Ан-Ниса 4:81
Женщины · Джуз 5 · Страница 91
وَيَقُولُونَ طَاعَةٞ فَإِذَا بَرَزُواْ مِنۡ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ ٱلَّذِي تَقُولُۖ وَٱللَّهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُونَۖ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا ٨١
Они говорят: «Мы покорны». Когда же они покидают тебя, некоторые из них по ночам замышляют не то, что ты говорил. Аллах записывает то, что они замышляют по ночам. Отвернись же от них и уповай на Аллаха. Довольно того, что Аллах является Попечителем и Хранителем!
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 4:80–81
جس نے اطاعت کی رسول کی پس تحقیق اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان(80) اور (منافق) کہتے ہیں (ہمارا کام تو) فرماں برداری ہے، پھر جب نکلتے ہیں وہ آپ کے پاس سے تورات کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے خلاف اس (بات) کے جو کہتے ہیں آپ، اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں، پس اعراض کریں آپ ان سے اور توکل کریں اللہ پر اور کافی ہے اللہ کارساز(81)
[80] یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہﷺکی اطاعت کی ﴿ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ﴾ ’’اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺکی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔(۲)رسول اللہﷺکا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾(الفتح : 48؍9) ’’تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘پس جس نے رسول اللہﷺکی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَوَلّٰى ﴾ ’’جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا‘‘ وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا﴾ ’’ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۱ لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ﴾(الغاشیہ : 88؍21۔22) ’’تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔‘‘
[81] نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ طَاعَةٌ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں مان لیا۔‘‘ یعنی جب وہ آپﷺکے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں‘‘ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ ’’مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔‘‘ تو رات کے وقت آپﷺکی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انھوں نے دائمی وتیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیِیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُوۡنَ ﴾ ’’اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپﷺنے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپﷺکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔‘‘
Страница 91
4:80
مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗا ٨٠
Кто повинуется Посланнику, тот повинуется Аллаху. А если кто отворачивается, то ведь Мы не отправили тебя их хранителем.
4:81
وَيَقُولُونَ طَاعَةٞ فَإِذَا بَرَزُواْ مِنۡ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ ٱلَّذِي تَقُولُۖ وَٱللَّهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُونَۖ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا ٨١
Они говорят: «Мы покорны». Когда же они покидают тебя, некоторые из них по ночам замышляют не то, что ты говорил. Аллах записывает то, что они замышляют по ночам. Отвернись же от них и уповай на Аллаха. Довольно того, что Аллах является Попечителем и Хранителем!
4:82
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا ٨٢
Неужели они не задумываются над Кораном? Ведь если бы он был не от Аллаха, то они нашли бы в нем много противоречий.
4:83
وَإِذَا جَآءَهُمۡ أَمۡرٞ مِّنَ ٱلۡأَمۡنِ أَوِ ٱلۡخَوۡفِ أَذَاعُواْ بِهِۦۖ وَلَوۡ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسۡتَنۢبِطُونَهُۥ مِنۡهُمۡۗ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ لَٱتَّبَعۡتُمُ ٱلشَّيۡطَٰنَ إِلَّا قَلِيلٗا ٨٣
Когда до них доходит известие о безопасности или опасности, они разглашают его. Если бы они обратились с ним к Посланнику и обладающим влиянием среди них, то его от них узнали бы те, которые могут исследовать его. Если бы не милость и милосердие Аллаха к вам, то вы, за исключением немногих, последовали бы за дьяволом.
4:84
فَقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفۡسَكَۚ وَحَرِّضِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأۡسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأۡسٗا وَأَشَدُّ تَنكِيلٗا ٨٤
Сражайся на пути Аллаха, ведь ты несешь ответственность только за себя самого, и побуждай верующих. Быть может, Аллах удержит мощь неверующих. Аллах могущественнее всех и суровее в наказании.
4:85
مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقِيتٗا ٨٥
Кто будет ходатайствовать хорошим заступничеством, тому оно станет уделом. А кто будет ходатайствовать дурным заступничеством, тому оно станет ношей. Аллах наблюдает за всякой вещью.
4:86
وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٖ فَحَيُّواْ بِأَحۡسَنَ مِنۡهَآ أَوۡ رُدُّوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيبًا ٨٦
Когда вас приветствуют, отвечайте еще лучшим приветствием или тем же самым. Воистину, Аллах подсчитывает всякую вещь.