Аль-АхзабДжуз 22 · Страница 425

Аль-Ахзаб 33:53

Союзники · Джуз 22 · Страница 425

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِيِّ إِلَّآ أَن يُؤۡذَنَ لَكُمۡ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيۡرَ نَٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَٰكِنۡ إِذَا دُعِيتُمۡ فَٱدۡخُلُواْ فَإِذَا طَعِمۡتُمۡ فَٱنتَشِرُواْ وَلَا مُسۡتَـٔۡنِسِينَ لِحَدِيثٍۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِي ٱلنَّبِيَّ فَيَسۡتَحۡيِۦ مِنكُمۡۖ وَٱللَّهُ لَا يَسۡتَحۡيِۦ مِنَ ٱلۡحَقِّۚ وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ذَٰلِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ وَمَا كَانَ لَكُمۡ أَن تُؤۡذُواْ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓاْ أَزۡوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦٓ أَبَدًاۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ٥٣

О те, которые уверовали! Не входите в дома Пророка, если только вас не пригласят на трапезу, но не дожидайтесь ее приготовления (не приходите заранее). Если же вас пригласят, то входите, а когда поедите, то расходитесь и не усаживайтесь для разговоров. Этим вы причиняете неудобство Пророку. Он стыдится вас, но Аллах не стыдится истины. Если вы просите у них (жен Пророка) какую-либо утварь, то просите у них через завесу. Так будет чище для ваших сердец и их сердец. Вам не подобает ни обижать Посланника Аллаха, ни жениться на его женах после его смерти. Воистину, это является великим грехом перед Аллахом.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 33:53–54

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم نبی کے گھروں میں، مگر یہ کہ اجازت دے دی جائے تمھیں، کھانے کے لیے، نہ انتظار کرنے والے ہو اس کے پکنے کا، لیکن جب بلائے جاؤ تم، تو داخل ہو تم، پس جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ ( یعنی اُٹھ کر چلے جاؤ )، اور نہ (ٹھہرے رہو) رغبت رکھتے ہوئے باتوں میں، بلاشبہ تمھاری یہ بات ہے ایذا دیتی ہے نبی(ﷺ)کو، پس وہ شرم کرتا ہے تم سے ، اور اللہ نہیں شرماتا حق بات (بیان کرنے) سے اور جب سوال کرو تم ان (ازواج مطہرات) سے کسی سامان کا، تو سوال کرو تم ان سے پیچھے سے پردے کے، یہ بات زیادہ پاکیزہ ہے واسطے تمھارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے، اور نہیں ہے جائز تمھارے لیے یہ کہ ایذا دو تم اللہ کے رسول کواور نہ یہ (ہی جائز ہے) کہ تم نکاح کرو اس کی بیویوں سے اس کے بعد کبھی بھی، بے شک تمھارا یہ (فعل) ہو گا نزدیک اللہ کے بہت بڑا(53) اگرظاہر کرو تم کوئی چیز یا چھپاؤ تم اسے تو بلاشبہ اللہ ہے ہر چیز کو خوب جاننے والا(54)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِيِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ ﴾ یعنی کھانے کے لیے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کر یمﷺ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم ﴿نٰظِرِيۡنَ اِنٰىهُ ﴾کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہوا کرو:(۱)داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد۔(۲) تمھارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔اسی لیے فرمایا: ﴿وَلٰكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ۠ لِحَدِيۡثٍ ﴾ ’’لیکن جب تمھیں دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔‘‘ یعنی کھانے سے پہلے یا بعد میں باتیں کرنے نہ لگ جاؤ ۔ پھر اس ممانعت کی حکمت اور فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی ضرورت سے زیادہ تمھارا وہاں انتظار کرنا ﴿كَانَ يُؤۡذِي النَّبِيَّ ﴾ ’’نبی (ﷺ) کو تکلیف دیتا ہے‘‘ یعنی وہاں تمھارا بیٹھ کر آپ کو اپنے کام کاج اور دیگر معاملات سے روکے رکھنا، آپ پر شاق گزرتا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ ﴿فَيَسۡتَحۡيٖ مِنۡكُمۡ ﴾ یعنی وہ شرم کی وجہ سے تمھیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ ۔ جیسا کہ عادت جاریہ ہے کہ لوگ... خاص طور پر شرفاء اور باوقار لوگ... لوگوں کو اپنے گھروں سے نکالتے ہوئے شرماتے ہیں ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡيٖ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔‘‘ شرعی معاملے میں اگر یہ تو ہم لاحق ہو کہ اس کے ترک کرنے میں ادب اور حیا ہے، تو کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہے اس میں کوئی ادب نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسا حکم دینے سے نہیں شرماتا جس میں تمھارے لیے بھلائی اور رسول (ﷺ)کے لیے نرمی ہو خواہ یہ حکم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔یہ تو تھے نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب اور رہے آپ کی ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب، تو اس میں دو امور ہیں کہ آیا ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کی کوئی حقیقی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟اگر بات چیت کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو اس کو ترک کرنا ہی ادب ہے۔ اگر کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہے، جیسے ان سے کوئی چیز، مثلاً: گھر کے برتن وغیرہ طلب کرنا، تو یہ چیزیں ان سے طلب کی جائیں ﴿مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ﴾ ’’پردہ کے پیچھے سے۔‘‘ یعنی تمھارے درمیان اور ازواج مطہرات کے درمیان ایک پردہ حائل ہو، جو نظر پڑنے سے بچائے کیونکہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تو معلوم ہوا ازواج مطہرات کو دیکھنا ہر حال میں ممنوع ہے اور ان سے ہم کلام ہونے میں تفصیل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ ﴾ ’’یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔‘‘ کیونکہ یہ طریقہ کسی قسم کے شبہے سے بعید تر ہے اور انسان شر کی طرف دعوت دینے والے اسباب سے جتنا دور رہے گا تو یہ چیز اس کے قلب کے لیے اتنی ہی زیادہ سلامتی اور پاکیزگی کا باعث ہو گی۔بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام شرعی امور کی کثرت سے تفاصیل بیان کی ہیں، نیز یہ بھی واضح کیا ہے کہ برائی کے تمام وسائل، اسباب اور مقدمات ممنوع ہیں اور ہر طریقے سے ان سے دور رہنا مشروع ہے، پھر ایک جامع بات اور ایک عام قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿مَا كَانَ لَكُمۡ ﴾ اے مومنو! تمھارے لائق ہے نہ یہ مستحسن ہے، بلکہ یہ قبیح ترین بات ہے ﴿اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’ کہ تم رسول اللہ کو تکلیف پہنچاؤ ۔‘‘ یعنی قول و فعل اور ان سے متعلق تمام امور کے ذریعے سے اذیت پہنچاؤ۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾ ’’اور نہ (تمھارے لیے یہ حلال ہے کہ )آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔‘‘ یہ چیز ان جملہ امور میں داخل ہے جن سے آپ کو اذیت پہنچتی ہے۔ بے شک آپﷺ تعظیم اور رفعت و اکرام کے مقام کے حامل ہیں آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا، اس مقام کے منافی ہے، نیز ازواج مطہرات، دنیا وآخرت میں آپ کی بیویاں ہیں، زوجیت کا یہ رشتہ آپ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے اس لیے وہ آپ کی امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمًا ﴾ ’’یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا کام) ہے۔‘‘ امت مسلمہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روکا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُوَالشُّکْرُ۔

[54] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو ﴿اَوۡ تُخۡفُوۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’ یا اس کو تم چھپاؤ، تو اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 425

Аль-АхзабДжуз 22 · Страница 425

33:51

۞ تُرۡجِي مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُـٔۡوِيٓ إِلَيۡكَ مَن تَشَآءُۖ وَمَنِ ٱبۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَآ ءَاتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمٗا ٥١

Ты можешь по своему желанию отложить посещение любой из них (жен Пророка), и удержать возле себя ту, которую пожелаешь. Если же ты пожелаешь ту, которую ты прежде отстранил, то это не будет для тебя грехом. Это лучше для того, чтобы глаза каждой из них радовались, чтобы они не печалились и были довольны тем, что ты даруешь им. Аллах знает то, что в ваших сердцах, ибо Аллах - Знающий, Выдержанный.

33:52

لَّا يَحِلُّ لَكَ ٱلنِّسَآءُ مِنۢ بَعۡدُ وَلَآ أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ أَزۡوَٰجٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ رَّقِيبٗا ٥٢

Отныне тебе не дозволено жениться на других женщинах и заменять их другими женами, даже если их красота поразит тебя, но это не относится к невольницам, которыми овладела твоя десница. Аллах наблюдает за всякой вещью.

33:53

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِيِّ إِلَّآ أَن يُؤۡذَنَ لَكُمۡ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيۡرَ نَٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَٰكِنۡ إِذَا دُعِيتُمۡ فَٱدۡخُلُواْ فَإِذَا طَعِمۡتُمۡ فَٱنتَشِرُواْ وَلَا مُسۡتَـٔۡنِسِينَ لِحَدِيثٍۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِي ٱلنَّبِيَّ فَيَسۡتَحۡيِۦ مِنكُمۡۖ وَٱللَّهُ لَا يَسۡتَحۡيِۦ مِنَ ٱلۡحَقِّۚ وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ذَٰلِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ وَمَا كَانَ لَكُمۡ أَن تُؤۡذُواْ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓاْ أَزۡوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦٓ أَبَدًاۚ إِنَّ ذَٰلِكُمۡ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ٥٣

О те, которые уверовали! Не входите в дома Пророка, если только вас не пригласят на трапезу, но не дожидайтесь ее приготовления (не приходите заранее). Если же вас пригласят, то входите, а когда поедите, то расходитесь и не усаживайтесь для разговоров. Этим вы причиняете неудобство Пророку. Он стыдится вас, но Аллах не стыдится истины. Если вы просите у них (жен Пророка) какую-либо утварь, то просите у них через завесу. Так будет чище для ваших сердец и их сердец. Вам не подобает ни обижать Посланника Аллаха, ни жениться на его женах после его смерти. Воистину, это является великим грехом перед Аллахом.

33:54

إِن تُبۡدُواْ شَيۡـًٔا أَوۡ تُخۡفُوهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ٥٤

Обнаруживаете вы что-либо или скрываете, Аллах все равно знает о каждой вещи.

Ас-СаадиТафсир · 33:53

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English