Аль-МаидаДжуз 6 · Страница 117

Аль-Маида 5:54

Трапеза · Джуз 6 · Страница 117

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَسَوۡفَ يَأۡتِي ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ يُحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَآئِمٖۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٥٤

О те, которые уверовали! Если кто-нибудь из вас отступит от своей религии, то Аллах приведет других людей, которых Он будет любить и которые будут любить Его. Они будут смиренны перед верующими и непреклонны перед неверующими, будут сражаться на пути Аллаха и не будут бояться порицания порицающих. Такова милость Аллаха, которую Он дарует, кому пожелает. Аллах - Объемлющий, Знающий.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аяту 5:54

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے تو عنقریب لائے گا اللہ ایسے لوگ کہ محبت کرتا ہوگا وہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہوں گے اس سے، نرم ہوں گے مومنوں پر، سختی کرنے والے کافروں پر وہ جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے وہ کسی ملامت گر کی ملامت سے، یہ فضل ہے اللہ کا دیتا ہے وہ یہ جسے چاہتا ہے اور اللہ کشائش والا خوب جاننے والا ہے(54)

[54] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے ﴿ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾ ’’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندے کو مشرف فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے تمام اسباب مہیا کر دیتا ہے، ہر قسم کی مشکل اس پر آسان کر دیتا ہے، نیک کام کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور بندوں کے دلوں کو محبت اور مودت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔اپنے رب کے ساتھ بندے کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں ظاہری اور باطنی طور پر رسول اللہﷺ کی متابعت کی صفت سے متصف ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ ﴾(آل عمران: 3؍31) ’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ جیسے بندے کے ساتھ رب کی محبت کے لوازم میں سے یہ ہے کہ بندہ کثرت سے فرائض اور نوافل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے ایک صحیح حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نقل فرمایا ہے: ’’میرا بندہ جس چیز کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان میں فرائض سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے محبوب نہیں ۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں ‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث: 6502)اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لوازم میں سے اس کی معرفت اور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بغیر اس کے ساتھ محبت ناقص ہے بلکہ اس محبت کا وجود ہی نہیں اگرچہ اس کا دعویٰ کیا جائے۔جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ کثرت سے اس کا ذکر کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے تھوڑے سے عمل کو قبول فرما لیتا ہے اور اس کی بہت سی لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی صفات میں سے یہ ہے ﴿ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’نرم ہیں مومنوں پر، سخت ہیں کافروں پر‘‘ پس وہ اہل ایمان کے ساتھ محبت، ان کے لیے خیر خواہی، ان کے لیے نرمی اور مہربانی، ان کے لیے رحمت و رافت اور ان کے ساتھ شفقت بھرے رویے کی بنا پر ان کے لیے نرم خو ہوتے ہیں ۔ نیز کسی ایسی چیز کے قرب کی بنا پر جو اس سے مطلوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں ، اس کی آیت سے عناد رکھنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی عداوت پر ان کی ہمت اور عزائم مجتمع ہوتے ہیں اور وہ ان پر فتح حاصل کرنے کے لیے ہر سبب میں پوری کوشش کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾(الانفال: 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے قوت و طاقت کے ساتھ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر ان کے مقابلے کے لیے مستعد رہو، اس کے ذریعے سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرائے رکھو۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾(الفتح: 48؍29)’’وہ کافروں کے لیے نہایت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے بارے میں سخت رویہ رکھنا، ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے اور ان کے ساتھ سختی اور ناراضی میں بندہ اپنے رب کی موافقت کرتا ہے اور ان کے بارے میں سخت رویہ ان کو دین اسلام کی طرف ایسے طریقے سے دعوت دینے سے مانع نہیں جو بہتر ہو۔ ان کے بارے میں سخت رویہ اور دعوت دین میں نرمی دونوں یکجا ہوں ۔ دونوں امور میں ان کے لیے مصلحت ہے جس کا فائدہ انھی کی طرف لوٹتا ہے۔﴿ يُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ (اپنی جان، مال، اقوال اور افعال کے ذریعے سے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَآىِٕمٍ﴾ ’’وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے‘‘ بلکہ وہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور مخلوق کی ملامت کی بجائے اپنے رب کی ملامت سے ڈرتے ہیں ۔ اور یہ رویہ ان کے ارادوں اور عزائم کی پختگی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کمزور دل والا، ارادے کا بھی کمزور ہوتا ہے۔ ملامت گروں کی ملامت پر اس کی عزیمت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور نکتہ چینوں کی نکتہ چینی پر اس کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ مخلوق کی رعایت، ان کی رضا اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر ترجیح کے مطابق بندوں کے دلوں میں غیر اللہ کا تعبد جنم لیتا ہے۔ قلب، غیر اللہ کی عبادت سے اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے ڈرنا چھوڑ نہ دے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان صفات جمیلہ اور مناقب عالیہ سے نواز کر ان کی مدح کی ہے جو ایسے افعال خیر کو مستلزم ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ ان پر محض اس کا فضل و احسان ہے۔ تاکہ وہ خود پسندی کا شکار نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں جس نے ان پر احسان کیا تاکہ وہ ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ نوازے اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم محجوب نہیں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے‘‘ یعنی وہ وسیع فضل و کرم اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اولیا ءکو وسیع فضل و کرم سے نوازتا ہے جس سے وہ اوروں کو نہیں نوازتا۔ مگر وہ علم رکھتا ہے کہ کون اس کے فضل کا مستحق ہے پس وہ اسی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اصولی اور فروعی طور پر رسالت سے کسے نوازنا ہے۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 117

Аль-МаидаДжуз 6 · Страница 117

5:51

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥١

О те, которые уверовали! Не считайте иудеев и христиан своими помощниками и друзьями, поскольку они помогают друг другу. Если же кто-либо из вас считает их своими помощниками и друзьями, то он сам является одним из них. Воистину, Аллах не ведет прямым путем несправедливых людей.

5:52

فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ ٥٢

Ты видишь, что те, чьи сердца поражены недугом, поспешают среди них и говорят: «Мы боимся, что нас постигнет беда». Но, может быть, Аллах явится с победой или своим повелением, и тогда они станут сожалеть о том, что утаивали в себе.

5:53

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ إِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡۚ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَأَصۡبَحُواْ خَٰسِرِينَ ٥٣

Те, которые уверовали, скажут: «Неужели это - те, которые приносили величайшие клятвы именем Аллаха о том, что они были с вами?». Тщетны были их деяния, и они оказались потерпевшими убыток.

5:54

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَسَوۡفَ يَأۡتِي ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ يُحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَآئِمٖۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٥٤

О те, которые уверовали! Если кто-нибудь из вас отступит от своей религии, то Аллах приведет других людей, которых Он будет любить и которые будут любить Его. Они будут смиренны перед верующими и непреклонны перед неверующими, будут сражаться на пути Аллаха и не будут бояться порицания порицающих. Такова милость Аллаха, которую Он дарует, кому пожелает. Аллах - Объемлющий, Знающий.

5:55

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمۡ رَٰكِعُونَ ٥٥

Вашим Покровителем является только Аллах, Его Посланник и верующие, которые совершают намаз, выплачивают закят и преклоняются.

5:56

وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ ٥٦

Если они считают Аллаха, Его Посланника и верующих своими покровителями и помощниками, то ведь поборники Аллаха непременно окажутся победителями.

5:57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَكُمۡ هُزُوٗا وَلَعِبٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَٱلۡكُفَّارَ أَوۡلِيَآءَۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٥٧

О те, которые уверовали! Не считайте тех, которым Писание было даровано до вас и которые глумятся над вашей религией и считают ее развлечением, и неверующих своими помощниками и друзьями. Бойтесь Аллаха, если вы являетесь верующими.

Ас-СаадиТафсир · 5:54

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English