Аль-БакараДжуз 2 · Страница 22

Аль-Бакара 2:145

Корова · Джуз 2 · Страница 22

وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٖ قِبۡلَتَهُمۡۚ وَمَا بَعۡضُهُم بِتَابِعٖ قِبۡلَةَ بَعۡضٖۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ إِنَّكَ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٥

Какое бы знамение ты ни показал тем, кому было даровано Писание, они все равно не станут обращаться к твоей кибле, а ты не станешь обращаться к их кибле. Никто не станет обращаться к кибле других. А если ты станешь потакать их желаниям после того, как к тебе явилось знание, то тогда ты окажешься в числе беззаконников.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аяту 2:145

اور البتہ اگر لے آئیں آپ ان لوگوں کے پاس جو دیے گئے کتاب، ہر قسم کی نشانی، تب بھی وہ نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلے کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ بعض ان کا پیروی کرنے والا ہے بعض کے قبلے کی، اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو یقینا ًآپ اس وقت ہو جائیں گے ظالموں میں سے(145)

[145] نبی اکرمﷺمخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انھیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کر دیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انھی میں سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے محمدﷺکا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا ﴿وَلَىِٕنۡ اَتَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ﴾ ’’اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔‘‘ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کر دیں ﴿مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ﴾ ’’تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔‘‘ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انھوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہو گیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کر دیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد(ﷺ) یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِـعٍ قِبۡلَتَهُمۡ﴾(وَلَا تَتَّبِـعْ) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہﷺان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْا بِکُلِّ آیَۃٍ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہو جاتا ہے تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں۔ کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا)﴿وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’ان کی خواہشات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دِینَھُمْ) ’’ان کا دین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے۔ اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾(الجاثیہ : 45؍23) ’’بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟‘‘ ﴿مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ﴾ ’’اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔‘‘ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں ﴿اِنَّكَ اِذًا﴾ ’’تب آپ‘‘ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی۔ یہ احتراز ہے تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے۔ خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہﷺسے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے، نیز اگر رسول اللہﷺنے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلّا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند مرتبہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 22

Аль-БакараДжуз 2 · Страница 22

2:142

۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمۡ عَن قِبۡلَتِهِمُ ٱلَّتِي كَانُواْ عَلَيۡهَاۚ قُل لِّلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ١٤٢

Глупые люди скажут: «Что заставило их отвернуться от киблы, к которой они поворачивались лицом прежде?». Скажи: «Восток и запад принадлежат Аллаху. Он наставляет, кого пожелает, на прямой путь».

2:143

وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدٗاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ١٤٣

Мы сделали вас общиной, придерживающейся середины, чтобы вы свидетельствовали обо всем человечестве, а Посланник свидетельствовал о вас самих. Мы назначили киблу, к которой ты поворачивался лицом прежде, только для того, чтобы отличить тех, кто последует за Посланником, от тех, кто повернется вспять. Это оказалось тяжело для всех, кроме тех, кого Аллах повел прямым путем. Аллах никогда не даст пропасть вашей вере. Воистину, Аллах сострадателен и милосерден к людям.

2:144

قَدۡ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي ٱلسَّمَآءِۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةٗ تَرۡضَىٰهَاۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَيَعۡلَمُونَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ ١٤٤

Мы видели, как ты обращал свое лицо к небу, и Мы обратим тебя к кибле, которой ты останешься доволен. Обрати же свое лицо в сторону Заповедной мечети. Где бы вы ни были, обращайте ваши лица в ее сторону. Воистину, те, которым даровано Писание, знают, что такова истина от их Господа. Аллах не пребывает в неведении относительно того, что они совершают.

2:145

وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٖ قِبۡلَتَهُمۡۚ وَمَا بَعۡضُهُم بِتَابِعٖ قِبۡلَةَ بَعۡضٖۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ إِنَّكَ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٥

Какое бы знамение ты ни показал тем, кому было даровано Писание, они все равно не станут обращаться к твоей кибле, а ты не станешь обращаться к их кибле. Никто не станет обращаться к кибле других. А если ты станешь потакать их желаниям после того, как к тебе явилось знание, то тогда ты окажешься в числе беззаконников.

Ас-СаадиТафсир · 2:145

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English