Аль-ФурканДжуз 19 · Страница 365

Аль-Фуркан 25:63

аль‑Фуркан · Джуз 19 · Страница 365

وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا ٦٣

А рабами Милостивого являются те, которые ступают по земле смиренно, а когда невежды обращаются к ним, они говорят: «Мир!»

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 25:63–77

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)

[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔

[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘

[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔

[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔

[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔

[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘

[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔

Продолжить в тафсире всей суры

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 365

Аль-ФурканДжуз 19 · Страница 365

25:56

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ٥٦

Мы отправили тебя всего лишь добрым вестником и предостерегающим увещевателем.

25:57

قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٥٧

Скажи: «Я не прошу у вас за это никакого вознаграждения, кроме того, чтобы желающие встали на путь к своему Господу».

25:58

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا ٥٨

Уповай на Живого, Который не умирает, и прославляй Его хвалой. Довольно того, что Он ведает о грехах Своих рабов.

25:59

ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَسۡـَٔلۡ بِهِۦ خَبِيرٗا ٥٩

Он сотворил небеса и землю и то, что между ними, за шесть дней, а потом вознесся на Трон (или утвердился на Троне). Он - Милостивый. Спрашивай об этом Ведающего.

25:60

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩ ٦٠

Когда им говорят: «Падайте ниц перед Милостивым!». - они говорят: «Что такое Милостивый? Неужели мы будем падать ниц перед тем, кому ты нам приказываешь?». Это приумножает их отвращение.

25:61

تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا ٦١

Благословен Тот, Кто установил на небе созвездия Зодиака и установил на нем светильник и освещающую луну.

25:62

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا ٦٢

Он - Тот, Кто чередует ночь и день для тех, кто желает помнить и благодарить.

25:63

وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا ٦٣

А рабами Милостивого являются те, которые ступают по земле смиренно, а когда невежды обращаются к ним, они говорят: «Мир!»

25:64

وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدٗا وَقِيَٰمٗا ٦٤

Они проводят ночи, падая ниц и стоя перед своим Господом.

25:65

وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ٦٥

Они говорят: «Господь наш! Отврати от нас мучения в Геенне, поскольку мучения там не отступают.

25:66

إِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا ٦٦

Как скверны эта обитель и местопребывание!».

25:67

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمۡ يُسۡرِفُواْ وَلَمۡ يَقۡتُرُواْ وَكَانَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ قَوَامٗا ٦٧

Когда они делают пожертвования, то не излишествуют и не скупятся, а придерживаются середины между этими крайностями.

Ас-СаадиТафсир · 25:63

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English