Аль-Кахф 18:57
Пещера · Джуз 15 · Страница 300
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا ٥٧
Кто может быть несправедливее того, кому напомнили о знамениях его Господа, а он отвернулся от них и забыл то, что совершили его руки? Мы накинули на их сердца покрывала, чтобы они не постигли его (Коран), а их уши поражены глухотой. Если даже ты призовешь их на прямой путь, они никогда не последуют прямым путем.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 18:57–59
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ وہ نصیحت کیا گیا ساتھ آیات کے اپنے رب کی تو اعراض کیا اس نے ان سےاور بھول گیا وہ، جو کچھ کہ آگے بھیجا تھااس کے دونوں ہاتھوں نے، بلاشبہ ہم نے کردیے اوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس (قرآن) کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور اگر آپ بلائیں ان کو ہدایت کی طرف تو ہرگز نہ ہدایت پائیں گے وہ اس وقت کبھی بھی (57) اور آپ کا رب تو بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑے ان کو بسبب ان کے جو (عمل) کمائے انھوں نے تو یقینا جلدی لے آئے ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، ہرگز نہیں پائیں گے وہ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (58) اور یہ بستیاں ، ہلاک کیا ہم نے ان (کے باشندوں ) کو، جب انھوں نے ظلم کیااور کر دیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں ۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰؔى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ ’’اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی‘‘ کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
[58] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بے پایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا… گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡىِٕلًا﴾ ’’بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ‘‘ یعنی ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انھیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار…
[59] اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلۡكَ الۡقُرٰۤى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور یہ بستیاں ، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ‘‘ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
Страница 300
18:54
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا ٥٤
Мы разъяснили людям в этом Коране любые притчи, но человек больше всего склонен препираться.
18:55
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا ٥٥
Что же помешало людям уверовать, когда к ним явилось верное руководство, и попросить прощения у своего Господа, если не стремление к участи первых поколений и мучениям, которые предстанут перед ними лицом к лицу?
18:56
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا ٥٦
Мы отправляем посланников только добрыми вестниками и предостерегающими увещевателями. Однако неверующие препираются посредством лживых доводов, чтобы опровергнуть ими истину, и насмехаются над Моими знамениями и тем, от чего их предостерегают.
18:57
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا ٥٧
Кто может быть несправедливее того, кому напомнили о знамениях его Господа, а он отвернулся от них и забыл то, что совершили его руки? Мы накинули на их сердца покрывала, чтобы они не постигли его (Коран), а их уши поражены глухотой. Если даже ты призовешь их на прямой путь, они никогда не последуют прямым путем.
18:58
وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَۚ بَل لَّهُم مَّوۡعِدٞ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡئِلٗا ٥٨
Твой Господь - Прощающий, Обладающий милосердием. Если бы Он стал наказывать их за то, что они приобрели, то ускорил бы их мучения, но для них назначен срок, и они не найдут от него спасения.
18:59
وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدٗا ٥٩
Мы погубили эти города, когда они стали поступать несправедливо, и установили для их погибели срок.
18:60
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِيَ حُقُبٗا ٦٠
Вот Муса (Моисей) сказал своему слуге: «Я не остановлюсь, пока не дойду до места слияния двух морей или пока не потрачу на путешествие долгие годы».
18:61
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ سَرَبٗا ٦١
Когда они дошли до места их слияния, они забыли свою рыбу, и она двинулась в путь по морю, словно по подземному ходу.