An-Nasr 110:3
The Divine Support · Juz 30 · Page 603
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا ٣
Then exalt [Him] with praise of your Lord and ask forgiveness of Him. Indeed, He is ever Accepting of Repentance.1
1 translator’s note
- Refer to footnote of 2:37. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 110:1–3
جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح(1) اور آپ دیکھیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج(2) تو آپ تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور بخشش مانگیے اس سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہﷺ کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں:اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘
Page 603
سورة الكافرون
Al-Kafirun
The Disbelievers · Meccan · 6 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
109:1
قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ ١
Say, "O disbelievers,
109:2
لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ ٢
I do not worship what you worship.
109:3
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ ٣
Nor are you worshippers of what I worship.
109:4
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ مَّا عَبَدتُّمۡ ٤
Nor will I be a worshipper of what you worship.
109:5
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ ٥
Nor will you be worshippers of what I worship.
109:6
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ ٦
For you is your religion, and for me is my religion."
سورة النصر
An-Nasr
The Divine Support · Medinan · 3 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
110:1
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ ١
When the victory of Allāh has come and the conquest,1
1 translator’s note
- The conquest of Makkah. ↩
110:2
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا ٢
And you see the people entering into the religion of Allāh in multitudes,
110:3
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا ٣
Then exalt [Him] with praise of your Lord and ask forgiveness of Him. Indeed, He is ever Accepting of Repentance.1
1 translator’s note
- Refer to footnote of 2:37. ↩
سورة المسد
Al-Masad
The Palm Fiber · Meccan · 5 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
111:1
تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ ١
May the hands of Abū Lahab be ruined, and ruined is he.1
1 translator’s note
- Abū Lahab (the Prophet's uncle) , who was an enemy of Islām. ↩
111:2
مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ ٢
His wealth will not avail him or that which he gained.
111:3
سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ ٣
He will [enter to] burn in a Fire of [blazing] flame
111:4
وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ ٤
And his wife [as well] - the carrier of firewood.1
1 translator’s note
- She used to put thorns in the Prophet's path and slander him (ﷺ) . The word "firewood" was used by the Arabs to allude to slander and backbiting. ↩
111:5
فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ ٥
Around her neck is a rope of [twisted] fiber.