Ат-Тавба 9:113
Покаяние · Джуз 11 · Страница 205
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ١١٣
Пророку и верующим не подобает просить прощения для многобожников, даже если они являются родственниками, после того, как им стало ясно, что они будут обитателями Ада.
Тафсир · на урду
Ас-Саади
Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.
Изменить
Комментарий к аятам 9:113–114
نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)
[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے سوا جو انھوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
Страница 205
9:112
ٱلتَّٰٓئِبُونَ ٱلۡعَٰبِدُونَ ٱلۡحَٰمِدُونَ ٱلسَّٰٓئِحُونَ ٱلرَّٰكِعُونَ ٱلسَّٰجِدُونَ ٱلۡأٓمِرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١١٢
Обрадуй верующих, которые каются и поклоняются, восхваляют и постятся (или путешествуют), кланяются и падают ниц, повелевают совершать одобряемое и запрещают предосудительное, и соблюдают ограничения Аллаха.
9:113
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ١١٣
Пророку и верующим не подобает просить прощения для многобожников, даже если они являются родственниками, после того, как им стало ясно, что они будут обитателями Ада.
9:114
وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوۡعِدَةٖ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوّٞ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنۡهُۚ إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٞ ١١٤
А молитва Ибрахима (Авраама) о прощении для его отца была всего лишь исполнением обещания, которое он ему дал. Когда же ему стало ясно, что его отец является врагом Аллаха, он отрекся от него. Воистину, Ибрахим (Авраам) был смиренным, выдержанным.
9:115
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ١١٥
Аллах не вводит в заблуждение людей, которым Он указал прямой путь, пока Он не разъяснит им, чего они должны опасаться. Воистину, Аллах знает о всякой вещи.
9:116
إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ ١١٦
Воистину, Аллаху принадлежит власть над небесами и землей. Он дарует жизнь и умерщвляет. Нет у вас, кроме Аллаха, ни покровителя, ни помощника.
9:117
لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلۡعُسۡرَةِ مِنۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّهُۥ بِهِمۡ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ ١١٧
Аллах принял покаяния Пророка, мухаджиров и ансаров, которые последовали за ним в трудный час, после того, как сердца некоторых из них чуть было не уклонились в сторону. Он принял их покаяния, ибо Он - Сострадательный, Милосердный.