Аль-ИнсанДжуз 29 · Страница 579

Аль-Инсан 76:13

Человек · Джуз 29 · Страница 579

مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۖ لَا يَرَوۡنَ فِيهَا شَمۡسٗا وَلَا زَمۡهَرِيرٗا ١٣

Они будут лежать на ложах, прислонившись, и не увидят там ни солнца, ни стужи.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 76:4–31

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور سخت بھڑکتی آگ(4) یقیناً نیک لوگ پئیں گے ایسے جام سے کہ ہو گی اس میں ملاوٹ کافور کی(5) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے اللہ کے بندے، وہ بہا لے جائیں گے اسے (جدھر چاہیں گے) بہا لے جانا آسانی سے (6) وہ پوری کرتے ہیں نذر (اپنی) اور ڈرتے ہیں اس دن (کے عذاب) سے کہ ہو گا شر اس کا پھیل جانے والا(7) اور وہ کھلاتے ہیں کھانا باوجود اس کی محبت کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو(8)(کہتے ہیں:) بس ہم تو تمھیں کھاناکھلاتے ہیں اللہ ہی کی ذات کے لیے، اور نہیں چاہتے ہم تم سے کوئی جزا اور نہ شکریہ (9) بلاشبہ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن سے جو ہو گا نہایت سخت بہت لمبا (10) سو بچائے گا انھیں اللہ، شر (عذاب) سے اس دن کے اور عطا کرے گا ان کو تازگی اور سرور (11) اور جزا دے گا انھیں بوجہ ان کے صبر کے جنت اور ریشمی لباس (12) وہ تکیہ لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر، نہیں دیکھیں گے اس (جنت) میں سخت دھوپ اور نہ سخت سردی (13) اور جھکے ہوں گے ان پر اس (جنت) کے سائے اور آسان کر دیا جائے گا (حصول) ان کے پھلوں کا نہایت آسان (14) اور پھرائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے اور ایسے آبخورے کہ ہوں گے وہ شیشے کے (15) شیشے (بھی) چاندی کے(16)(ساقی)انھیں ٹھیک اندازے سے بھریں گے (17) اور پلائے جائیں گے وہ اس (جنت) میں ایسا جام شراب کہ ہو گی اس میں ملاوٹ زنجبیل (سونٹھ) کی (18)(یہ) چشمہ ہے۔ جنت میں کہ نام رکھا جاتا ہے (اس کا) سلسبیل (19) اور گھومیں گے ان پر ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے جب تو دیکھے گا انھیں تو سمجھے گا ان کو موتی بکھرے ہوئے(20) اور جب تو دیکھے گا وہاں، تو دیکھے گا تو نعمت اور سلطنت بڑی (21) ان پر کپڑے (لباس) ہوں گے باریک سبز اور دبیز ریشم کے اور زیور پہنائے جائیں گے ان کو کنگن چاندی کے اور پلائے گا انھیں ان کا رب شرابِ طَہور (22)(انھیں کہا جائے گا:)بلاشبہ یہ ہے تمھارے لیے جزا، اور ہے کوشش تمھاری قابل قدر (23) یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا اتارنا (23) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ اطاعت کیجیے ان میں سے کسی گناہ گار یا کافر کی (24) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا صبح اور شام (25) اور کچھ (حصہ) رات میں بھی پس سجدہ کیجیے اس کے لیے اور اس کی تسبیح کیجیے رات میں دیر تک (26) بلاشبہ یہ لوگ پسند کرتے ہیں دنیا کو اور چھوڑتے ہیں اپنے پیچھے بھاری دن کو (27) ہم ہی نے پیدا کیا انھیں اور مضبوط کیے ہم نے ان کے جوڑ، اور جب ہم چاہیں بدل کر لے آئیں ان جیسے (اور لوگ) تبدیل کر کے (28) بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے، سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ(29) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ ہی، یقیناً ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (30) وہ داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں، اور ظالم، اس نے تیار کیا ہے ان کے لیے عذاب درد ناک (31)

[4] جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ﴾(الحاقۃ:69؍32) ’’ پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔‘‘﴿وَاَغۡلٰلًا﴾’’اورطوق‘‘ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِيۡرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾(النساء:4؍56) ’’جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

[5] رہے ﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انھوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ ﴿يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ﴾ ’’ایسے جام سے پئیں گے‘‘ یعنی شراب سے انتہائی لذیذمشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ اس مشروب کو ٹھنڈا کر کے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہو گا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہو گا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے۔ ہر وہ آفت ان اسماء میں ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسماء دنیا میں بھی ہیں تو وہ (آفت) آخرت میں نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ۰۰ وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(الواقعہ:56/28-29) ’’وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں میں ہوں گے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ﴾(آل عمران:3؍15) ’’اور جنت میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی۔‘‘اور فرمایا : ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾(الانعام:6؍127) ’’ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ﴾(الزحزف:43؍71) ’’اور اس میں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہیں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔‘‘

[6]﴿عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے‘‘ یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں ان کے جملہ اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ ﴾ یعنی وہ جن نذروں اور معاہدوں کو اپنے آپ پر لازم کر لیتے تھے، انھیں پورا کرتے تھے۔ جب وہ نذر کو پورا کرتے تھے، جو اصل میں ان پر واجب نہیں الّا یہ کہ وہ اسے خود اپنے آپ پر واجب کر لیں، تب فرائض اصلیہ کو تو بدرجہ اولیٰ قائم کرتے اور ان کو بجا لاتے ہوں گے ﴿ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا ﴾ یعنی اس دن خوف رکھتے تھے جس کی برائی نہایت سخت اور پھیل جانے والی ہے۔ پس انھیں خوف تھا کہ اس دن کی برائی کہیں انھیں نہ پہنچ جائے، اس لیے انھوں نے ہر وہ سبب چھوڑ دیا جو اس کا موجب تھا۔

[10-8]﴿وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ ﴾ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ﴾ ’’مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔‘‘ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں:﴿ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوۡرًا ﴾’’ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔‘‘ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا ﴾ ’’ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔‘‘ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَمۡطَرِيۡرًا ﴾ اور نہایت تنگ دن ہوگا۔

[11]﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ ﴾ ’’پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔‘‘ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ’’یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ ﴿ وَلَقّٰىهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضۡرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوۡرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔

[12]﴿ وَجَزٰىهُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾ ’’جنت ہے۔‘‘ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِيۡرًا﴾ ’’اور ریشم ہے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج:22؍23) ’’اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔‘‘ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔

[13]﴿ مُّتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا يَرَوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمۡسًا﴾ دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمۡهَرِيۡرًا﴾ ’’اور نہ سخت سردی‘‘ یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔

[14]﴿ وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ﴾ ’’اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔

Продолжить в тафсире всей суры

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 579

Аль-ИнсанДжуз 29 · Страница 579

76:6

عَيۡنٗا يَشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفۡجِيرٗا ٦

Рабы Аллаха будут пить из источника, давая ему течь полноводными ручьями.

76:7

يُوفُونَ بِٱلنَّذۡرِ وَيَخَافُونَ يَوۡمٗا كَانَ شَرُّهُۥ مُسۡتَطِيرٗا ٧

Они исполняют обеты и боятся дня, зло которого разлетается.

76:8

وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينٗا وَيَتِيمٗا وَأَسِيرًا ٨

Они дают пищу беднякам, сиротам и пленникам, несмотря на то, что она желанна и для них самих.

76:9

إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءٗ وَلَا شُكُورًا ٩

Они говорят: «Мы кормим вас лишь ради Лика Аллаха и не хотим от вас ни награды, ни благодарности!

76:10

إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوسٗا قَمۡطَرِيرٗا ١٠

Мы боимся от своего Господа того Мрачного и Томительного дня».

76:11

فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمِ وَلَقَّىٰهُمۡ نَضۡرَةٗ وَسُرُورٗا ١١

Аллах защитит их от зла того дня и одарит их процветанием и радостью.

76:12

وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةٗ وَحَرِيرٗا ١٢

А за то, что они проявили терпение, Он воздаст им Райскими садами и шелками.

76:13

مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۖ لَا يَرَوۡنَ فِيهَا شَمۡسٗا وَلَا زَمۡهَرِيرٗا ١٣

Они будут лежать на ложах, прислонившись, и не увидят там ни солнца, ни стужи.

76:14

وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلَٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوفُهَا تَذۡلِيلٗا ١٤

Тени будут близки к ним, и плоды будут подчинены им полностью.

76:15

وَيُطَافُ عَلَيۡهِم بِـَٔانِيَةٖ مِّن فِضَّةٖ وَأَكۡوَابٖ كَانَتۡ قَوَارِيرَا۠ ١٥

Обходить их будут с сосудами из серебра и кубками из хрусталя -

76:16

قَوَارِيرَاْ مِن فِضَّةٖ قَدَّرُوهَا تَقۡدِيرٗا ١٦

хрусталя серебряного, соразмерных размеров.

76:17

وَيُسۡقَوۡنَ فِيهَا كَأۡسٗا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا ١٧

Поить их там будут из чаш вином, смешанным с имбирем,

76:18

عَيۡنٗا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلۡسَبِيلٗا ١٨

из источника, названного Салсабилем.

76:19

۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَهُمۡ حَسِبۡتَهُمۡ لُؤۡلُؤٗا مَّنثُورٗا ١٩

Их будут обходить вечно юные отроки. Взглянув на них, ты примешь их за рассыпанный жемчуг.

76:20

وَإِذَا رَأَيۡتَ ثَمَّ رَأَيۡتَ نَعِيمٗا وَمُلۡكٗا كَبِيرًا ٢٠

Взглянув же, ты увидишь там благодать и великую власть.

76:21

عَٰلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٞ وَإِسۡتَبۡرَقٞۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٖ وَسَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابٗا طَهُورًا ٢١

На них будут зеленые одеяния из атласа и парчи. Они будут украшены серебряными браслетами, а Господь их напоит их чистым напитком.

76:22

إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمۡ جَزَآءٗ وَكَانَ سَعۡيُكُم مَّشۡكُورًا ٢٢

Таково ваше воздаяние, и ваше усердие отблагодарено.

76:23

إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ تَنزِيلٗا ٢٣

Воистину, Мы ниспослали тебе Коран частями.

76:24

فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ ءَاثِمًا أَوۡ كَفُورٗا ٢٤

Потерпи же до решения твоего Господа и не повинуйся грешникам и неверующим среди них.

76:25

وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا ٢٥

Поминай имя твоего Господа утром и перед закатом,

Ас-СаадиТафсир · 76:13

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English