Ас-Саффат 37:39
Выстроившиеся в ряды · Джуз 23 · Страница 447
وَمَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٣٩
и получите воздаяние только за то, что вы совершали.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 37:27–39
اور متوجہ ہو گا بعض ان کا اوپر بعض کے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے (27)کہیں گے: بے شک تم تو تھے آتے ہمارے پاس دائیں طرف سے (28) وہ کہیں گے: بلکہ نہیں تھے تم خود ہی ایمان لانے والے(29) اور نہیں تھا ہمارا تم پرکوئی زور، بلکہ تھے تم ہی لوگ سرکش(30) پس ثابت ہو گئی ہم پر بات ہمارے رب کی، بے شک ہم البتہ چکھنے والے ہیں(عذاب)(31) پس ہم نے گمراہ کیا تمھیں بلا شبہ تھے ہم گمراہ (32) پس بے شک وہ اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے (33) بے شک ہم اسی طرح کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (34) بلاشبہ تھے و ہ، جب کہا جاتا ان سے کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے تو وہ تکبر کرتے (35) اور کیا بے شک ہم چھوڑ دیں گے اپنے معبودوں کو بوجہ (کہنے) ایک شاعر دیوانے کے (36)بلکہ وہ تو آیا ہے ساتھ حق کے اور اس نے تصدیق کی(سب) رسولوں کی (37) بے شک تم(اب) البتہ چکھو گے عذاب بہت درد ناک (38) اور نہیں بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر(اسی کا) جو تھے تم عمل کرتے(39)
[27، 28] جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے راستوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤ ساء سے کہیں گے:﴿اِنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’تمھی ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔‘‘ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔
[32-29]﴿قَالُوۡا ﴾ سردار اُن کو جواب دیں گے: ﴿بَلۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی شرک کرتے رہے۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے جو ہمیں ملامت کرنے کی موجب ہو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حالت یہ ہے کہ ﴿مَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ہمیں تم سے کفر کا ارتکاب کرانے کی کوئی قوت اور اختیار حاصل نہ تھا ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم سرکش لوگ تھے‘‘ اور حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ تھے۔ ﴿فَحَقَّ عَلَيۡنَا ﴾ ’’پس ہم پر واجب ہو گیا‘‘ یعنی تم پر اور ہم پر ﴿اِنَّا لَذَآىِٕقُوۡنَ ﴾ ’’ یقینا ہم چکھیں گے‘‘ عذاب کا یعنی ہم پر ہمارے رب کی قضاوقدر حق ثابت ہوئی ہم اور تم سب عذاب کا مزا چکھیں گے اور سب مل کر سزا بھگتیں گے۔بنا بریں ﴿فَاَغۡوَيۡنٰكُمۡ۠ اِنَّا كُنَّا غٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے تم کو گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس راستے کی طرف بلایا جس پر ہم گامزن تھے، یعنی گمراہی کے راستے کی طرف، تم نے ہماری آواز پر لبیک کہی اس لیے تم ہمیں ملامت کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔
[33، 34] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’پس وہ اس روز‘‘یعنی قیامت کے روز ﴿فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ ’’عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔‘‘ اگرچہ جرم کے مطابق، عذاب کی مقدار میں فرق ہوگا۔ وہ جہنم کا عذاب بھگتنے میں اسی طرح شریک ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں کفر کرنے میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘
[35، 36] پھر اس بات کاتذکرہ کیا کہ ان کے جرائم تمام حدیں پھلانگ گئے تھے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’بے شک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں‘‘ انھیں اس کلمہ کی طرف بلایا جاتا اور انھیں اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو چھوڑنے کا کہاجاتا تو ﴿يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾وہ اس دعوت اور اس کو پیش کرنے والے کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ اور اس کلمۂ حق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿اَىِٕنَّا لَتَارِكُوۡۤا اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں‘‘ جن کی ہم اور ہمارے آباء و اجداد عبادت کرتے رہے ہیں ﴿لِشَاعِرٍ مَّجۡنُوۡنٍ﴾ ’’ایک مجنون شاعر کی وجہ سے‘‘ اس سے وہ رسول اللہ ﷺ مراد لیتے تھے... اللہ ان کا برا کرے... انھوں نے صرف آپﷺ سے روگردانی اور مجرد آپ کی تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے آپ پر بدترین حکم لگایا جو سب سے بڑے ظلم پر مبنی ہے۔ انھوں نے آپ کو مجنون شاعر قرار دیا حالانکہ انھیں خوب علم تھا کہ آپ شاعری جانتے ہیں نہ شعراء سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں اور نہ ان کی طرح شاعری کے کبھی اوصاف بیان کیے ہیں اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ عظیم رائے کے حامل ہیں۔
[37] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ جَآءَ ﴾ ’’بلکہ وہ آئے‘‘ یعنی حضرت محمدﷺ ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی آپ کی تشریف آوری حق ہے اور جو شریعت اور کتاب آپ لے کر آئے وہ بھی حق ہے۔ ﴿وَصَدَّقَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ اور آپﷺ کی تشریف آوری سے رسولوں کی تصدیق ہوتی ہے اگر آپ تشریف نہ لاتے تو رسولوں کی تصدیق نہ ہوتی۔ پس آپ گزشتہ تمام انبیاء و مرسلین کا معجزہ ہیں کیونکہ تمام انبیاء و مرسلین نے آپ کے آنے کی بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا کہ اگر آپ ان کے زمانے میں مبعوث ہوئے تو وہ ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور تمام انبیاء و مرسلین نے اپنی اپنی امتوں سے بھی یہی عہد لیا۔ آپ کے ظہور کے ساتھ گزشتہ انبیاء کی صداقت ظاہر ہو گئی اور ان لوگوں کا کذب واضح ہو گیا جنھوں نے انبیاء کی مخالفت کی تھی۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ تشریف نہیں لائے… درآں حا لیکہ کہ انبیاء و مرسلین آپ کی آمد کی خبر دے چکے ہیں… تو یہ چیز انبیاء کی صداقت میں قادح ہوتی۔ آپ نے اس اعتبار سے بھی انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ہے کہ آپ وہی کچھ لے کر مبعوث ہوئے جس کے ساتھ دیگر انبیاء مبعوث ہوئے، آپ نے بھی اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف دیگر انبیاء دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔ آپ ان کی رسالت پر ایمان لائے، ان کی رسالت و نبوت اور ان کی شریعت کی صداقت کی خبر دی۔
[38، 39] چونکہ گزشتہ آیات میں ان کا قول: ﴿ اِنَّا لَذَآىِٕقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم چکھیں گے۔‘‘ گزر چکا ہے اور اس قول میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال موجود ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے فیصلہ کن قول سے آگاہ فرمایا جس میں صدق اور یقین کے سوا کوئی احتمال نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی خبر ہے۔ فرمایا: ﴿اِنَّـكُمۡ لَذَآىِٕقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِيۡمِ﴾’’بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو۔‘‘ یعنی سخت دردناک عذاب۔﴿وَمَا تُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں جزا نہیں دی گئی۔‘‘ یعنی درد ناک عذاب کا مزا چکھانے میں ﴿اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’مگر اسی کی جو تم کرتے تھے۔‘‘ ہم نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تمھارے ساتھ انصاف کیا ہے۔
چونکہ اس خطاب کے الفاظ عام ہیں اور مراد مشرکین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا:
Страница 447
37:25
مَا لَكُمۡ لَا تَنَاصَرُونَ ٢٥
«Что с вами? Почему вы не помогаете друг другу?».
37:26
بَلۡ هُمُ ٱلۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُونَ ٢٦
О нет! Сегодня они будут покорны.
37:27
وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٢٧
Они будут обращаться друг к другу с вопросами.
37:28
قَالُوٓاْ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَأۡتُونَنَا عَنِ ٱلۡيَمِينِ ٢٨
Они скажут: «Вы приходили к нам справа».
37:29
قَالُواْ بَل لَّمۡ تَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ ٢٩
Они ответят: «О нет! Вы сами не были верующими.
37:30
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنِۭۖ بَلۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا طَٰغِينَ ٣٠
Мы не обладали властью над вами. Вы сами были людьми, преступавшими границы дозволенного.
37:31
فَحَقَّ عَلَيۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَآۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ ٣١
Относительно нас сбылось Слово нашего Господа. Воистину, мы будем вкушать наказание.
37:32
فَأَغۡوَيۡنَٰكُمۡ إِنَّا كُنَّا غَٰوِينَ ٣٢
Мы ввели вас в заблуждение, и мы сами были заблудшими».
37:33
فَإِنَّهُمۡ يَوۡمَئِذٖ فِي ٱلۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُونَ ٣٣
Воистину, в тот день они разделят наказание.
37:34
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ ٣٤
Воистину, так Мы поступаем с грешниками.
37:35
إِنَّهُمۡ كَانُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسۡتَكۡبِرُونَ ٣٥
Когда им говорили: «Нет божества, кроме Аллаха», - они превозносились
37:36
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓاْ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٖ مَّجۡنُونِۭ ٣٦
и говорили: «Неужели мы откажемся от наших богов ради одержимого поэта?».
37:37
بَلۡ جَآءَ بِٱلۡحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٧
О нет! Он принес истину и подтвердил правдивость посланников.
37:38
إِنَّكُمۡ لَذَآئِقُواْ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَلِيمِ ٣٨
Вы непременно вкусите мучительные страдания,
37:39
وَمَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٣٩
и получите воздаяние только за то, что вы совершали.
37:40
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٤٠
Это не относится лишь к избранным (или искренним) рабам Аллаха.
37:41
أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٞ مَّعۡلُومٞ ٤١
Именно им уготован известный удел -
37:42
فَوَٰكِهُ وَهُم مُّكۡرَمُونَ ٤٢
фрукты. Им будут оказаны почести
37:43
فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٤٣
в Садах блаженства.
37:44
عَلَىٰ سُرُرٖ مُّتَقَٰبِلِينَ ٤٤
Они будут возлежать на ложах друг против друга.
37:45
يُطَافُ عَلَيۡهِم بِكَأۡسٖ مِّن مَّعِينِۭ ٤٥
Их будут обходить с чашей родникового напитка (вина),
37:46
بَيۡضَآءَ لَذَّةٖ لِّلشَّٰرِبِينَ ٤٦
белого, доставляющего удовольствие пьющим.
37:47
لَا فِيهَا غَوۡلٞ وَلَا هُمۡ عَنۡهَا يُنزَفُونَ ٤٧
Он не лишает рассудка и не пьянит.
37:48
وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ عِينٞ ٤٨
Возле них будут гурии, потупляющие взоры, большеглазые,
37:49
كَأَنَّهُنَّ بَيۡضٞ مَّكۡنُونٞ ٤٩
подобные оберегаемому яйцу.
37:50
فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٥٠
Они будут обращаться друг к другу с вопросами.
37:51
قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ ٥١
Один из них скажет: «Был у меня товарищ.