Аль-АнамДжуз 8 · Страница 150

Аль-Анам 6:161

Скот · Джуз 8 · Страница 150

قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٦١

Скажи: «Воистину, мой Господь наставил меня на прямой путь, на правильную религию, веру Ибрахима (Авраама), ханифа. Ведь он не был из числа многобожников».

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 6:161–165

کہہ دیجیے!بلاشبہ میں،ہدایت دی مجھے میرے رب نے طرف صراط مستقیم کی(، یعنی ) دین صحیح کی،جو طریقہ ہے ابراہیم کا اس حال میں کہ وہ رب کا پرستارتھا،اورنہیں تھا وہ مشرکوں میں سے(161) کہہ دیجیے!یقینا میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت(سب) اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162) نہیں کوئی شریک اس کا،اور اسی کا حکم دیا گیا ہوں میں،اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں (163) کہہ دیجیے!کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں رب؟جبکہ وہی ہے رب ہر چیز کا،اور نہیں کماتی کوئی جان(گناہ) مگر اسی پر ہے(وبال) اور نہیں اٹھائے گی کوئی (جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ دوسری(جان)کا، پھر طرف تمھارے رب کی واپسی ہے تمھاری پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(164) اور وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں اور بلند کیا تمھارے ایک کو دوسرے پر درجات میں تاکہ آزمائے وہ تمھیں ان(نعمتوں) میں جو اس نے تمھیں دیں،بے شک آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے اور بلاشبہ بہت بخشنے والا،مہربان ہے(165)

[161] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے ۔

[162] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ صَلَاتِيۡ وَنُسُكِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی۔‘‘ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لیے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لیے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ۔ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِيۡ ﴾ ’’اور میرا جینا اور میرا مرنا۔‘‘ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لیے جو کچھ مقدر کرے گا۔﴿ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

[163]﴿ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ ﴾ ’’اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں ۔‘‘ یعنی اس امت میں ، پہلا مسلمان ہوں ۔

[164]﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اب میں اللہ کے سوا‘‘ یعنی مخلوق میں سے ﴿اَبۡغِيۡ رَبًّا﴾ ’’تلاش کروں کوئی رب؟‘‘ کیا یہ میرے لیے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اس پر راضی رہیں ۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی کو رب نہ بنائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا و سزا کی ترغیب و ترہیب کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ ﴾ ’’اور جو کوئی جو کماتا ہے‘‘ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے ﴿ اِلَّا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لیے ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لیے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھارے رب کے پاس ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘‘ یعنی خیروشر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا اور تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔

[165]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَكُمۡ خَلٰٓىِٕفَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور وہی توہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔‘‘ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمھارے لیے مسخر کر کے تمھیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ﴿ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’اور بلند کیا اس نے تمھیں درجوں میں ایک کو ایک پر‘‘ یعنی قوت، عافیت، رزق، خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی ﴿ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمھیں دیں ۔‘‘ پس تمھارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ﴿اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’تمھارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔‘‘ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 150

Аль-АнамДжуз 8 · Страница 150

6:158

هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ رَبُّكَ أَوۡ يَأۡتِيَ بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَۗ يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ ١٥٨

Неужели они ожидают чего-либо помимо того, что к ним явятся ангелы, или явится твой Господь, или явятся некоторые из знамений твоего Господа? В тот день, когда явятся некоторые знамения твоего Господа, вера не принесет пользы душе, если та не уверовала прежде или не приобрела благодаря своей вере добро. Скажи: «Ждите, и мы тоже подождем».

6:159

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ ١٥٩

Ты не имеешь никакого отношения к тем, которые раскололи свою религию и разделились на секты. Их дело находится у Аллаха, и позднее Он сообщит им о том, что они совершали.

6:160

مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشۡرُ أَمۡثَالِهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ١٦٠

Кто явится с добрым деянием, тот получит десятикратное воздаяние. А кто явится со злым деянием, тот получит только соответствующее воздаяние, и с ними не поступят несправедливо.

6:161

قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٦١

Скажи: «Воистину, мой Господь наставил меня на прямой путь, на правильную религию, веру Ибрахима (Авраама), ханифа. Ведь он не был из числа многобожников».

6:162

قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦٢

Скажи: «Воистину, мой намаз и мое жертвоприношение (или поклонение), моя жизнь и моя смерть посвящены Аллаху, Господу миров.

6:163

لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٦٣

Нет у Него сотоварищей. Это мне велено, и я - первый из мусульман».

6:164

قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡغِي رَبّٗا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيۡءٖۚ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ١٦٤

Скажи: «Неужели я стану искать другого господа помимо Аллаха, в то время как Он является Господом всякой вещи?». Каждая душа приобретает грехи только во вред самой себе. Ни одна душа не понесет чужого бремени. Затем вам предстоит вернуться к вашему Господу, и Он поведает вам о том, в чем вы расходились во мнениях.

6:165

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَٰٓئِفَ ٱلۡأَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمُۢ ١٦٥

Он - Тот, Кто сделал вас преемниками на земле и возвысил одних из вас над другими по степеням, чтобы испытать вас тем, что Он даровал вам. Воистину, твой Господь скор в наказании. Воистину, Он - Прощающий, Милосердный.

Ас-СаадиТафсир · 6:161

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English