَسۡقَيۡنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمۡ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ ٢٢
Мы послали ветры, оплодотворяющие облака водой, а потом низвели с неба воду и напоили вас ею, но не вам ее сберегать.
15:23
وَإِنَّا لَنَحۡنُ نُحۡيِۦ وَنُمِيتُ وَنَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثُونَ ٢٣
Воистину, Мы даруем жизнь и умерщвляем, и Мы наследуем.
15:24
وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَقۡدِمِينَ مِنكُمۡ وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَـٔۡخِرِينَ ٢٤
Воистину, Мы знаем тех, кто жил прежде, и тех, кому суждено жить после них.
15:25
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ٢٥
Воистину, твой Господь соберет их всех, ведь Он - Мудрый, Знающий.
15:26
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٢٦
Мы сотворили человека из сухой звонкой глины, полученной из видоизмененной грязи.
15:27
وَٱلۡجَآنَّ خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ ٢٧
А еще раньше Мы сотворили джиннов из палящего пламени.
15:28
وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٢٨
Вот твой Господь сказал ангелам: «Воистину, я сотворю человека из сухой звонкой глины, полученной из видоизмененной грязи.
15:29
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٢٩
Когда же Я придам ему соразмерный облик и вдохну в него от Моего духа, то падите перед ним ниц».
15:30
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٣٠
Все ангелы до единого пали ниц,
15:31
إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ ٣١
за исключением Иблиса, который отказался быть в числе павших ниц.