Аль-БакараДжуз 2 · Страница 26

Аль-Бакара 2:173

Корова · Джуз 2 · Страница 26

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٧٣

Он запретил вам мертвечину, кровь, мясо свиньи и то, что принесено в жертву не ради Аллаха. Если же кто-либо вынужден пойти на это, не домогаясь запретного, не проявляя ослушания и не преступая пределы необходимого, то нет на нем греха. Воистину, Аллах - Прощающий, Милосердный.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 2:172–173

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور شکر کرو اللہ کا، اگر ہو تم اسی کی عبادت کرتے(172) بس صرف اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت سور کا اور وہ چیز کہ پکاری گئی وہ غیر اللہ کے لیے، پھر جو شخص ناچار کر دیا گیا (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکشی کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(173)

[172] عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامر و نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انھیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا﴾(المومنون : 23؍51) ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔‘‘ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو‘‘ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔

[173] جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنی ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجیے سورۃ الانعام؍145:مترجم)﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔‘‘ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ’’طیبات‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ حَلَالًا طَیِّبًا سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا :﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ﴾ ’’جو کوئی ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبر و اکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر مجبور ہو جائے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو‘‘ یعنی سخت بھوکا نہ ہونے اور حلال کھانے پر قدرت رکھنے کے باوجود وہ حرام کھانے کا طلبگار نہ ہو۔ ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو‘‘ یعنی اضطراری حالت میں جتنی مقدار میں اس کے لیے یہ حرام کھانا جائز ہے اس مقدار سے تجاوز نہ کرے۔ ﴿ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ﴾ ’’تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی اضطراری حالت میں یہ محرمات تناول کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور جب گناہ اٹھ گیا تو معاملہ اسی (اباحت اصلی کی) حالت پر چلا گیا جو کہ تحریم سے پہلے تھی۔ انسان اس اضطراری حالت میں حرام کھانے پر مامور ہے، بلکہ اسے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے آپ کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے، تب اس پر حرام کھانا فرض ہے۔ اگر وہ اضطراری حالت میں حرام نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے تو گناہ گار اور خودکشی کا مرتکب ہو گا۔ یہ اباحت اور وسعت اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کا اختتام اپنے ان دو اسمائے گرامی کے ساتھ کیا ہے جو غایت درجہ تک اس مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چونکہ ان کی حلت ان دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے اور اس حالت میں انسان بسا اوقات اچھی طرح تحقیق کرنے سے قاصر رہتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ بخشنے والا ہے پس اگر اس حالت میں اس سے خطا سرزد ہو جائے تو وہ بخش دے گا، خاص طور پر اس حالت میں جبکہ اس پر ضرورت غالب آجائے اور مشقت اس کے حواس کو مضمحل کر دے۔ اس آیت کریمہ میں مشہور فقہی قاعدہ (اَلضرورات تبیح المحظورات) ’’ضرورت حرام کو مباح کر دیتی ہے‘‘ کی دلیل ہے۔ پس ہر حرام چیز، جس کے استعمال کرنے پر انسان مجبور ہو جائے تو اس رحم کرنے والے مالک نے اس کے لیے اسے جائز ٹھہرا دیا ہے۔ پس اول و آخر اور ظاہری و باطنی طور پر ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کی مستحق صرف اسی کی ذات اقدس ہے۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 26

Аль-БакараДжуз 2 · Страница 26

2:170

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ بَلۡ نَتَّبِعُ مَآ أَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَهۡتَدُونَ ١٧٠

Когда им говорят: «Следуйте тому, что ниспослал Аллах», - они отвечают: «Нет! Мы будем следовать тому, на чем застали наших отцов». А если их отцы ничего не разумели и не следовали прямым путем?

2:171

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ ٱلَّذِي يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ إِلَّا دُعَآءٗ وَنِدَآءٗۚ صُمُّۢ بُكۡمٌ عُمۡيٞ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ ١٧١

Неверующие подобны скотине, на которую прикрикивает пастух, тогда как она не слышит ничего, кроме зова и крика. Они глухи, немы и слепы. Они ничего не разумеют.

2:172

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِلَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ١٧٢

О те, которые уверовали! Вкушайте дозволенные блага, которыми Мы наделили вас, и будьте благодарны Аллаху, если только вы поклоняетесь Ему.

2:173

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٧٣

Он запретил вам мертвечину, кровь, мясо свиньи и то, что принесено в жертву не ради Аллаха. Если же кто-либо вынужден пойти на это, не домогаясь запретного, не проявляя ослушания и не преступая пределы необходимого, то нет на нем греха. Воистину, Аллах - Прощающий, Милосердный.

2:174

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَشۡتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ مَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ ١٧٤

Воистину, те, которые скрывают ниспосланное Аллахом в Писании и покупают за это малую цену, наполняют свои животы огнем. Аллах не станет говорить с ними в День воскресения и не очистит их. Им уготованы мучительные страдания.

2:175

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡعَذَابَ بِٱلۡمَغۡفِرَةِۚ فَمَآ أَصۡبَرَهُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ ١٧٥

Они купили заблуждение за верное руководство и мучения - за прощение. Насколько же они готовы терпеть Огонь!

2:176

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِي ٱلۡكِتَٰبِ لَفِي شِقَاقِۭ بَعِيدٖ ١٧٦

Это потому, что Аллах ниспослал Писание с истиной. А те, которые спорят относительно Писания, находятся в полном разладе с истиной.

Ас-СаадиТафсир · 2:173

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English