Та ХаДжуз 16 · Страница 320

Та Ха 20:116

Та Ха  · Джуз 16 · Страница 320

وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ ١١٦

Вот сказали Мы ангелам: «Падите ниц перед Адамом!». Они пали ниц, и только Иблис отказался.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 20:116–122

اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)

[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘

[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘

[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔

[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:

[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 320

Та ХаДжуз 16 · Страница 320

20:114

فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا ١١٤

Превыше всего Аллах, Истинный Царь! Не торопись читать Коран, пока ниспослание откровения тебе не будет завершено, и говори: «Господи! Приумножь мои знания».

20:115

وَلَقَدۡ عَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبۡلُ فَنَسِيَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهُۥ عَزۡمٗا ١١٥

Прежде Мы заключили завет с Адамом, но он забыл, и Мы не нашли у него твердой воли.

20:116

وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ ١١٦

Вот сказали Мы ангелам: «Падите ниц перед Адамом!». Они пали ниц, и только Иблис отказался.

20:117

فَقُلۡنَا يَٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوّٞ لَّكَ وَلِزَوۡجِكَ فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلۡجَنَّةِ فَتَشۡقَىٰٓ ١١٧

Мы сказали: «О Адам! Это - враг тебе и твоей жене. Пусть же он не выведет вас из Рая, а не то ты станешь несчастным.

20:118

إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعۡرَىٰ ١١٨

В нем ты не будешь голодным и нагим.

20:119

وَأَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُاْ فِيهَا وَلَا تَضۡحَىٰ ١١٩

В нем ты не будешь страдать от жажды и зноя».

20:120

فَوَسۡوَسَ إِلَيۡهِ ٱلشَّيۡطَٰنُ قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ هَلۡ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلۡخُلۡدِ وَمُلۡكٖ لَّا يَبۡلَىٰ ١٢٠

Но дьявол стал нашептывать ему и сказал: «О Адам! Показать ли тебе дерево вечности и непреходящей власти?».

20:121

فَأَكَلَا مِنۡهَا فَبَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفَانِ عَلَيۡهِمَا مِن وَرَقِ ٱلۡجَنَّةِۚ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ١٢١

Они оба поели с него, и тогда им стали видны их срамные места. Они стали прилеплять на себе райские листья. Адам ослушался своего Господа и впал в заблуждение.

20:122

ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ ١٢٢

Потом Господь избрал его, принял его покаяние и наставил на прямой путь.

20:123

قَالَ ٱهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيعَۢاۖ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدٗى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ ١٢٣

Он сказал: «Низвергнитесь отсюда вместе, и одни из вас будут врагами других. Если же к вам явится от Меня верное руководство, то всякий, кто последует Моему верному руководству, не окажется заблудшим и несчастным.

20:124

وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ ١٢٤

А кто отвернется от Моего Напоминания, того ожидает тяжкая жизнь, а в День воскресения Мы воскресим его слепым».

20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيٓ أَعۡمَىٰ وَقَدۡ كُنتُ بَصِيرٗا ١٢٥

И скажет он: «Господи! Почему Ты воскресил меня слепым, если раньше я был зрячим?».

Ас-СаадиТафсир · 20:116

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English