Аль-ХаджжДжуз 17 · Страница 337

Аль-Хаджж 22:42

Паломничество · Джуз 17 · Страница 337

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَثَمُودُ ٤٢

Если они сочтут тебя лжецом, то ведь еще раньше пророков считали лжецами народ Нуха (Ноя), адиты, самудяне,

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 22:42–46

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46)

[44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔

[45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔

[46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 337

Аль-ХаджжДжуз 17 · Страница 337

22:39

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيرٌ ٣٩

Дозволено тем, против кого сражаются, сражаться, потому что с ними поступили несправедливо. Воистину, Аллах способен помочь им.

22:40

ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بِغَيۡرِ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُۗ وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيهَا ٱسۡمُ ٱللَّهِ كَثِيرٗاۗ وَلَيَنصُرَنَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ٤٠

Они были несправедливо изгнаны из своих жилищ только за то, что говорили: «Наш Господь - Аллах». Если бы Аллах не позволил одним людям защищаться от других, то были бы разрушены кельи, церкви, синагоги и мечети, в которых премного поминают имя Аллаха. Аллах непременно помогает тому, кто помогает Ему. Воистину, Аллах - Всесильный, Могущественный.

22:41

ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُواْ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَنَهَوۡاْ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۗ وَلِلَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ ٤١

Если Мы одарим их властью на земле, они будут совершать намаз, выплачивать закят, велеть совершать одобряемое и запрещать предосудительное. А исход всех дел - у Аллаха.

22:42

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَثَمُودُ ٤٢

Если они сочтут тебя лжецом, то ведь еще раньше пророков считали лжецами народ Нуха (Ноя), адиты, самудяне,

22:43

وَقَوۡمُ إِبۡرَٰهِيمَ وَقَوۡمُ لُوطٖ ٤٣

народ Ибрахима (Авраама), народ Лута (Лота)

22:44

وَأَصۡحَٰبُ مَدۡيَنَۖ وَكُذِّبَ مُوسَىٰۖ فَأَمۡلَيۡتُ لِلۡكَٰفِرِينَ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٤

и жители Мадьяна. Мусу (Моисея) тоже сочли лжецом. Я предоставил отсрочку неверующим, а затем схватил их. Каким же было Мое обличение!

22:45

فَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئۡرٖ مُّعَطَّلَةٖ وَقَصۡرٖ مَّشِيدٍ ٤٥

Сколько селений, которые были несправедливы, Мы погубили, и теперь они разрушены до основания. Сколько заброшенных колодцев и воздвигнутых дворцов!

22:46

أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَتَكُونَ لَهُمۡ قُلُوبٞ يَعۡقِلُونَ بِهَآ أَوۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۖ فَإِنَّهَا لَا تَعۡمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ ٤٦

Разве они не странствовали по земле, имея сердца, посредством которых они могли разуметь, и уши, посредством которых они могли слушать? Воистину, слепнут не глаза, а слепнут сердца, находящиеся в груди.

Ас-СаадиТафсир · 22:42

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English