Ас-Саффат 37:110
Выстроившиеся в ряды · Джуз 23 · Страница 450
كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١١٠
Воистину, так Мы воздаем творящим добро.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 37:83–113
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
Страница 450
37:103
فَلَمَّآ أَسۡلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلۡجَبِينِ ١٠٣
Когда они оба покорились, и он уложил его на бок,
37:104
وَنَٰدَيۡنَٰهُ أَن يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُ ١٠٤
Мы воззвали к нему: «О Ибрахим (Авраам)!
37:105
قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٠٥
Ты оправдал сновидение». Воистину, так Мы воздаем творящим добро.
37:106
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡبَلَٰٓؤُاْ ٱلۡمُبِينُ ١٠٦
Это и есть явное испытание (или явная милость).
37:107
وَفَدَيۡنَٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٖ ١٠٧
Мы выкупили его великой жертвой.
37:108
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ١٠٨
Мы оставили о нем в последующих поколениях добрую молву.
37:109
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ ١٠٩
Мир Ибрахиму (Аврааму)!
37:110
كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١١٠
Воистину, так Мы воздаем творящим добро.
37:111
إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١١١
Воистину, он - один из Наших верующих рабов.
37:112
وَبَشَّرۡنَٰهُ بِإِسۡحَٰقَ نَبِيّٗا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١١٢
Мы обрадовали его вестью об Исхаке (Исааке) - пророке из числа праведников.
37:113
وَبَٰرَكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلَىٰٓ إِسۡحَٰقَۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٞ وَظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ مُبِينٞ ١١٣
Мы благословили его и Исхака (Исаака). Среди их потомства есть творящие добро и поступающие явно несправедливо к самим себе.
37:114
وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ١١٤
Мы оказали милость Мусе (Моисею) и Харуну (Аарону).
37:115
وَنَجَّيۡنَٰهُمَا وَقَوۡمَهُمَا مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ ١١٥
Мы спасли их обоих и их народ от великой печали.
37:116
وَنَصَرۡنَٰهُمۡ فَكَانُواْ هُمُ ٱلۡغَٰلِبِينَ ١١٦
Мы оказали им помощь, и именно они стали победителями.
37:117
وَءَاتَيۡنَٰهُمَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلۡمُسۡتَبِينَ ١١٧
Мы даровали им ясное Писание
37:118
وَهَدَيۡنَٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ١١٨
и повели их прямым путем.
37:119
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ١١٩
Мы оставили о них в последующих поколениях добрую молву.
37:120
سَلَٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ١٢٠
Мир Мусе (Моисею) и Харуну (Аарону)!
37:121
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٢١
Воистину, так Мы воздаем творящим добро.
37:122
إِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٢٢
Воистину, они - одни из Наших верующих рабов.
37:123
وَإِنَّ إِلۡيَاسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٢٣
Ильяс (Илия) также был одним из посланников.
37:124
إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ ١٢٤
Он сказал своему народу: «Неужели вы не устрашитесь?
37:125
أَتَدۡعُونَ بَعۡلٗا وَتَذَرُونَ أَحۡسَنَ ٱلۡخَٰلِقِينَ ١٢٥
Неужели вы взываете к Балу и оставляете Самого прекрасного из творцов -
37:126
ٱللَّهَ رَبَّكُمۡ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٢٦
Аллаха, Господа вашего и Господа ваших праотцев?».