Ат-Тур 52:21
Гора · Джуз 27 · Страница 524
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١
Мы воссоединим верующих с их потомками, которые последовали за ними в вере, и нисколько не умалим их деяний. Каждый человек является заложником того, что он приобрел.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 52:21–28
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28)
[21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔
[22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔
[23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔
[24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔
[25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔
[26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔
[27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔
[28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
Страница 524
52:15
أَفَسِحۡرٌ هَٰذَآ أَمۡ أَنتُمۡ لَا تُبۡصِرُونَ ١٥
Неужели это колдовство? Или же вы не видите?
52:16
ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٦
Горите в нем! Вам все равно, будете вы терпеть или не станете проявлять терпения. Вам воздается только за то, что вы совершали.
52:17
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَنَعِيمٖ ١٧
Воистину, богобоязненные пребудут в Райских садах и блаженстве.
52:18
فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ١٨
Они будут радоваться тому, чем их одарит их Господь. Господь их уберег их от мучений в Аду.
52:19
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٩
Ешьте и пейте во здравие за то, что вы совершали!
52:20
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ ٢٠
Они будут, прислонившись, возлежать на ложах, выстроенных в ряд, и Мы сочетаем их с черноокими, большеглазыми гуриями.
52:21
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١
Мы воссоединим верующих с их потомками, которые последовали за ними в вере, и нисколько не умалим их деяний. Каждый человек является заложником того, что он приобрел.
52:22
وَأَمۡدَدۡنَٰهُم بِفَٰكِهَةٖ وَلَحۡمٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ٢٢
Мы наделим их фруктами и мясом таким, какое они пожелают.
52:23
يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ ٢٣
Они будут передавать друг другу чашу с вином, которое не принесет ни празднословия, ни греха.
52:24
۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ ٢٤
Их будут обходить их юные слуги, подобные сокрытому жемчугу.
52:25
وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٢٥
Они будут расспрашивать друг друга.
52:26
قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ ٢٦
Они скажут: «Прежде, находясь в кругу своих семей, мы трепетали от страха.
52:27
فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ ٢٧
Аллах же оказал нам милость и уберег нас от мучений знойного ветра (или мучений в Аду).
52:28
إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ ٢٨
Мы взывали к Нему прежде. Воистину, Он - Добродетельный, Милосердный».
52:29
فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ ٢٩
Напоминай же! По милости своего Господа ты не являешься ни прорицателем, ни одержимым.
52:30
أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ ٣٠
Или же они говорят: «Он - поэт! Давайте же подождем, пока время не разберется с ним».
52:31
قُلۡ تَرَبَّصُواْ فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُتَرَبِّصِينَ ٣١
Скажи: «Ждите, и я подожду вместе с вами».