Сад 38:67
Сод · Джуз 23 · Страница 457
قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ ٦٧
Скажи: «Это - великая весть,
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 38:65–88
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
Страница 457
38:62
وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ ٦٢
Они скажут: «Что с нами? Почему мы не видим мужей, которых мы считали плохими?
38:63
أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٦٣
Неужели мы несправедливо глумились над ними? Или же просто взоры не падают на них?».
38:64
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ ٦٤
Воистину, препирательство обитателей Огня является истиной.
38:65
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٦٥
Скажи: «Я - всего лишь предостерегающий увещеватель. Нет божества, кроме Единственного и Всемогущего Аллаха,
38:66
رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّٰرُ ٦٦
Господа небес, земли и того, что между ними, Могущественного, Всепрощающего».
38:67
قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ ٦٧
Скажи: «Это - великая весть,
38:68
أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ ٦٨
от которой вы отворачиваетесь.
38:69
مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ ٦٩
У меня не было знания о том, как препирались в высшем сонме.
38:70
إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ ٧٠
Мне внушается в откровении только то, что я - всего лишь предостерегающий и разъясняющий увещеватель».
38:71
إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ٧١
Вот твой Господь сказал ангелам: «Я создам человека из глины.
38:72
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٧٢
Когда же Я придам ему соразмерный облик и вдохну в него от Моего духа, то падите перед ним ниц».
38:73
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٧٣
Все ангелы без исключения пали ниц,
38:74
إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤
кроме Иблиса, который возгордился и стал одним из неверующих.
38:75
قَالَ يَٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ ٧٥
Он сказал: «О Иблис! Что помешало тебе пасть ниц перед тем, кого Я сотворил Своими обеими Руками? Ты возгордился или же принадлежишь к числу превозносящихся?».
38:76
قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ٧٦
Иблис сказал: «Я лучше него. Ты сотворил меня из огня, а его сотворил из глины».
38:77
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ ٧٧
Аллах сказал: «Изыди, и отныне ты будешь изгнан и побит.
38:78
وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٧٨
И проклятие Мое пребудет над тобой до Дня воздаяния».
38:79
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ٧٩
Иблис сказал: «Господи! Предоставь мне отсрочку до того дня, когда они будут воскрешены».
38:80
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ٨٠
Аллах сказал: «Воистину, ты - один из тех, кому предоставлена отсрочка
38:81
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ ٨١
до дня, срок которого определен».
38:82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٨٢
Иблис сказал: «Клянусь Твоим могуществом! Я совращу их всех,
38:83
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٨٣
кроме Твоих избранных (или искренних) рабов».