Ат-Тарик 86:13
Ночной путник · Джуз 30 · Страница 591
إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ ١٣
Воистину, это - Слово различающее,
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 86:1–17
قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے رات کو نمودار ہونے والا؟(2)(وہ) ستارہ ہے چمکنے والا(3) نہیں کوئی نفس بھی مگر اس پر ہے ایک محافظ(4) پس چاہیے کہ دیکھے انسان کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ(5) پیدا کیا گیا ہے پانی اچھلنے والے سے(6) وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے(7) بلاشبہ وہ (اللہ) اس (انسان) کے لوٹانے پر قادر ہے(8) جس دن ظاہر کیے جائیں گے راز(9) تو نہ ہو گی اس کے لیے کوئی قوت اور نہ کوئی مدد گار (10) قسم ہے آسمان بار بار بارش لانے والے کی (11) اور زمین پھٹنے والی کی (12) بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ قول فیصل ہے (13) اور نہیں وہ ہنسی مذاق (14) بلاشبہ وہ (کافر) تدبیر کرتے ہیں ایک تدبیر (15) اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں ایک تدبیر (16) پس مہلت دیجیے کافروں کو مہلت دینا تھوڑی سی (17)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ﴾ ’’آسمان اور طارق کی قسم!‘‘پھر ﴿اَلطَّارِقُ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿النَّجۡمُ الثَّاقِبُ﴾ یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کر دیتی ہے، آر پار چھید بن جاتا ہے حتیٰ کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ’’زحل‘‘ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کر دیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو ﴿اَلطَّارِقُ﴾اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌ﴾ ’’ہر متنفس پر نگہبان مقرر ہے۔‘‘جو نفس کے اچھے برے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی جسے اس کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[7-5]﴿فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ﴾ یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے ﴿خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ﴾ ’’پیدا کیا گیاہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘ اس سے مراد منی ہے ﴿يَّخۡرُجُ مِنۢۡ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالـتَّرَآىِٕبِ﴾ ’’جو نکلتی ہے پیٹھ اور سینے کے بیچ سے۔‘‘اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ (یہ منی) مرد کی صلب سے اور عورت کے سینے یعنی اس کی چھاتی سے نکلتی ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اچھل کر نکلنے والی منی، جو کہ مرد کی منی ہے، اس کا مقام جہاں سے وہ نکلتی ہے، صلب اور سینے کے درمیان ہے۔شاید یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اچھل کر نکلنے والے پانی (یعنی منی) کا وصف بیان کیا ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے اچھل کر باہر نکلنے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ مرد کی منی ہے۔ اسی طرح ﴿الـتَّرَآىِٕبِ﴾کا لفظ مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ مرد کا سینہ بمنزلہ عورت کی چھاتیوں کے ہے اگر یہاں عورت مراد ہوتی تو کہا جاتا :(بَیْنَ الصُّلْبِ وَالثَّدْیَیْنِ )پیٹھ اور دونوں پستانوں کے درمیان وغیرہ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
[10-8] پس جس ہستی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی سے وجود بخشا جو اس مشکل مقام سے خارج ہوتا ہے، وہ آخرت میں اسے پیدائش کی طرف لوٹانے، قیامت، حشر و نشر اور جزا و سزا کے لیے اس کی تخلیق کا اعادہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اچھل کر نکلنے والے پانی کو واپس صلب میں لوٹانے پر قادر ہے۔ یہ معنی اگرچہ صحیح ہے، مگر آیت کریمہ سے یہ معنی مراد نہیں ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا:﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُ﴾ اس دن سینے کے بھید جانچے جائیں گے اور دلوں میں جو اچھائی یا برائی ہے وہ سب چہروں کے صفحات پر آشکارا ہو جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران:3؍106)’’جس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘دنیا کے اندر بہت سی چیزیں پوشیدہ رہتی تھیں اور لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیامت کے روز تو ابرار کی نیکی اور فاجروں کا فسق و فجور صاف ظاہر ہوں گے اور علانیہ امور بن جائیں گے۔﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ ﴾ یعنی اس کے پاس اپنی طاقت نہیں ہوگی جس کے ذریعے سے وہ مدافعت کر سکے ﴿ وَّلَا نَاصِرٍ ﴾ اور نہ خارج سے کوئی مددگار ہو گا جس سے مدد لے سکے۔ عمل کرنے والوں پر یہ قسم، ان کے عمل کرنے کے وقت اور ان کی جزا و سزا کے وقت ہے۔
[14-11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری قسم کھائی جو قرآن کی صحت پر ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ۰۰وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ﴾ ’’بارش والے آسمان کی قسم! اور پھٹنے والی زمین کی قسم!‘‘ یعنی آسمان ہر سال بارش لے کر لوٹتا ہے، زمین نباتات کے اگنے کے لیے شق ہوتی ہے، پس اس پر انسان اور حیوانات زندہ رہتے ہیں۔ نیز آسمان ہر وقت قضا و قدر اور شؤ ون الٰہیہ کے ساتھ لوٹتا ہے اور (قیامت کے روز)مردوں سے زمین شق ہوجائے گی۔﴿ اِنَّهٗ ﴾ بلاشبہ یہ قرآن کریم ﴿ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ﴾ حق اور صدق، بیّن اور واضح ہے ﴿ وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِ﴾ یہ بے ہودہ کلام نہیں بلکہ سنجیدہ کلام ہے، یہ ایسا کلام ہے جو مختلف گروہوں اور مختلف مقالات کے مابین فیصلہ کرتا ہے اور مختلف خصومات میں امتیازکر تا ہے۔
[17-15]﴿ اِنَّهُمۡ ﴾ یعنی رسولﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا﴾ ’’سازشیں کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِيۡدُ كَيۡدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الۡكٰفِرِيۡنَ اَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔
Страница 591
سورة الطارق
Ат-Тарик
Ночной путник · мекканская · 17 аятов
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
86:1
وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ ١
Клянусь небом и ночным путником!
86:2
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ٢
Откуда ты мог знать, что такое ночной путник?
86:3
ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ ٣
Это - звезда пронизывающая небеса своим светом.
86:4
إِن كُلُّ نَفۡسٖ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٞ ٤
Нет души, при которой не было бы хранителя.
86:5
فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ ٥
Пусть посмотрит человек, из чего он создан.
86:6
خُلِقَ مِن مَّآءٖ دَافِقٖ ٦
Он создан из изливающейся жидкости,
86:7
يَخۡرُجُ مِنۢ بَيۡنِ ٱلصُّلۡبِ وَٱلتَّرَآئِبِ ٧
которая выходит между чреслами и грудными костями.
86:8
إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرٞ ٨
Воистину, Он способен вернуть его.
86:9
يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ ٩
В тот день будут испытаны (или раскроются) тайны,
86:10
فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٖ وَلَا نَاصِرٖ ١٠
и тогда не будет у него ни силы, ни помощника.
86:11
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجۡعِ ١١
Клянусь небом возвращающим (возвращающим воду земле или возвращающим небесные тела, которые восходят с одной стороны и заходят в другой)!
86:12
وَٱلۡأَرۡضِ ذَاتِ ٱلصَّدۡعِ ١٢
Клянусь землей раскалываемой (при прорастании растений, или при выходе из земли воды, или при воскрешении мертвых)!
86:13
إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ ١٣
Воистину, это - Слово различающее,
86:14
وَمَا هُوَ بِٱلۡهَزۡلِ ١٤
а не шутка.
86:15
إِنَّهُمۡ يَكِيدُونَ كَيۡدٗا ١٥
Они замышляют козни,
86:16
وَأَكِيدُ كَيۡدٗا ١٦
и Я замышляю козни.
86:17
فَمَهِّلِ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدَۢا ١٧
Предоставь же неверующим отсрочку, помедли с ними недолго!
سورة الأعلى
Аль-Аля
Всевышний · мекканская · 19 аятов
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
87:1
سَبِّحِ ٱسۡمَ رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى ١
Славь имя Господа твоего Всевышнего,
87:2
ٱلَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ٢
Который сотворил все сущее и всему придал соразмерность,
87:3
وَٱلَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ ٣
Который предопределил судьбу творений и указал путь,
87:4
وَٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلۡمَرۡعَىٰ ٤
Который взрастил пастбища,
87:5
فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحۡوَىٰ ٥
а потом превратил их в темный сор.
87:6
سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ ٦
Мы позволим тебе прочесть Коран, и ты не забудешь ничего,
87:7
إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفَىٰ ٧
кроме того, что пожелает Аллах. Он знает явное и то, что сокрыто.
87:8
وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرَىٰ ٨
Мы облегчим тебе путь к легчайшему.
87:9
فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ ٩
Наставляй же людей, если напоминание принесет пользу.
87:10
سَيَذَّكَّرُ مَن يَخۡشَىٰ ١٠
Воспримет его тот, кто страшится,
87:11
وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلۡأَشۡقَى ١١
и уклонится от него самый несчастный,
87:12
ٱلَّذِي يَصۡلَى ٱلنَّارَ ٱلۡكُبۡرَىٰ ١٢
который войдет в Огонь величайший.
87:13
ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ ١٣
Не умрет он там и не будет жить.
87:14
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ١٤
Преуспел тот, кто очистился,
87:15
وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ ١٥
поминал имя своего Господа и совершал намаз.