СабаДжуз 22 · Страница 431

Саба 34:24

Сава · Джуз 22 · Страница 431

۞ قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٤

Скажи: «Кто наделяет вас уделом с небес и земли?». Скажи: «Аллах! Воистину, одни из нас либо на прямом пути, либо в очевидном заблуждении».

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 34:24–27

کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27)

[24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔

[25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔

[26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

[27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 431

СабаДжуз 22 · Страница 431

34:23

وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنۡ أَذِنَ لَهُۥۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٢٣

Ничье заступничество перед Ним не принесет пользы, кроме тех, кому будет дозволено. Когда же испуг покинет их (многобожников или ангелов) сердца, они скажут: «Что сказал ваш Господь?». Они скажут: «Истину, ведь Он - Возвышенный, Великий».

34:24

۞ قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٤

Скажи: «Кто наделяет вас уделом с небес и земли?». Скажи: «Аллах! Воистину, одни из нас либо на прямом пути, либо в очевидном заблуждении».

34:25

قُل لَّا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّآ أَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٢٥

Скажи: «Вас не спросят о грехах, которые мы совершили, а нас не спросят о том, что совершаете вы».

34:26

قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَهُوَ ٱلۡفَتَّاحُ ٱلۡعَلِيمُ ٢٦

Скажи: «Наш Господь соберет всех нас, а потом рассудит между нами по справедливости, ибо Он - Раскрывающий (или Справедливый Судья), Знающий».

34:27

قُلۡ أَرُونِيَ ٱلَّذِينَ أَلۡحَقۡتُم بِهِۦ شُرَكَآءَۖ كـَلَّاۚ بَلۡ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٧

Скажи: «Покажите мне тех, кого вы приобщаете к Нему в сотоварищи. О нет! Он - Аллах, Могущественный, Мудрый».

34:28

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٨

Мы отправили тебя ко всем людям добрым вестником и предостерегающим увещевателем, но большинство людей не знает этого.

34:29

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٩

Они сказали: «Когда же сбудется это обещание, если вы говорите правду?».

34:30

قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوۡمٖ لَّا تَسۡتَـٔۡخِرُونَ عَنۡهُ سَاعَةٗ وَلَا تَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٠

Скажи: «Вам обещан день, который вы не сможете отдалить или приблизить даже на час».

34:31

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ ٣١

Неверующие сказали: «Мы никогда не уверуем ни в этот Коран, ни в то, что было до него». Если бы ты видел беззаконников, когда они будут стоять перед их Господом, отвечая друг другу словами. Те, которые были слабыми, скажут тем, которые превозносились: «Если бы не вы, то мы стали бы верующими».

Ас-СаадиТафсир · 34:24

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English