Аль-АнфальДжуз 9 · Страница 180

Аль-Анфаль 8:31

Трофеи · Джуз 9 · Страница 180

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا قَالُواْ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَٰذَآ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣١

Когда им читают Наши аяты, они говорят: «Мы уже слышали это. Если мы захотим, то сочиним нечто подобное. Ведь это - всего лишь легенды древних народов».

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 8:31–34

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)

[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔

[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔

[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 180

Аль-АнфальДжуз 9 · Страница 180

8:26

وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ أَنتُمۡ قَلِيلٞ مُّسۡتَضۡعَفُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمۡ وَأَيَّدَكُم بِنَصۡرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٢٦

Помните, что вы были малочисленны и считались слабыми на земле. Вы опасались, что люди схватят вас, но Он дал вам убежище, подкрепил вас Своей помощью и наделил вас благами, чтобы вы были благодарны.

8:27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَخُونُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓاْ أَمَٰنَٰتِكُمۡ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٢٧

О те, которые уверовали! Не предавайте Аллаха и Посланника и не покушайтесь на то, что вверено вам, сознательно.

8:28

وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ٢٨

Знайте, что ваше имущество и ваши дети являются искушением и что у Аллаха - великая награда.

8:29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَتَّقُواْ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانٗا وَيُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٢٩

О те, которые уверовали! Если вы будете бояться Аллаха, то Он одарит вас способностью различать истину и ложь, отпустит вам ваши прегрешения и простит вас. Воистину, Аллах обладает великой милостью.

8:30

وَإِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثۡبِتُوكَ أَوۡ يَقۡتُلُوكَ أَوۡ يُخۡرِجُوكَۚ وَيَمۡكُرُونَ وَيَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ ٣٠

Вот неверующие ухищрялись, чтобы заточить, убить или изгнать тебя. Они хитрили, и Аллах хитрил, а ведь Аллах - Наилучший из хитрецов.

8:31

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا قَالُواْ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَٰذَآ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣١

Когда им читают Наши аяты, они говорят: «Мы уже слышали это. Если мы захотим, то сочиним нечто подобное. Ведь это - всего лишь легенды древних народов».

8:32

وَإِذۡ قَالُواْ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلۡحَقَّ مِنۡ عِندِكَ فَأَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٢

Вот они сказали: «О Аллах! Если это является истиной от Тебя, то обрушь на нас камни с неба или же подвергни нас мучительным страданиям».

8:33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ٣٣

Аллах не стал подвергать их мучениям, пока ты находился среди них, и Аллах не стал подвергать их мучениям, пока они молили о прощении.

Ас-СаадиТафсир · 8:31

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English