Аз-Зухруф 43:32
Украшения · Джуз 25 · Страница 491
أَهُمۡ يَقۡسِمُونَ رَحۡمَتَ رَبِّكَۚ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُم مَّعِيشَتَهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَتَّخِذَ بَعۡضُهُم بَعۡضٗا سُخۡرِيّٗاۗ وَرَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ٣٢
Разве это они распределяют милость твоего Господа? Мы распределили между ними их средства к существованию в мирской жизни и возвысили одних из них над другими по степеням, чтобы одни из них брали в услужение себе других. Милость твоего Господа лучше того, что они собирают.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 43:26–32
اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، بلاشبہ میں بیزار ہوں ان (بتوں) سے جن کی تم عبادت کرتے ہو (26) سوائے اس (اللہ) کے جس نے پیدا کیا مجھے، پس بے شک وہ عنقریب رہنمائی کرے گا میری (27) اور کرد یا اس (کلمہ ٔ توحید)کو ایک کلمہ باقی رہنے والا اپنی اولاد میں، تاکہ وہ رجوع کریں (28)بلکہ فائدہ پہنچایا میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو، یہاں تک کہ آیا ان کے پاس حق اور رسول کھول کر بیان کرنے والا(29) اور جب آیا ان کے پاس حق، تو کہا انھوں نے، یہ تو جادو ہے اور بلاشبہ ہم اس کےساتھ کفر کرنے والے ہیں (30) اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں نازل کیا گیا یہ قرآن کسی آدمی پر ان دونوں شہروں میں سے، جو بڑا ہو (31) کیا وہ تقسیم کرتے ہیں رحمت آپ کے رب کی؟ ہم ہی نے تقسیم کی ہے ان کے درمیان ان کی روزی زندگانیٔ دنیا میں اور بلند کیا ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے درجوں میں، تاکہ بنائے ان کا بعض، بعض کو خدمت گار، اور رحمت آپ کے رب کی بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں (32)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیمu کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں، جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے، خبر دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’اور جب ابراہیم(u) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لیے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ﴿اِنَّنِيۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، بلاشبہ میں ان سے بیزار ہوں۔‘‘ یعنی میں اس خود ساختہ معبود سے جس کی تم عبادت کرتے ہو، سخت نفرت کرتا ہوں اور اس کی عبادت کرنے والوں سے عداوت رکھتا ہوں اور ان سے دور رہتا ہوں۔
[27]﴿اِلَّا الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ ﴾ ’’ہاں جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘ پس میں اسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ حق کے علم و عمل کے راستے میں میری راہ نمائی فرمائے گا اور جس طرح اس نے مجھے پیدا کیا اور ان امور کے ذریعے سے میری تدبیر کی جو میرے بدن اور میری دنیا کے لیے درست ہیں، اسی طرح ﴿فَاِنَّهٗ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ ان امور میں بھی میری راہ نمائی فرمائے گا جو میرے دین اور میری آخرت کے لیے درست ہیں۔
[28]﴿وَجَعَلَهَا ﴾ ’’اور اس کو کیا۔‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کو جو تمام خصائل کی اساس ہے اور وہ ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرنا اور غیر اللہ کی عبادت سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کرنا، ﴿كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيۡ عَقِبِهٖ﴾ ’’باقی رہنی والی بات اس کے پیچھے آنے والوں میں۔‘‘ یعنی آپ کی ذریت میں ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید وہ اس بنا پر اس کلمۂ اخلاص کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس کا آپ کی طرف منسوب ہونا شہرت رکھتا ہے، نیز اس بنا پر کہ آپ نے اپنی اولاد کو اس کلمۂ اخلاص کی وصیت کی اور آپ کی اولاد میں سے بعض جیسے: اسحاقu اور یعقوبu نے دوسرے نسبی بیٹوں کو اسی کلمۂ اخلاص کی وصیت کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّةِ اِبۡرٰؔهٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ١ؕ وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا١ۚ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ۰۰اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰ وَوَصّٰى بِهَاۤ اِبۡرٰؔهٖمُ بَنِيۡهِ وَيَعۡقُوۡبُ١ؕ يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ۰۰ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ۰۰ ﴾(البقرہ:2؍133-130) ’’ اور کون بے رغبتی کرسکتا ہے ملت ابراہیم سے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو احمق بنالیا اور بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور یقینا وہ آخرت میں ضرور نیکو کاروں میں سے ہو گا اور جب ابراہیم سے اس کے رب نے کہا: فرمانبردار ہو جا! تو اس نے کہا :میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا ابراہیم نے اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی (کلمۂ حق) کی وصیت کی: اے میرے بیٹو !بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، پس تمھیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا جب یعقوب کو موت آئی اس وقت تم موجود تھے؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔ ‘‘
[29] یہ کلمۂ اخلاص ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ موجود رہا ہے، یہاں تک کہ خوشحالی اور سرکشی ان پر غالب آ گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ مَتَّعۡتُ هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ میں نے ان کو اور ان کے آباء واجداد کو مختلف انواع کی شہوات سے متمتع ہونے دیا یہاں تک کہ یہی شہوات ان کا مطمح نظر اور ان کا مقصد بن گئیں، ان کے دلوں میں ان شہوات کی محبت پھلتی پھولتی رہی، حتی کہ ان کی صفات اور بنیادی عقائد بن گئیں۔ ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ﴿وَرَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور صاف صاف سنانے والا رسول۔‘‘ یعنی آپ کی رسالت واضح تھی آپ کے اخلاق و معجزات سے آپ کی رسالت پر واضح اور نمایاں دلائل قائم ہوئے جو آپ لے کر مبعوث ہوئے ا ور انبیاء و مرسلین نے آپ کی تصدیق کی اور خود آپ کی دعوت سے بھی آپ کی رسالت پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔
[30]﴿وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جو اس شخص پر جس میں ادنیٰ سا دین اور عقل ہے، واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑی مخالفت ہے، پھر انھوں نے مجرد انکار اور روگردانی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا۔ پس وہ اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک کہ انھوں نے اس میں جرح و قدح نہ کی اور اسے جادو قرار نہ دے دیا، جسے بدترین لوگ اور سب سے بڑے افترا پرداز ہی پیش کرتے ہیں۔اور جس چیز نے ان کو اس رویے پر آمادہ کیا وہ ہے ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کا ان کو اور ان کے آباء کو سامان زیست سے نوازنا۔
[31]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی انھوں نے اپنی عقل فاسد کے مطابق اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ﴿لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ﴾ ’’یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا؟‘‘ جو مکہ اور طائف کے لوگوں کے ہاں معظم اور معزز ہوتا اور وہ شخص ہوتا جو ان کے ہاں سردار شمار ہوتا ہے ، مثلاً: ولیدبن مغیرہ وغیرہ۔
Страница 491
43:23
وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّقۡتَدُونَ ٢٣
Таким же образом, какого бы предостерегающего увещевателя Мы ни отправляли до тебя в какое-либо селение, его изнеженные роскошью жители обязательно говорили: «Воистину, мы нашли своих отцов на этом пути, и мы верно следуем по их стопам».
43:24
۞ قَٰلَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكُم بِأَهۡدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمۡ عَلَيۡهِ ءَابَآءَكُمۡۖ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٢٤
Он сказал: «А если я принес вам то, что более верно, чем то, на чем вы нашли ваших отцов?». Они сказали: «Мы не веруем в то, с чем вы посланы».
43:25
فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٢٥
Мы отомстили им. Посмотри же, каким был конец тех, кто считает истину ложью.
43:26
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦٓ إِنَّنِي بَرَآءٞ مِّمَّا تَعۡبُدُونَ ٢٦
Вот Ибрахим (Авраам) сказал своему отцу и народу: «Воистину, я не имею отношения к тому, чему вы поклоняетесь,
43:27
إِلَّا ٱلَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُۥ سَيَهۡدِينِ ٢٧
кроме Того, Кто сотворил меня. Воистину, Он поведет меня прямым путем».
43:28
وَجَعَلَهَا كَلِمَةَۢ بَاقِيَةٗ فِي عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٢٨
Он сделал это (свидетельство о том, что нет божества, кроме Аллаха) словом, пребывающим в его потомстве, чтобы они могли вернуться на прямой путь.
43:29
بَلۡ مَتَّعۡتُ هَٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ وَرَسُولٞ مُّبِينٞ ٢٩
Но Я позволил им и их отцам пользоваться благами до тех пор, пока к ним не явились истина и разъясняющий посланник.
43:30
وَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ وَإِنَّا بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٣٠
Когда же истина явилась к ним, они сказали: «Это - колдовство, и мы не веруем в него».
43:31
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنَ ٱلۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيمٍ ٣١
Они также сказали: «Почему этот Коран не был ниспослан великому мужу из двух городов (Мекки и Таифа)?».
43:32
أَهُمۡ يَقۡسِمُونَ رَحۡمَتَ رَبِّكَۚ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُم مَّعِيشَتَهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَتَّخِذَ بَعۡضُهُم بَعۡضٗا سُخۡرِيّٗاۗ وَرَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ٣٢
Разве это они распределяют милость твоего Господа? Мы распределили между ними их средства к существованию в мирской жизни и возвысили одних из них над другими по степеням, чтобы одни из них брали в услужение себе других. Милость твоего Господа лучше того, что они собирают.
43:33
وَلَوۡلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ لَّجَعَلۡنَا لِمَن يَكۡفُرُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ لِبُيُوتِهِمۡ سُقُفٗا مِّن فِضَّةٖ وَمَعَارِجَ عَلَيۡهَا يَظۡهَرُونَ ٣٣
Если бы люди не могли стать одной общиной неверующих, то Мы сделали бы в домах тех, которые не веруют в Милостивого, серебряные крыши и лестницы, на которые они бы взбирались,