Аль-Анам 6:142
Скот · Джуз 8 · Страница 146
وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ١٤٢
Среди скотины есть предназначенная для перевозки и не предназначенная для этого. Ешьте из того, чем вас наделил Аллах, и не следуйте по стопам дьявола, ведь он для вас - явный враг.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 6:142–144
اور (پیدا کیے) چوپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے، کھاؤ اس میں سے جو دیا تمھیں اللہ نے اور مت پیچھے لگوقدموں کے شیطان کے، یقینا وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر (142)(پیدا فرمائیں) آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر اللہ نے حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ تم خبر دو مجھے ساتھ علم کے، اگر ہو تم سچے (143)اور (پیدا فرمائے) اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر حرام کیے اللہ نے یا دونوں مادہ یا وہ(بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ کیا تھے تم حاضر جب وصیت کی تھی تمھیں اللہ نے اس کی؟ پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے گھڑا اوپر اللہ کے جھوٹ تاکہ گمراہ کرے وہ لوگوں کو بغیر علم کے، یقینا اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(144)
[142]﴿وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ﴾ ’’اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے ، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں ۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر‘‘ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔
[143] یہ چوپائے جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان سب کو حلال اور طیب قرار دیا ان کی تفصیل یوں بیان کی ہے ﴿ ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’پیدا کیے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو‘‘ یعنی نر اور مادہ ﴿ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور دو (۲) بکریوں میں سے۔‘‘ یعنی اسی طرح بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ۔ یہ چار اصناف ان مویشیوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔ ان تکلف کرنے والوں سے کہہ دیجیے جو ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں یا ان میں سے کچھ اصناف کو عورتوں پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔ جس کو انھوں نے مباح اور جس کو انھوں نے حرام ٹھہرایا، ان دونوں کے درمیان فرق کے عدم وجود کو ان پر لازم کرتے ہوئے ان سے کہیے ﴿ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ۠ ﴾ ’’کیا دونوں (کے) نروں کو۔‘‘ یعنی بھیڑ اور بکری میں سے ان کے نر کو ﴿ حَرَّمَ ﴾ ’’(اللہ تعالیٰ نے) حرام ٹھہرایا؟‘‘ پس تم اس بات کے قائل نہیں ہو ﴿ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا دونوں (کے) مادہ کو۔‘‘ یعنی مادہ بھیڑ اور بکری کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟ تم اس بات کے بھی قائل نہیں ہو۔ تم دونوں اصناف میں سے خالص نر کی تحریم کے قائل ہو نہ خالص مادہ کی۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر مادہ کا رحم نر اور مادہ بچے پر مشتمل ہو یا نر اور مادہ کے بارے میں علم نہ ہو۔ پس فرمایا ﴿ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا جو بچہ دونوں ماداؤں کے پیٹوں میں ہو۔‘‘ یعنی کیا تم نر اور مادہ کے فرق کے بغیر اسے حرام ٹھہراتے ہو جو بھیڑ یا بکری کے رحم میں ہے؟ تم اس قول کے بھی قائل نہیں ہو۔ جب تم ان تین اقوال میں کسی ایک قول کے بھی قائل نہیں جو ممکنہ تمام صورتوں پر محیط ہیں ۔ تو پھر تم کون سے مذہب پر عامل ہو ﴿ نَبِّـُٔوۡنِيۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ‘‘اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے قول اور دعوے میں سچے ہو تو مجھے علمی دلیل سے آگاہ کرو اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ وہ کوئی ایسا قول نہیں لا سکتے جسے عقل تسلیم کر لے، سوائے اس کے کہ مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بات کہیں اور وہ ان میں سے کوئی بات نہیں کہتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ بعض مویشی جن کے بارے میں انھوں نے اپنی طرف سے کچھ اصطلاحات گھڑ رکھی ہیں مردوں کی بجائے عورتوں پر حرام ہیں ۔ یا وہ بعض اوقات و احوال میں حرام ہیں یا اس قسم کے دیگر اقوال، جن کے بارے میں بلاشک و شبہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مصدر جہل مرکب، راہ راست سے منحرف عقل اور فاسد آراء و نظریات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس کوئی اور حجت و برہان ہے۔
[144] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ وَصّٰؔىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا﴾ ’’کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا‘‘ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں ، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں ‘‘ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں ۔
Страница 146
6:138
وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ١٣٨
На основании своих предположений они говорят: «Эта скотина и эти посевы запретны. Питаться ими может только тот, кому мы позволим». На одной скотине они запрещают ездить верхом и возить грузы, а над другой скотиной они не произносят имени Аллаха, возводя на Него навет. Он воздаст им за то, что они измышляют!
6:139
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ١٣٩
Они говорят: «То, что находится в утробах этой скотины, дозволено нашим мужчинам и запрещено нашим женам». Если же он рождается мертвым, то все они получают право на него. Аллах воздаст им за то, что они приписывали, ведь Он - Мудрый, Знающий.
6:140
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ١٤٠
Понесли урон те, которые убивали своих детей по глупости, без всякого знания, и запрещали то, чем наделял их Аллах, возводя навет на Аллаха. Они впали в заблуждение и не последовали прямым путем.
6:141
۞ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ١٤١
Он - Тот, Кто создал сады на трельяжах и без трельяжей, финиковые пальмы и злаки с различным вкусом, оливки и гранаты, имеющие сходства и различия. Вкушайте эти плоды, когда они созревают, и отдавайте должное в день уборки, но не излишествуйте, ведь Он не любит тех, кто излишествует.
6:142
وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ١٤٢
Среди скотины есть предназначенная для перевозки и не предназначенная для этого. Ешьте из того, чем вас наделил Аллах, и не следуйте по стопам дьявола, ведь он для вас - явный враг.