Аль-Хакка 69:39
Неминуемое · Джуз 29 · Страница 568
وَمَا لَا تُبۡصِرُونَ ٣٩
и тем, чего вы не видите!
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 69:38–52
سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52)
[43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
[47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
[48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔
[49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔
[50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔
[51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
[52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
Страница 568
69:35
فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَٰهُنَا حَمِيمٞ ٣٥
Сегодня здесь у него нет любящего родственника,
69:36
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنۡ غِسۡلِينٖ ٣٦
и нет пищи, кроме кровавого гноя.
69:37
لَّا يَأۡكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡخَٰطِـُٔونَ ٣٧
Едят его только грешники.
69:38
فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ ٣٨
О да! Клянусь тем, что вы видите,
69:39
وَمَا لَا تُبۡصِرُونَ ٣٩
и тем, чего вы не видите!
69:40
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ ٤٠
Это - слова благородного посланца (Мухаммада или Джибрила).
69:41
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٖۚ قَلِيلٗا مَّا تُؤۡمِنُونَ ٤١
Это - не слова поэта. Мало же вы веруете!
69:42
وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٖۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ ٤٢
Это - не слова прорицателя. Мало же вы поминаете назидания!
69:43
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٣
Это - Ниспослание от Господа миров.
69:44
وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ ٱلۡأَقَاوِيلِ ٤٤
Если бы он приписал Нам некоторые слова,
69:45
لَأَخَذۡنَا مِنۡهُ بِٱلۡيَمِينِ ٤٥
то Мы схватили бы его за правую руку (или схватили бы его крепко),
69:46
ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ ٱلۡوَتِينَ ٤٦
а потом перерезали бы ему аорту,
69:47
فَمَا مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ عَنۡهُ حَٰجِزِينَ ٤٧
и никто из вас не избавил бы его.
69:48
وَإِنَّهُۥ لَتَذۡكِرَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ ٤٨
Воистину, это - Назидание для богобоязненных.
69:49
وَإِنَّا لَنَعۡلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ ٤٩
Нам известно, что среди вас есть считающие его ложью.
69:50
وَإِنَّهُۥ لَحَسۡرَةٌ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٥٠
Воистину, это - горе для неверующих.
69:51
وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلۡيَقِينِ ٥١
Воистину, это - убедительная истина.
69:52
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٥٢
Прославляй же имя Господа твоего Великого!
سورة المعارج
Аль-Мааридж
Ступени · мекканская · 44 аята
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
70:1
سَأَلَ سَآئِلُۢ بِعَذَابٖ وَاقِعٖ ١
Просящий просил мучения, которые постигают
70:2
لِّلۡكَٰفِرِينَ لَيۡسَ لَهُۥ دَافِعٞ ٢
неверующих. Никто не сможет предотвратить его
70:3
مِّنَ ٱللَّهِ ذِي ٱلۡمَعَارِجِ ٣
вопреки Аллаху, Владыке ступеней.
70:4
تَعۡرُجُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥ خَمۡسِينَ أَلۡفَ سَنَةٖ ٤
Ангелы и Дух (Джибрил) восходят к Нему в течение дня, равного пятидесяти тысячам лет.
70:5
فَٱصۡبِرۡ صَبۡرٗا جَمِيلًا ٥
Прояви же красивое терпение.
70:6
إِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهُۥ بَعِيدٗا ٦
Они считают его далеким.
70:7
وَنَرَىٰهُ قَرِيبٗا ٧
Мы же видим, что оно близко.
70:8
يَوۡمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلۡمُهۡلِ ٨
В тот день, когда небо станет подобно расплавленному металлу (или осадку масла; или кровавому гною),
70:9
وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٩
а горы станут подобны шерсти,
70:10
وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمٗا ١٠
родственник не станет расспрашивать родственника,