Ан-НисаДжуз 5 · Страница 87

Ан-Ниса 4:59

Женщины · Джуз 5 · Страница 87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩

О те, которые уверовали! Повинуйтесь Аллаху, повинуйтесь Посланнику и обладающим влиянием среди вас. Если же вы станете препираться о чем-нибудь, то обратитесь с этим к Аллаху и Посланнику, если вы веруете в Аллаха и Последний день. Так будет лучше и прекраснее по значению (или по исходу; или по вознаграждению)!

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 4:58–59

بلاشبہ اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ادا کرو تم امانتیں ان کے اہل کواور جب فیصلہ کرو تم درمیان لوگوں کے تو فیصلہ کرو ساتھ انصاف کے۔ بلاشبہ اللہ، بہت ہی اچھی بات ہے وہ کہ نصیحت کرتا ہے تمھیں ساتھ اس کے۔ بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا(58) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اصحاب امر کی اپنے میں سے، پھر اگر تم باہم اختلاف کرو کسی چیز میں تو لوٹا دو اس کو اللہ اور رسول کی طرف، اگر ہو تم ایمان رکھتے ساتھ اللہ اور دن آخرت کے۔ یہ بہتر اور بہت اچھا ہے انجام میں(59)

[58] ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کر دیں۔اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنھیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کیے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالی کے ارشاد ﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾’’اس کے مالک کی طرف‘‘ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے۔ اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔﴿ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو‘‘ یہ حکم ان کے درمیان قتل کے مقدمات ، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے‘‘ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے اوامر و نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامر و نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامر و نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔

[59] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولو الامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی فرماں برداری کرتے ہوئے اولو الامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولو الامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سر نہاں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کر دیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسولﷺکی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولو الامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ۔ کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہﷺکی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کیے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾’’اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا﴾ ’’یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکا فیصلہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کا حامل اور لوگوں کے دین و دنیا اور ان کی عاقبت کی بھلائی کے لیے سب سے اچھا فیصلہ ہے۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 87

Ан-НисаДжуз 5 · Страница 87

4:52

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَمَن يَلۡعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا ٥٢

Они - те, кого проклял Аллах, а кого проклял Аллах, тому ты не найдешь помощника.

4:53

أَمۡ لَهُمۡ نَصِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُلۡكِ فَإِذٗا لَّا يُؤۡتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا ٥٣

Или же они обладают долей власти? Будь это так, то они не дали бы людям даже выемки на финиковой косточке.

4:54

أَمۡ يَحۡسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۖ فَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ ءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَءَاتَيۡنَٰهُم مُّلۡكًا عَظِيمٗا ٥٤

Или же они завидуют тому, что Аллах даровал людям из Своей милости? Мы уже одарили род Ибрахима (Авраама) Писанием и мудростью и одарили их великой властью.

4:55

فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن صَدَّ عَنۡهُۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا ٥٥

Среди них есть такие, которые уверовали в него (Мухаммада), и такие, которые отвернулись от него. Довольно того пламени, которое в Геенне!

4:56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيهِمۡ نَارٗا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَٰهُمۡ جُلُودًا غَيۡرَهَا لِيَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمٗا ٥٦

Воистину, тех, которые не уверовали в Наши знамения, Мы сожжем в Огне. Всякий раз, когда их кожа приготовится, Мы заменим ее другой кожей, чтобы они вкусили мучения. Воистину, Аллах - Могущественный, Мудрый.

4:57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلّٗا ظَلِيلًا ٥٧

А тех, которые уверовали и совершали праведные деяния, Мы введем в Райские сады, в которых текут реки. Они пребудут там вечно. У них там будут очищенные супруги. Мы введем их в густую тень.

4:58

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا ٥٨

Воистину, Аллах велит вам возвращать вверенное на хранение имущество его владельцам и судить по справедливости, когда вы судите среди людей. Как прекрасно то, чем увещевает вас Аллах! Воистину, Аллах - Слышащий, Видящий.

4:59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩

О те, которые уверовали! Повинуйтесь Аллаху, повинуйтесь Посланнику и обладающим влиянием среди вас. Если же вы станете препираться о чем-нибудь, то обратитесь с этим к Аллаху и Посланнику, если вы веруете в Аллаха и Последний день. Так будет лучше и прекраснее по значению (или по исходу; или по вознаграждению)!

Ас-СаадиТафсир · 4:59

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English