Аль Имран 3:30
Семейство Имрана · Джуз 3 · Страница 54
يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٖ مُّحۡضَرٗا وَمَا عَمِلَتۡ مِن سُوٓءٖ تَوَدُّ لَوۡ أَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهُۥٓ أَمَدَۢا بَعِيدٗاۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ ٣٠
В тот день, когда каждая душа увидит все добро и зло, которое она совершила, ей захочется, чтобы между ней и между ее злодеяниями было огромное расстояние. Аллах предостерегает вас от Самого Себя. Аллах сострадателен к рабам.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 3:29–30
کہہ دیجیے، اگر چھپاؤ تم وہ بات جو تمھارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے، جانتا ہے اس کو اللہ، اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،اور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (29) جس دن پائے گا ہر نفس جو عمل کیا اس نے اچھائی سے، (اپنے سامنے) حاضر کیا ہوا،اور جو عمل کیا اس نے برائی سے (وہ بھی) ،تو وہ آرزو کرے گا، کاش کہ ہو درمیان اس کے اور درمیان اس (کی برائی) کے فاصلہ دور کا،اور ڈراتا ہےتمھیں اللہ اپنی ذات سے،اور اللہ بہت شفقت کرنے والا ہے اپنے بندوں پر (30)
[30,29] یعنی قیامت کے دن سب بندے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ پھر وہ تمھارے اعمال کو شمار کرے گا، ان پر محاسبہ کرے گا اور سزا و جزا دے گا۔ لہٰذا ایسے برے کام کرنے سے بچو جن کی وجہ سے تم عقوبت کے مستحق ہوجاؤ۔ بلکہ ایسے عمل کرو جن سے تمھیں اجر و ثواب ملے۔ پھر اللہ نے اپنے علم کی وسعت کے بارے میں فرمایا، وہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، بالخصوص جو کچھ دلوں میں ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ دلوں کو پاک رکھنا چاہیے اور ہر وقت اللہ کے علم کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں بندے کو اس بات سے شرم آئے گی کہ اس کا مالک اس کے دل کو گندے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا دیکھے۔ بلکہ وہ اپنی سوچ کو ایسے امور میں مشغول کرے گا جن سے اللہ کا قرب حاصل ہو۔ مثلاً قرآن مجید کی کسی آیت یارسول اللہﷺکی کسی حدیث پر غوروفکر یا ایسے علم کو سمجھنے کی کوشش جس سے اسے فائدہ ہو یا اللہ کی کسی مخلوق اور نعمت کے بارے میں سوچنا یا اللہ کے بندوں کی بھلائی کے کسی کام کے بارے میں سوچ بچار۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کا ذکر فرماتا ہے، تو اس میں ضمناً اعمال کی جزا و سزا بھی شامل ہوتی ہے۔ جو قیامت کے دن واقع ہوگی۔ اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری جزا و سزا ملے گی، اس لیے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا ﴾ ’’جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو موجود پائے گا‘‘ یعنی اس کی نیکیاں مکمل طورپر محفوظ ہوں گی۔ ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی ہوگی۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال:99؍7)’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘ (خیر) ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کے قریب کرنے والا ہر نیک عمل شامل ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ جس طرح ’’سوء‘‘ ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کو ناراض کرنے والا ہر چھوٹا بڑا برا عمل شامل ہے۔ ﴿ وَّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور جو اس نے برائیاں کی ہوں گی، آرزو کرے گا، کاش اس کے اور ان (برائیوں) کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی‘‘ وہ بے انتہا افسوس اور شدید ترین غم کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا۔ بندے کو ان گناہوں سے بچنا اور ڈرنا چاہیے جن کے نتیجے میں اسے شدید ترین غم برداشت کرنا پڑے گا۔ اب ان گناہوں کو چھوڑنا ممکن ہے، اس لیے فوراً ترک کردینا چاہیے ورنہ اس وقت وہ کہے گا ﴿يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾(الزمر:39؍56) ’’ہائے افسوس! میں نے اللہ کی جناب میں کوتاہی کی!‘‘ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾(النساء:4؍42) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور رسول کی نافرمانی کی اس دن تمنا کریں گے کاش! زمین ان کو نگل کر برابر ہوجائے‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، کاش! میں نے رسول(ﷺ) کی راہ اختیار کی ہوتی! ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾(الزخرف:43؍38) ’’یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی، تو تو بڑا برا ساتھی ہے۔‘‘ قسم ہے اللہ کی! ہر خواہش نفس کواور لذت کو ترک کردینا، اگرچہ اس جہان میں اسے ترک کرنا نفس کو کتنا دشوار محسوس ہوتا ہو، ان عذابوں کو جھیلنے سے اور ان رسوائیوں کو برداشت کرنے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ لیکن بندہ ظالم اور نادان ہونے کی وجہ سے صرف حاضر و موجود پرنظر رکھتا ہے۔ اگر اس کے پاس کامل عقل ہو تو ان اعمال کے انجام کو دیکھے، پھر وہ عمل کرے جس کا دونوں جہاں میں فائدہ ہو۔ اور اس کام سے اجتناب کرے جو دونوں جہان میں نقصان کا باعث ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر شفقت و رحمت کرتے ہوئے دوبارہ اپنی ذات سے ڈرایا ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سخت نہ ہوجائیں۔ تاکہ ترغیب بھی ہو، جس کے نتیجے میں امید اور عمل صالح حاصل ہو۔ اور ترہیب بھی ہو جس کے نتیجے میں خوف حاصل ہو اور گناہ چھوٹ جائیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ١ؕ وَاللّٰهُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اللہ تمھیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑاہی مہربان ہے‘‘ ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر احسان فرما کر ہمیشہ اپنے خوف سے نوازے رکھے، تاکہ ہم وہ کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
Страница 54
3:30
يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٖ مُّحۡضَرٗا وَمَا عَمِلَتۡ مِن سُوٓءٖ تَوَدُّ لَوۡ أَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهُۥٓ أَمَدَۢا بَعِيدٗاۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ ٣٠
В тот день, когда каждая душа увидит все добро и зло, которое она совершила, ей захочется, чтобы между ней и между ее злодеяниями было огромное расстояние. Аллах предостерегает вас от Самого Себя. Аллах сострадателен к рабам.
3:31
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣١
Скажи: «Если вы любите Аллаха, то следуйте за мной, и тогда Аллах возлюбит вас и простит вам ваши грехи, ведь Аллах - Прощающий, Милосердный».
3:32
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٣٢
Скажи: «Повинуйтесь Аллаху и Посланнику». Если же они отвратятся, то ведь Аллах не любит неверующих.
3:33
۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحٗا وَءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمۡرَٰنَ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٣
Воистину, Аллах избрал и возвысил над мирами Адама, Нуха (Ноя), род Ибрахима (Авраама) и род Имрана.
3:34
ذُرِّيَّةَۢ بَعۡضُهَا مِنۢ بَعۡضٖۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٣٤
Одни из них были потомками других. Аллах - Слышащий, Знающий.
3:35
إِذۡ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ عِمۡرَٰنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِي بَطۡنِي مُحَرَّرٗا فَتَقَبَّلۡ مِنِّيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٥
Вот сказала жена Имрана: «Господи! Я дала обет посвятить Тебе одному того, кто находится в моей утробе. Прими же от меня, ведь Ты - Слышащий, Знающий».
3:36
فَلَمَّا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي وَضَعۡتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ وَلَيۡسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلۡأُنثَىٰۖ وَإِنِّي سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ وَإِنِّيٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ ٣٦
Когда она родила ее, то сказала: «Господи! Я родила девочку, - но Аллаху было лучше знать, кого она родила. - А ведь мальчик не подобен девочке. Я назвала ее Марьям (Марией) и прошу Тебя защитить ее и потомство ее от дьявола изгнанного, побиваемого».
3:37
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٖ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنٗا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّاۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ٣٧
Господь принял ее прекрасным образом, вырастил достойно и поручил ее Закарии (Захарии). Каждый раз, когда Закария (Захария) входил к ней в молельню, он находил возле нее пропитание. Он сказал: «О Марьям (Мария)! Откуда у тебя это?». Она ответила: «Это - от Аллаха, ведь Аллах дарует пропитание без счета, кому пожелает».