Аль-АхзабДжуз 21 · Страница 418

Аль-Ахзаб 33:6

Союзники · Джуз 21 · Страница 418

ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفۡعَلُوٓاْ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِكُم مَّعۡرُوفٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا ٦

Пророк ближе к верующим, чем они сами, а его жены - их матери. В соответствии с предписанием Аллаха, кровные родственники ближе друг к другу, чем верующие и мухаджиры, если только вы не сделаете добро своим друзьям. Так было записано в Писании (Хранимой скрижали).

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аяту 33:6

پیغمبر زیادہ حق دار ہے(ہر قسم کا تصرف کرنے میں) مومنوں پر ان کے نفسوں سے بھی اور بیویاں اس کی مائیں ہیں ان کی اور رشتے دار، بعض ان کے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے، اللہ کی کتاب میں، (دیگر) مومنوں اور مہاجروں سے، مگر یہ کہ کرو تم ساتھ اپنے دوستوں کے کوئی بھلائی، (تو یہ جائز ہے) ہے یہی (حکم)کتاب میں لکھا ہوا(6)

[6] اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبہ کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں، چنانچہ فرمایا ﴿اَلنَّبِيُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ ﷺ ان کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے کیونکہ انھیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد، رسول اللہ ﷺ کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے قول سے، کسی شخص کے قول کا، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، مقابلہ نہ کریں، آپ ﷺ پر اپنی جان، مال اور اولاد کو فدا کر دیں، آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں، جب تک کہ آپ بول نہ لیں، ہرگز نہ بولیں، اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔ رسول مصطفیﷺ، مومنوں کے باپ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام yکی قراء ت میں پڑھا گیا ہے، آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ یعنی حرمت، احترام اور اکرام کے اعتبار سے نہ کہ خلوت و محرمیت کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہw کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا، زید بن حارثہw اس سے پہلے ’’زید بن محمد‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾(الاحزاب:33؍40) ’’محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کر دیے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان، رسول (ﷺ)کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہو گیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غمزدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں ، لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے:﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾(الاحزاب:33؍53) ’’اور نہ تمھارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ(ﷺ)کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔‘‘﴿وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ ﴾ یعنی رشتہ دار، خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾’’آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے، ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے، اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس توارث کو منقطع کر دیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنا دیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں، بہر حال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے، مثلاً: نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت ﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰۤى اَوۡلِيٰٓؔىِٕكُمۡ۠ مَّعۡرُوۡفًا ﴾ ’’مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔‘‘ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمھارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو۔ ﴿كَانَ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم مذکور ﴿ فِي الۡكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴾ کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کر دیا ہے، لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 418

Аль-АхзабДжуз 21 · Страница 418

سورة الأحزاب

Аль-Ахзаб

Союзники · мединская · 73 аята

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

33:1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١

О Пророк! Бойся Аллаха и не повинуйся неверующим и лицемерам. Воистину, Аллах - Знающий, Мудрый.

33:2

وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ٢

Следуй тому, что внушается тебе в откровении от твоего Господа. Воистину, Аллах ведает о том, что вы совершаете.

33:3

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا ٣

Уповай на Аллаха, и довольно того, что Аллах является Попечителем и Хранителем!

33:4

مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٖ مِّن قَلۡبَيۡنِ فِي جَوۡفِهِۦۚ وَمَا جَعَلَ أَزۡوَٰجَكُمُ ٱلَّٰٓـِٔي تُظَٰهِرُونَ مِنۡهُنَّ أُمَّهَٰتِكُمۡۚ وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ٤

Аллах не даровал человеку двух сердец в одном теле. Он не сделал вашими матерями тех ваших жен, которых вы объявляете запретными для себя, и не сделал ваших приемных сыновей вашими сыновьями. Это - всего лишь слова из ваших уст. Аллах же глаголет истину и наставляет на прямой путь.

33:5

ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا ٥

Зовите их (приемных детей) по именам их отцов. Это более справедливо перед Аллахом. Если же вы не знаете их отцов, то они являются вашими братьями по вере и вашими близкими. Не будет на вас греха, если вы совершите ошибку, если только вы не вознамерились совершить такое в сердце. Аллах - Прощающий, Милосердный.

33:6

ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفۡعَلُوٓاْ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِكُم مَّعۡرُوفٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا ٦

Пророк ближе к верующим, чем они сами, а его жены - их матери. В соответствии с предписанием Аллаха, кровные родственники ближе друг к другу, чем верующие и мухаджиры, если только вы не сделаете добро своим друзьям. Так было записано в Писании (Хранимой скрижали).

Ас-СаадиТафсир · 33:6

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English