Аш-ШуараДжуз 19 · Страница 375

Аш-Шуара 26:192

Поэты · Джуз 19 · Страница 375

وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٩٢

Воистину, это - Ниспослание от Господа миров.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 26:192–203

اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)

[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔

[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔

[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔

[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔

[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 375

Аш-ШуараДжуз 19 · Страница 375

26:184

وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٨٤

Бойтесь Того, Кто сотворил вас и первые поколения».

26:185

قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ ١٨٥

Они сказали: «Ты - всего лишь один из околдованных.

26:186

وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ١٨٦

Ты - всего лишь такой же человек, как и мы, и мы полагаем, что ты являешься одним из лжецов.

26:187

فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ١٨٧

Низринь на нас осколок неба, если ты - один из тех, кто говорит правду».

26:188

قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨٨

Он сказал: «Мой Господь лучше знает о том, что вы совершаете».

26:189

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ ١٨٩

Они сочли его лжецом, и их постигли мучения в день тени. Воистину, это были мучения в Великий день.

26:190

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ ١٩٠

Воистину, в этом - знамение, но большинство их не стали верующими.

26:191

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ١٩١

Воистину, твой Господь - Могущественный, Милосердный.

26:192

وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٩٢

Воистину, это - Ниспослание от Господа миров.

26:193

نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ ١٩٣

Верный Дух (Джибрил) сошел с ним

26:194

عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ ١٩٤

на твое сердце, чтобы ты стал одним из тех, кто предостерегает.

26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ ١٩٥

Оно ниспослано на ясном арабском языке

26:196

وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٩٦

и упоминается в Писаниях древних народов.

26:197

أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ١٩٧

Разве для них не является знамением то, что ученые сынов Исраила (Израиля) знают его?

26:198

وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ ١٩٨

Если бы Мы ниспослали его кому-либо из неарабов

26:199

فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ ١٩٩

и если бы он прочел его им, то они не уверовали бы в него.

26:200

كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٢٠٠

Так Мы внедряем его (неверие) в сердца грешников.

26:201

لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٢٠١

Они не уверуют в него, пока не увидят мучительные страдания.

26:202

فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٢٠٢

Они постигнут их неожиданно, так что они даже не почувствуют этого.

26:203

فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣

Тогда они скажут: «Предоставят ли нам отсрочку?».

26:204

أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ ٢٠٤

Неужели они торопят мучения от Нас?

26:205

أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ ٢٠٥

Знаешь ли ты, что если Мы позволим им пользоваться благами многие годы,

26:206

ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ ٢٠٦

после чего к ним явится то, что им было обещано,

Ас-СаадиТафсир · 26:192

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English