Аль-ХадидДжуз 27 · Страница 539

Аль-Хадид 57:14

Железо · Джуз 27 · Страница 539

يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ١٤

Они будут взывать к ним: «Разве мы не были с вами?». Они скажут: «Да, но вы соблазняли самих себя, выжидали, сомневались и обольщались надеждами до тех пор, пока не явилось повеление Аллаха. Соблазнитель (дьявол) обманул вас относительно Аллаха.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 57:12–15

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)

[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔

[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔

[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔

[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 539

Аль-ХадидДжуз 27 · Страница 539

57:12

يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٢

в тот день, когда ты увидишь, как перед верующими мужчинами и верующими женщинами и справа от них будет распространяться их свет. Возрадуйтесь сегодня Райским садам, в которых текут реки. Вы пребудете в них вечно. Это и есть великое преуспеяние.

57:13

يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ ١٣

В тот день лицемеры и лицемерки скажут верующим: «Погодите, мы позаимствуем у вас немного света». Им будет сказано: «Возвращайтесь назад и ищите свет». Между ними будет возведен забор с вратами, с внутренней стороны которого будет милость, а снаружи - мучения.

57:14

يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ١٤

Они будут взывать к ним: «Разве мы не были с вами?». Они скажут: «Да, но вы соблазняли самих себя, выжидали, сомневались и обольщались надеждами до тех пор, пока не явилось повеление Аллаха. Соблазнитель (дьявол) обманул вас относительно Аллаха.

57:15

فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنكُمۡ فِدۡيَةٞ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ مَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُۖ هِيَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٥

Сегодня ни от вас, ни от неверующих не примут выкупа. Вашим пристанищем будет Огонь, который более всего подобает вам. Как же скверно это место прибытия!».

57:16

۞ أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ ١٦

Разве не пришло время для того, чтобы сердца верующих смирились при упоминании Аллаха и того, что ниспослано из истины, и чтобы не уподоблялись они тем, которым Писание было даровано прежде, чьи сердца почерствели по прошествии долгого времени и многие из которых являются нечестивцами?

57:17

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٧

Знайте, что Аллах оживляет землю после ее смерти. Мы уже разъяснили вам знамения, - может быть, вы уразумеете.

57:18

إِنَّ ٱلۡمُصَّدِّقِينَ وَٱلۡمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقۡرَضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ أَجۡرٞ كَرِيمٞ ١٨

Воистину, для мужчин и женщин, которые раздавали милостыню и одолжили Аллаху прекрасный заем, он будет увеличен. Им уготована щедрая награда.

Ас-СаадиТафсир · 57:14

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English